غیر قانونی طور پر بیرون ممالک جانے والے تارکین وطن کے مسائل

نصراللہ چوہدری..........
آج اگر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اوورسیز پاکستانیوں نے اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے تو اس سفر کے دوران انہیں بے پناہ مشکلات مسائل کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس کی انہیں بہت بڑی قیمت چکانا پڑی۔ اچھے مستقبل کے لئے دیار غیر جانے والے پاکستانی 60 کی دہائی میں یورپ جانا شروع ہوئے۔ رات کی تاریکی میں سرحد عبور کرنے والے یہ پاکستانی اپنی جان کی بازی لگا کر ہر جائز ناجائز طریقے سے بیرون ممالک جاتے رہے۔ شروع میں بعض ممالک میں ویزہ کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے صرف انٹری ہوا کرتی تھی۔ تحصیل کھاریاں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کی تعداد میں لوگ بیرون ملک جاتے رہے پھر ٹریول ایجنٹوں کے ذریعے جانے لگے۔ ایجنٹوں نے جس تیزی سے لوگ بیرون ممالک بھجوائے، ایک لطیفہ بھی مشہور ہو گیا کہ امریکن ناسا کے لوگوں نے چاند پر ایک پاکستانی کو دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا اور اس کی چاند پر آمد کے بارے پوچھا تو اس نوجوان نے کہا کہ مجھے ایجنٹ یہاں چھوڑ گیا ہے۔ الغرض 80 سے 90 تک لوگوں کی بڑی تعداد نے یورپ کا رُخ کیا، نامساعد حالات اور باڈروں پر سخت پہرے کے باوجود نوجوان رات کی تاریکی میں سرحدیں عبور کرتے ہوئے اس آگ اور خون کے کھیل میں بے شمار نوجوانوں نے اپنی زندگی کی بازی ہار دی۔ یورپ کے حسین خواب آنکھوں میں سجائے یہ نوجوان باڈر پولیس کی گولیوں کا نشانہ بھی بنتے رہے لیکن نائن الیون کے واقعہ نے جس قدر نقصان ضلع گجرات کے لوگوںکو پہنچایا اس کی مثال نہیں ملتی۔ حصول معاش کے لئے جانے والے ان پاکستانیوں کو اب مختلف ممالک کی جیلوں میں دہشت گردی کے شبہ میں قید کیا گیا ہے اور ان پر جھوٹے مقدمے بنا کر انہیں سزائیں سنائی گئیں ہیں۔ بالغرض یہ لوگ ان حکومتی اہلکاروں سے بچ جائیں تو بُردہ فروشوں کے ہتھے چڑھ جائیں گے۔ ایران کے راستے جانے والے بے شمار پاکستانی ایسے لوگوں کے نجی عقوبت خانوں میں بند ہیں جن کے مالک پاکستان میں ان نوجوانوں کے لواحقین سے رابطہ کرکے لاکھوں روپے کا تاوان طلب کرتے ہیں اور اگر انہیں بر وقت پیسے مل جائیں توانہیں چھوڑ دیتے ہیں وگرنہ گولیوں سے ان نوجوانوں کو چھلنی کرکے پھینک دیتے ہیں جنگلوں میں ان کی نعشوں کو جنگلی درندے اپنی خوراک بنا لیتے ہیں۔ اب بھی ایران میں سینکڑوں نوجوان زندگی اور موت کی کشمکش میں اپنی زندگی گزار رہے ہیںاور پاکستانی حکومت خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہے۔ وزیر خارجہ، وزیر اعظم، صدر کو کبھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ ان لوگوں کو زندگی کی روشنی دے دیں اندھیری کوٹھریوں میں قید یہ پاکستانی اپنی قسمت پر ماتم کناں ہیں۔ اپنی زمین، جائیداد بیچ کر اور اپنی قسمت آزمانے کے لئے جانے والے پاکستانی مدد کے لئے پکار رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے اپنے لوگوں کو نہ صرف ان کے چنگل سے آزاد کروایا ہے بلکہ بیرون ملک مختلف جگہوں پر پکڑے جانے والے افراد کی بھرپور مدد بھی کرتے ہیں جبکہ ہمارے سفیر صاحبان شہزادوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں لیکن اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کرنے کے لئے تیار نہیں۔ پاکستان کی حکومت نے آج تک اپنے شہریوں کو چھڑانے کے لئے کوئی کام نہیں کیا جو سرحد عبور کرتے ہوئے دوسرے ممالک کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں تاہم ایک بات ضرور ہے کہ پاکستان کے مختلف ایئر پورٹ پر ایف آئی اے لاکھوں روپے لے کر بیرون ممالک جانے کا بندوبست ضرورکرتی ہے۔
غیر قانونی طریقے سے دوسرے ممالک میں جانے والے افراد کو پاکستان کی جیلوں میں قید رکھ کر ان سے بے شمار کام لئے جاتے ہیں۔ جیلوں کے اندر فیکٹریاں بنا کر ان لوگوں سے بطور سزا کام بھی لیا جاتا ہے۔ انہیں مار مار کر اپاہج بھی بنا دیا جاتا ہے یا انسانی سمگلر انہیں بیچ کر پیسے کمالیتے ہیں۔ کوئٹہ کے راستے واپس آنے والے پاکستانی اپنے ملک کے لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں‘ جو ان کی قیمت وصول کرکے ان کے لواحقین کو واپس کرتے ہیں۔ ملک کے بہت سے حصے علاقہ غیر بن چکے ہیں۔ لہذاحکومت کوچایئے کہ دنیا میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لئے ان لوگوں کے بارے میں کوئی لائحہ عمل اختیار کرے جو ان کی پالیسیوں سے تنگ آ کر بیرون ممالک کا رُخ کرتے ہیں۔