گرفتار طلبا کو مرضی کے وکلاءتک رسائی دی جائے: پاکستانی لائرز کی تنظیم کا مطالبہ

لندن (آصف محمود سے) برطانیہ میں پاکستانی نژاد وکلائ\\\' ججوں اور بیرسٹروں کی تنظیم ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائرز نے حکومت برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ انسداد دہشت گردی آپریشن میں گرفتار ہونیوالے پاکستانی طلباءکو اپنے دفاع کیلئے یورپین کنونشن برائے انسانی حقوق 1950ءکے آرٹیکل 6(3)C کے تحت مرضی کے وکیل تک رسائی دی جائے۔ تنظیم کے چیئرمین اور سپریم کورٹ آف انگلینڈ اینڈ ویلز کے سینئر وکیل امجد ملک نے برطانوی وزیراعظم گورڈن براﺅن کے نام ایک خط میں یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ زیر حراست طلبہ کا دوران تفتیش متعلقہ میڈیکل آفیسر سے طبعی معائنہ کروایا جائے تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا جا رہا۔ یورپین کنونشن برائے انسانی حقوق اور ویانا کنونشن کے تحت ان طلباءکو پاکستانی ہائی کمیشن تک رسائی کے علاوہ زیر حراست طلباءکے والدین یا عزیز و اقارب کو ان تک رسائی دی جائے تاکہ وہ انکی خیریت دریافت کر سکیں۔ پاکستانی لائرز نے برطانوی وزیراعظم گورڈن براﺅن سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ان گرفتار طلبہ کو بنیادی انسانی حقوق کے تحت فری اینڈ فیئر ٹرائل کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ تنظیم نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا ہے پاکستان میں سابقہ ڈکٹیٹر کی حکومت جس کی تحت سینکڑوں پاکستانی افراد کو ڈالروں کے عوض امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے حوالے کرنے کے بعد یہ تشویش بڑھ گئی ہے کہ امریکہ میں ملٹری ٹرائل اور گوانتانامو بے میں واٹر بورڈنگ جیسے تشدد کے بعد برطانیہ میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کہیں پامال نہ ہو جائیں۔