حج کے دوران خواتین کیلئے خصوصی ہدایات

بابو شفقت قریشی ۔ سہام..........
ہراس مسلمان عورت اورمرد پر حج فرض کیاگیا ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ مردوں کے لیے استطاعت دو طرح ہے جبکہ عورتوں کے لیے تین طرح سے ہوتی ہے ۔ مالی اور جسمانی استطاعت تو دونوں کے لیے شرط ہے البتہ محرم یا خاوند کا ساتھ ہونا عورتوں کے لیے تیسری شرط ہے یعنی ان میں سے اگر ان کے ساتھ کوئی نہ ہو تو نامحرموں کے ساتھ جانا خواہ مخواہ گناہ گار ہونے والی بات ہے۔ الحمداللہ آج کل تقریباً ایک لاکھ عازمین میں سے نصف کے قریب خواتین فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے ہر سال جاتی ہیں اور ان میں بھی اکثریت نوجوان خواتین کی ہوتی ہے ۔ مناسک حج وعمرہ کے بارے میں ہر عازم حج چاہے مرد ہو یا عورت جاننا ضروری ہوتا ہے ۔ تاہم نوجوان خواتین کو تقریباً ڈیڑھ ماہ کے اس عرصہ میں احرام ‘ حرم ‘ عمرہ ‘ سعی ایام حج اور زیارت مسجد نبویؐ کے سلسلے میں چند مخصوص مسائل سے دو چار ہونا قدرتی امر ہے۔ خاوند ہمسفر ہو تو کھل کر ہر قسم کی رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن دوسرے تمام محرموں کے سامنے نہ صرف مسائل بیان کرنا حجاب کی وجہ سے مشکل ہوتا ہے بلکہ ان کی موجودگی کے باعث ان پر عملدر آمد بھی ناممکن سا لگتا ہے ۔ حال ہی میں پہلی دفعہ مدنیۃ الحجاج اسلام آباد میں ڈائریکٹر حج نے صرف خواتین کو خواتین لیکچرار سے تربیت دلانے کا تجربہ کیا جو بے حد کامیاب ثابت ہوا ۔ راقم نے بطور لیڈی ماسٹر ٹرینر آزادانہ ماحول میں مسائل نوجوان خواتین کو بتائے اور ان کے سوالوں کے جوابات دے کر ان کو مطمئن بھی کیا ۔ جس طرح مردوں پر حج فرض کیا گیا ہے اسی طرح عورتوں پر بھی فرض کیا گیا اور استطاعت کے باوجود انکار کرنے والوں پر ناراضگی بھی ظاہر کی گئی ہے ۔ اس لیے عورتیں حج تمتع ہی کرنا پسند کرتی ہیں یہ تینوں کا احرام میقات سے یا اس سے پہلے باندھا جاتا ہے افراد کے لیے صرف حج کی نیت کرکے لبیک پڑھی جاتی ہے اس کے ساتھ عمرہ نہیں ملایا جاسکتا۔ احرام دس ذوالحجہ تک قائم رہتا ہے بڑے شیطان کو کنکریاں مار کر احرام کھل جاتا ہے قربانی واجب کے بجائے مستحب ہوتی ہے ۔ قرآن کا احرام بھی میقات سے یا پہلے باندھا جاتا ہے۔ عمرہ اور حج کی اکٹھی نیت کی جاتی ہے ۔ عمرہ کرنے کے بعد احرام نہیں کھولا جاتا اسی میں حج کرنا ہوتا ہے ۔ 10 ذوالحجہ کو قربانی کے بعد احرام کھلتا ہے ۔ حج تمتع کیلئے پہلے میقات سے یا اس سے پہلے ہی عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کی نیت اور تلبیہ پڑھا جاتا ہے۔ عمرہ ادا کرکے بال کٹوا کر احرام کھول کر سلا ہوا لباس پہنا جاسکتا ہے۔ پھر 8 ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھ کر اعمال حج پورے کئے جاتے ہیں اور 10 ذوالحجہ کو قربانی کے بعد احرام کھول کر سلا ہوا لباس پہنا جاتا ہے اور باقی اعمال بغیر احرام مکمل کئے جاتے ہیں۔
احرام کی حالت میں آنے سے پہلے پورے جسم کی صفائی کرنا پسندیدہ عمل ہے۔ گھر سے روانہ ہونے سے پہلے غسل یا وضو کرکے گھر پر دو نفل ادا کرکے اہل خانہ‘ عزیز واقارب کیلئے دعائیں کرنے کے علاوہ اپنے سفر حج اور مناسک حج وعمرہ میں آسانیوں اور بخیریت گھر واپسی کیلئے خصوصی دعائیں مانگیں ۔ اگر پاک صاف حالت میں نہ ہوں تو نفل ادا کئے بغیر ہر قسم کی دعائیں مانگی جاسکتی ہیں۔ وقت مکروہ ہو تو بھی نفل ادا نہ کریں۔ حج تمتع کرنا چاہیں تو اس کی ادائیگی دو حصوں میں ہوگی۔ پہلے عمرہ کرکے احرام کھول دینے اور پھر 8 ذوالحجہ کو احرام باندھ کر بال کٹوانے تک کے درمیانی مناسک حج احرام میں ادا کرنے اورباقی اپنے سلے ہوئے لباس میں کرنے کو حج تمتع کہتے ہیں۔ میقات سے بغیر احرام کے گزرنے سے دم دینا پڑتا ہے اور ہوائی جہاز میں سفر کے دوران میقات کا صحیح اندازہ بھی نہیں ہوسکتا اس لیے میقات سے پہلے ہی یعنی حاجی کیمپ سے یا ائیرپورٹ سے روانہ ہوتے وقت احرام کی حالت میںہونا چاہیے۔ مردوں کے لیے احرام کی دوران سلی چادریں ہوتی ہیں اور ان کو سلا ہوا کپڑا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی جبکہ عورتوں کے لیے علیحدہ چادروں کی ضرورت نہیں ہوتی ان کا سلا ہوا لباس ہی کافی ہوتا ہے ۔ مردوں کو بند جوتا پہننے کی حالت احرام میں اجازت نہیں جبکہ عورتوں کو اپنی پسند کی کھلی یا بند جوتی استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ بالوں پر رومال باندھ لینا چاہیے کہ سر کے بال نہ گریں اور نہ نظر آئیں۔ سہولت موجود ہو تو غسل بھی کرلیں ورنہ وضو ہی کافی ہے ۔ دو رکعت نماز نفل احرام پڑھیں ۔ اگر ناپاکی کی حالت میں ہوں یا وقت مکروہ ہو تونفل پڑھنے کی ضرورت نہیں صرف التحیات کی طرح قبلہ رخ بیٹھ جائیں۔ نیت اس طرح کریں یا اللہ تیری رضا کیلئے عمرہ کی نیت کرتی ہوں تو اسے آسان بنا دے اور قبول فرما۔ تلبیہ یعنی پورا لبیک اللھم لبیک تین دفعہ پڑھیں لیکن اتنی اونچی آواز میںپڑھیں کہ دوسرے کان میں آواز نہ پڑے۔ اس کے بعد چہرے پر کوئی دوپٹہ ‘ نقاب کسی طرح بھی نہ لگنے دیں ۔ بال نہ توڑیں ‘ خوشبو استعمال کریں ‘ ناخن نہ کاٹیں ‘ مہندی نہ لگائیں ‘ چوڑیاں وغیرہ پہن سکتی ہیں لیکن کانچ کی نہ پہنیں ٹوٹ کر لوگوںکے پاؤں زخمی کریں گی۔ پاک ہوں یا ناپاک دونوں صورتوں سے عربی دعائیں درود شریف اور تلبیہ بلا جھجک پڑھ سکتی ہیں۔ کلام پاک کی زبانی تلاوت کی بھی اجازت ہے ۔ خواتین مسجد الحرام میں داخل ہوکر آگے بڑھیں اور اللہ کے گھر دیکھتے وقت تین دفعہ اللہ اکبر لاالہ الااللہ پڑھیں ۔ جو چاہیں دعا مانگیں اورآگے بڑھیں۔ حجراسود کے قریب پہنچ کر لبیک کہنا بند کر دیں ۔ حجراسود کی سیدھ بتانے والی پٹی قریب بائیں جانب قبلہ رخ کھڑے ہوکر طواف کے سات چکروں کی نیت کریں ۔ نیت کے بعد دونوں پاؤں قبلہ رخ رہتے ہوئے ہی پٹی کے اوپررکھ کر کندھوں تک ہاتھ لیجا کر بسم اللہ اللہ اکبر واللہ الحمد پڑھ کر نیچے گرادیں دوبارہ ہتھیلیاں حجر اسود کی طرف کرکے چوم لیں‘ اورتیسرا کلمہ یا جو بھی یاد ہو پڑھتی ہوئی طواف شروع کر دیں ۔ مردوں کی طرح کندھے ہلاتے ہوئے یعنی رمل کرنے کی ضرورت نہیں ۔ مردوں میں گھس کر طواف کرنے کے بجائے باہر باہر کریں تاکہ مردوں میں غلط ملط نہ ہوں۔ مردوں کے ہجوم میں حجر اسود پرختم کریں اور ہتھیلیوں سے اشارے کرکے ان کو چوم لیں سات چکر اس طرز اور طریقہ پر لگا کر مرد نہ ہوں تو متزم سے لیٹ کر اگر ہوں تو دور سے ہی گڑگڑا کر دعائیں مانگیں ۔ اس کے بعد دو رکعت نماز واجب الطواف کے طورپر عین مقام ابراہیم کو درمیان میں رکھ کر اوراگر مردوں کا ہجوم ہو تو جہاں باآسانی جگہ ملے ادا کرلیں۔ آب زم زم واٹر کولروں سے یا تہہ خانے سے پی کر عمل‘ رزاق اور صحت کے لیے دعائیں مانگیں‘ خانہ کعبہ کودیکھ کر سعی کی نیت کریں تین مرتبہ اللہ اکبر ‘ اللہ اکبرپڑھ کر صفا سے مروہ کی طرف چوتھا کلمہ یا جو کچھ بھی یاد ہوپڑھتی ہوئی چلنا شروع کر دیں ایک سبز ستون سے ہمارے سبز ستون تک مرد دوڑیں عورتیں نہ دوڑیں اور اپنی عام رفتار سے چلیں۔ مروہ پر ایک پھیرا مکمل کرکے خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے تکبیر پہلے کی طرح پڑھیں ہاتھ اٹھا کر دعا کریں ۔ مروہ سے صفا تک وہی ہی عمل دہرائیں ۔ ساتواں پھیرا مروہ پر مکمل کرکے دونفل مسجد الحرام میں ادا کریں اور بالوں کی چوٹی سے آخری سرا پکڑ کر تقریباً ڈیڑھ انچ بال قینچی سے خود کاٹ دیں عمرہ مکمل ہونے کے بعد بہتر ہے قیام گاہ پرجاکر غسل وغیرہ کرکے لباس تبدیل کرلیں۔ ایسی خواتین جوناپاکی کے باعث حرم میں اس کے بعد مذکورہ طریقہ سے عمرہ مکمل کریں بعض اوقات مکہ مکرمہ پہنچنے کے دوسرے یا تیسرے دن معلم مدینہ شریف روانگی کابندوبست کر دیتے ہیں۔
ایسی حالت میں عمرہ ابھی بقایا ہوتا ہے۔ ایسی خواتین کو بغیر عمرہ کئے چلے جانا چاہئے۔ مدینہ شریف میں تین چار دن کے بعد جب فطری مجبوری ختم ہو جائے تو معمول کا غسل کرلیں۔ نمازیں مسجد نبوی کے اندر پڑھنی شروع کر دیں۔ احرام کی پابندیاں برقرار رکھیں۔ جتنی بھی نمازیں مسجد نبویﷺ میں ادا ہونگی۔ ان شاء اﷲ ثواب پوری چالیس کا ہی ملے گا۔ دل میلا نہ کریں۔ مکہ واپسی پر ذوالحلیفہ سے جب دوسری خواتین عمرہ کا تازہ احرام باندھیں تو وہ کچھ نہ کریں پہلے والے احرام سے ہی مکہ آ کر عمرہ مکمل کریں۔ پہلا عمرہ جو وہ نہ کر سکی تھیں اگر حج میں دن باقی ہوں تو مسجد عائشہؓ سے احرام باندھ کر کرلیں پھر حج سے فارغ ہو کرکر لیں۔ ایسے ہی اگر کوئی عورت کسی کی وجہ سے عمرہ نہ کر سکے اور 8 ذوالحجہ تک بھی اسے موقع نہ مل سکے تو بالوں میں کنگھی وغیرہ کرکے اسی احرام میں پہلے حج کرے اور بعد میں مسجد عائشہؓ سے عمرہ کا دوبارہ احرام باندھ کو عمرہ مکمل کرے۔ مکہ معظمہ میں قیام کے دوران جتنی بار چاہیں مسجد عائشہؓ سے احرام باندھ کو عمرہ کر سکتی ہیں۔ لیکن سعی کے بعد ہر بار تقریباً ڈیڑھ انچ بال کاٹنے پڑیں گے۔ بہتر ہے زیادہ سے زیادہ طواف کریں۔ طواف دن رات جس وقت چاہیں ہو سکتا ہے صرف نماز باجماعت کے وقت رک جاتا ہے عورتوں کیلئے علیحدہ باجماعت نماز پڑھنے کا انتظام ہوتا ہے۔ البتہ طواف مردوں کے ساتھ ملکرکرتی ہیں۔ حجر اسود کی طرف ہتھلیاں کرکے چوم لیں اور پہلے کی طرح سات چکر لگا کر دعا مانگ کر واجب الطواف کے دو نفل ادا کریں۔ اس طرح کرنے سے طواف مکمل ہو جائیگا۔ بعد میں فوری اسلام کرنے یا سعی کرنے کی نفلی طواف میں ضرورت نہیں رہتی۔
8 ذوالحجہ سے حج کے دن شروع ہوتے ہیں اور 13 ذوالحجہ کو ختم ہوتے۔ البتہ 12 ذوالحجہ کو واپس مکہ آنے کی اجازت ہوتی ہے احرام باندھے تلبیہ پڑھنے کا طریقہ تو وہی ہے جو عمرہ کا تھا۔ احرام کی پابندیاں بھی وہی ہیں جو عمرہ کے احرام میں تھیں۔ مکہ معظمہ میں قیام کے دوران حرم کی دو پابندیاں یہ ہیں کہ حرم کی حدود میں گھاس‘ درخت وغیرہ نہ کاٹیں اور جانوروں کو نہ چھڑیں۔ فجرکی نماز مسجد الحرام میں پڑھ کر منیٰ کیلئے روانہ ہونا چاہیے۔ لاکھوں کے ہجوم کی وجہ سے معلمین کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے حاجی بغیر رکاوٹ کے جتنا جلد ممکن ہو منیٰ میں پہنچا دیئے جائیں۔ چنانچہ وہ رات کو ہی بسوں کو روانہ کر دیتے ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ فجر کی نماز منیٰ میں بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ 8 ذوالحجہ کو فجر کی نماز سے پہلے ہی تیاری کرلیں۔ غسل وغیرہ کرکے حسب سابق بالوں پر رومال باندھ لیں۔ حج کی نیت کرنے کے لئے مسجد عائشہ تک جانا ضروری نہیں ہے اور نہ ہی حرم شریف میں جانے کی ضرورت ہے۔ حائضہ خواتین بھی غسل ضرور کریں البتہ نفل نہ پڑھیں باقی طریقہ ایک جیسا ہے۔ بہتر ہے اپنی قیام گاہ پر ہی دو رکعت نماز نفل احرام پڑھیں۔ سلام پھیر کر یوں کہیں یا اﷲ! میں تیری رضا کے لئے حج کی نیت کرتی ہیں تو اسے میرے لئے آسان بنا دے اور قبول فرما۔ اس کے بعد تین مرتبہ پورا لبیک اللھم لبیک پڑھیں آواز اتنی اونچی ہو کہ خود سن سکیں۔ البتہ مرد اگر قریب نہ ہوں تو آواز بلند بھی پڑھ سکتی ہیں۔ درود شریف پڑھیں۔ عربی یا اپنی مادری زبان میں دعائیں مانگیں۔ احرام کی پابندیوں کے ساتھ منیٰ پہنچ کر ظہر سے شروع کرکے دوسرے دن فجر تک پانچ نمازیں پڑھیں۔ رات منیٰ کے خیموں میں قیام کریں۔ حائضہ خواتین نماز نہ پڑھیں قرآن پاک ہاتھ میں اٹھائیں باقی افعال اسی طرح کریںجس طرح پاک صاف عورتیں کرینگی۔ درود شریف عرب دعائیں اور تلبیہ بھی پڑھ سکتی ہیں۔ وضو کرتے وقت سر کے بالوں کا مسح رومال ہٹا کر کریں۔ 9 ذوالحجہ کو بسوں کے ذریعہ عرفات میں پہنچ کر اپنے خیموں میں قیام کریں۔ دنیاوی باتوں کے بجائے توبہ استغفار اور دعاؤں میں وقت صرف کریں۔ ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھ چکنے کے بعد سورج غروب ہونے تک خوب گڑگڑا کر دعائیں مانگیں اسے وقوف عرفات کہتے ہیں۔ ناپاکی والی خواتین صرف نماز نہ پڑھیں باقی ہر طرح سے عبادت کرسکتی ہیں۔ مغرب کی نماز عرفات میں ہرگز نہ پڑھیں۔9 ذوالحجہ اور 10 ذوالحجہ کی درمیان رات مزدلفہ میں گزارنا ہوگی۔ مزدلفہ پہنچ کر پہلے مغرب کے فرض پھر عشاء کے فرض ‘ پہلے مغرب کی سنتیں پھر عشاء کی سنتیں اور پھر وتر وغیرہ پڑھیں۔ موٹے چنے کے برابر ستر کنکریاںچن کر تھیلی میں ڈال لیں ‘ کچھ نیند اور آرام کریں اور کچھ وقت عبادت میں بھی گزاریں۔ فجرکی نماز مزدلفہ میں پڑھ کر اﷲ کی حمد و ثناء بیان کر کے دعائیںمانگیں اور گڑگڑا کر توبہ استغفار کریں۔ اسے وقوف مزدلفہ کہتے ہیں جو حج کا ایک واجب ہے۔ اگرکوئی خاتون غلطی سے یا اپنی مرضی سے فجرکی نماز تک مزدلفہ میں نہ ٹھہر سکے اور بغیر وقوف مزدلفہ کے منیٰ پہنچ جاے تو اس پر کوئی دم نہ ہوگا جبکہ مردوں پر ایسا کرنے سے دم واجب ہو جاتا ہے۔ عورتوں کے لئے وقوف مزدلفہ واجب نہیں ہے۔ 10 ذوالحجہ کو منیٰ پہنچ کر اپنے محرم یا خاون کے ساتھ بڑے شیطان کو سات کنکریاں ایک ایک کر کے ماریں ہر کنکری مارتے وقت بسم اﷲ اکبرپڑھیں۔ تندرست عورتوں کو اپنی کنکریاں خود مارنے کا حکم ہے۔ مردوں کے لئے وقت کی پابندی ضروری ہے البتہ عورتیں ہجوم کے باعث دن کو نہ مارنا چاہیں تو رات کو بھی مار سکتی ہیں۔ طواف کا طریقہ وہی ہے جو عمرہ کے طواف کا تھا اگرجگہ نیچے نہ ملے یقیناً نہیں ملے گی تو اوپر کی دو چھتوں پر بھی طواف زیارت کرسکتی ہیں۔ حجراسود کی سیدھ بتانے کے لئے اوپر کی منزلوں پر بھی نشان لگے ہوئے ہیں۔ اس طرح سعی بھی اوپر کی دو منزلوں پر ہوسکتی ہے۔ سعی کے بعد بال نہ کاٹیں ۔ حائضہ خواتین طواف زیارت موخر کر دیں باقی تمام افعال ترتیب وار کرتی رہیں اور جب پاک ہو جائیں تو بغیر کوئی جرمانہ ادا کئے طواف زیارت کرسکتی ہیں۔ چاہیے واپسی پر پہلی پرواز ہو تو بھی پرواز تبدیل کرالیں اور طواف زیارت ہرگزہرگز نہ
چھوڑکر نہ آئیں۔ واپس منیٰ پہنچ کر خیموں میں قیام کریں۔11 اور12 ذوالحجہ زوال کے بعد پہلے چھوٹے‘ پھر درمیانے اور آخر میں بڑے شیطان کو سات سات کل21-21 کنکریاں ماریں یعنی دونوں میں کل42 کنکریاں ماریں۔ زوال سے پہلے مارنے کی اجازت ہرگز نہیں البتہ عورتیں رات کو بھی مارسکتی ہیں۔ 12 ذوالحجہ کو فارغ ہو کر مکہ آجائیں۔ مدینہ منورہ جائیں یا وطن واپسی کے جدہ جائیں مکہ چھوڑتے وقت طواف کریں۔ یہ طواف بھی نفلی طواف کی طرح ہی ہوگا اس کے بعد سعی نہیں ہوگی اور نہ احرام کی ضرورت ہوگی۔ خواتین اگر اس وقت پاک حالت میں نہ ہوں تو بغیر طواف ودرع کے بھی مکہ چھوڑ سکتی ہیں۔ یہ واجب ان سے ساقط ہو جائیگا ۔ مدینہ منورہ میں 8 دنوں میں 40 نمازیں مسجد نبوی میں باجماعت پڑھیں۔ درود و سلام بکثرت پیش کریں۔ گھر پہنچ کر شکرانہ کے دونفل پڑھیں۔ حج کی قبولیت کی دعا مانگیں۔