امریکہ میں مذہبی اداروں کا رجحان

نیویارک :میگزین رپورٹ.........
اعلیٰ تعلیم دینے کے مذہبی مدرسے جنہیں سیمینریز کہا جاتا ہے اور جہاں مذہب کے پروفیسر اور مذہبی رہنما طلبا کو مذہبی پیشوا بننے کی تربیت دیتے ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں صدیوں سے موجود ہیں۔ چونکہ ان مدرسوں کے طلبا کو بالعموم مذہبی رہنما بننے کی تربیت دی جاتی ہے جو بعد ازاں خود عبادت کے اجتماعات کا اہتمام کرتے ہیں اس لئے ان کی تعلیم گے چل کر ان طلبا کے سامعین پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔
سال ہا سال سے امریکی مدرسوں میں مذہبی تنوع کا مطلب یہ تھا کہ وہاں عیسائیت کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے طلبا کو داخلہ دیا جائے گا۔ تاہم بعد میں یہودیوں نے بھی نہ صرف ان مدرسوں میں شرکت شروع کر دی بلکہ کئی معتبر مدرسوں کی بنیاد بھی رکھی جن میں ہیبرو یونین کالج، تعمیرِ نو رہبانیت کالج اور یہودی الوہی مدرسہ قابلِ ذکر ہیں۔
ہارٹ فورڈ سیمینری (مدرسہ) میں قائم میک ڈونلڈ مرکز برائے مطالعہ اسلام کے علاوہ امریکہ میں محض چند مدرسے ایسے ہیں جنہوں نے اسلام کے مطالعہ کو توجہ کا مرکز بناتے ہوئے پروگرام تشکیل دیے ہیں۔ اس طرح تاریخی طور پر امریکہ کی مسلم آبادی کو انتہائی کم نمائندگی دی گئی ہے۔ تاہم پچھلے چند عشروں سے یہ رجحان تبدیل ہونے لگا ہے اور اب نہ صرف عیسائی اور یہودی اداروں میں اسلامیات کی تعلیم پر توجہ دی جارہی ہے بلکہ یہ خیال روز بروز زور پکڑ رہا ہے کہ امریکی مسلمانوں کے لئے بھی اپنا الگ مدرسہ قائم کرنے کا وقت آگیا ہے۔
مؤخر الذکر نکتے کے حوالے سے گزشتہ دو سال کے دوران امریکی مسلم کمیونٹی میں کافی سرگرمی اور اداروں کی تعمیر کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی پیش رفت 2009 میں زیتونا کالج کا قیام تھا جو پہلے زیتونا انسٹی ٹیوٹ تھا اور اسے مستقبل میں امریکہ میں انڈر گریجویٹ اور گریجویٹ مسلم طلبا کے لئے مکمل یونیورسٹی بنانے کے ارادے سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
گذشتہ دِنوں اکتوبر میں یہودی الوہی سیمینری، ہارٹ فورڈ سیمینری اور شمالی امریکہ کی اسلامی سوسائٹی (آئی ایس این اے، اِسنا) کے مشترکہ مالی تعاون سے ’’امریکہ میں یہودیت اور اسلام‘‘ کے عنوان سے ایک تاریخی بین العقائد ورکشاپ منعقد ہوئی جس میں ایک ایسا اسلامی مدرسہ قائم کرنے پر بھی گفتگو ہوئی جو صرف اماموں اور مسلم سکالرز کی تربیت کے لئے مخصوص ہو۔ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے میں شاید ابھی کئی برس لگ جائیں لیکن امریکی مسلمانوں کا الگ مدرسہ قائم کرنے کی بات پر نظر آنے والا جوش وخروش ایسے مسلم مذہبی پیشواؤں کو تربیت دینے کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو اُجاگر کرتا ہے جو روایتی مذہبی اقتباسات میں مہارت رکھنے کے علاوہ اس امریکی تناظر سے بھی پوری طرح واقف ہوں جس میں انہیں کام کرنا ہوگا۔
امریکی مسلم مذہبی پیشواؤں کو تربیت دینے کے ادارے پر بحث ہنوز جاری ہے لیکن دریں اثنا سارے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے الوہی اور گریجویٹ پروگراموں میں مسلم طلبا لازمی شرکا کے طور پر اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ درحقیقت مدرسوں میں مسلمانوں اور اسلامیات کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے نتیجے میں بہت سی نئی شراکتیں بھی وجود میں آئی ہیں۔
2008ء سے ہیبرو یونین کالج اور جنوبی کیلی فورنیا یونیورسٹی نے مرکز برائے یہود و مسلم مشغولیت قائم کرنے کے لئے لاس اینجلس میں مختلف مسلم تنظیموں کی مدد کے لئے کام کرنے والے فلاحی ادارے عمر ابن الخطّاب فاؤنڈیشن کے ساتھ اشتراکِ کار کیا تھا۔ یہ تینوں ادارے محسوس کرتے ہیں کہ اس مرکز کی کامیابی کے امکانات بہت روشن ہیں اور اس حوالے سے وہ مرکز میں مذہبی اقتباسات کے بین العقائد مطالعہ پروگرام کی کامیابی اور شمالی امریکہ اور یورپ میں اسلامیات کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ مسلم اکثریت والے ممالک میں یہودی علوم کے مطالعہ کو فروغ دینے کے لئے جاری کوششوں کی مثال پیش کرتے ہیں۔
دیگر مراکز مثلاً شکاگو کے لوتھرین الوہی سکول میں قائم مسلم عیسائی مشغولیت کا مرکز برائے امن و انصاف (ایم سی ای پی) اس سے بھی کہیں پہلے سے وجود میں آ چکے ہیں۔ ایم سی ای پی کی زیادہ توجہ خانقاہ سے فارغ التحصیل ہونے والے عیسائی طلبا کو اسلام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ باعلم ہونے کی ترغیب دینے پر ہے تاکہ مستقبل میں اپنے سارے کیریئر کے دوران وہ مسلم اداروں اور مذہبی پیشواؤں کے ساتھ مل کر کام کر سکیں۔
سب سے زیادہ قابلِ ذکر واقعہ اس سال کے اوائل میں کیا گیا اعلان تھا کہ جنوبی کیلی فورنیا کا کلیئر مونٹ الوہی سکول جو یونائیٹڈ میتھوڈسٹ چرچ کے ساتھ الحاق شْدہ ادارہ ہے، مذہبی پیشوا بننے کے خواہش مند یہودی اور مسلم طلبا کے لئے جامع پروگرام شروع کرنے والا ہے۔ یہ امریکی مسلمانوں کے لئے سند یافتہ امام بننے کا ایک راستہ ہے اور یہ دنیا کا واحد ادارہ ہے جو یہودی اور عیسائی مذہبی پیشواؤں کے لئے بھی اسی طرح کے پروگرام پیش کرتا ہے۔
اداروں کی سطح پر یہ تبدیلی بہت ٹھوس اور واضح ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ان مدرسوں میں ثقافتی تبدیلی بھی تیزی سے وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ جب میں نے پہلی بار اپنے رفقائے کار کے ساتھ امریکہ کے طول وعرض سے ابھرتے ہوئے سرکردہ مذہبی اور گروہی رہنماؤں کے لئے بلاگ سٹیٹ آف فارمیشن (stateofformation.org) بنانے کی بات کی تو بہت سے لوگوں کی طرف سے جو پہلا سوال سامنے آیا وہ یہ تھا کہ کیا اس کے لئے میں مسلم طلبا کو بھرتی کروں گا۔ پانچ سال پہلے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا تھا اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلم طلبا کو امریکی خانقاہوں میں برداشت نہیں بلکہ گرم جوشی سے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
مذہبی مدرسوں نے تاریخی حوالے سے امریکہ میں سماجی تبدیلی لانے کے لئے قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے موجودہ مقاصد میں سے ایک مقصد مسلمانوں کو امریکی معاشرے میں ضم کرانا ہے اور اس کا آغاز ان کے اپنے کمرہ جماعت سے ہوگا۔