برطانوی پارلیمنٹ کی سات سو سالہ تاریخ میں پہلی خاتون وزیراعظم

مکتوب الرس ۔۔۔ محمد الیاس چڈھر
مار گریٹ تھیچر برطانیہ کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں اور اپنی قوم کی تاریخ کی دوسری سب سے طویل عرصہ تک حکومت کرنے والی وزیراعظم بنیں کسی بھی بڑے مغربی جمہوری ملک کی خاتون سربراہ بننے کا اعزاز بھی انہیںہی حاصل ہوا۔ وہ ونسٹن چرچل کے بعد مشہور ترین انگلش سیاست دان تھیں۔ ان کے نام سے ایک سیاسی فلسفہ ’’ تھیچر ازم‘‘ بھی منسوب ہے۔ رجعت پسندوں نے اس نظا م کو بہت سراہا لیکن بائیں بازو نے اس کی شدید مخالفت کی کیونکہ اس نے بعد از جنگ کی ویلفیئر سٹیٹ کی جگہ اگلی صدی کیلئے برطانیہ کے سیاسی نظام کو نئے سرے سے تشکیل کرنے کی کوشش کی تھی۔ مارگریٹ تھیچر کا اصل نام مارگریٹ ہلڈارابرٹس تھا۔ وہ انگلینڈ کے مڈلینڈز میں گرانتھم نامی چھوٹے سے قصبے میںپیدا ہوئی۔ اس کا باپ الفریڈ پرچون فروش تھا۔ مارگریٹ، اس کی بہنMuriel اور ماں پر مشتمل گھرانہ دکان کے اوپر بنی رہائش منزل میں رہتا تھا۔ الفریڈ نے خود بھی تعلیم حاصل کی اور اس کے علاوہ عوامی خدمت کو بھی اہمیت دیتا تھا۔ مارگریٹ کو سیاسی ذوق اپنے باپ سے ہی ورثہ میں ملا۔ الفریڈ نے ٹائون کونسل میں نائب رئیس بلدیہ اور مئیر کے طورپر خدمات انجام دیں۔ زمانہ طالب علمی میں مارگریٹ تھیچر محنتی اور با ہمت تھی۔1944ء میں وہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخل ہوئی جہاں کیمسٹری پڑھی تاکہ گریجوایشن کے بعد کیرئیر کو یقینی بنا سکے۔ وہ کافی اچھی کیمسٹ(کیمیا دان) تھی۔ آکسفورڈ میں ’’ کنزریٹو ایسوسی ایشن‘‘ اس کی من پسند تھی۔ وہ یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی اس میں شامل ہوگئی اور انجام کار اس کی صدر بنی۔1947ء میں گریجوایشن کرنے کے بعد وہ بطورکیمیا دان کام کرنے لگی اور مقامی کنزرویٹو پارٹی کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے لگی۔1950ء میں اس نے لیبر پارٹی کی جانب غالب رجحان رکھنے والے ایک علاقے سے پارلیمنٹ کا انتخاب لڑا اور ہار گئی۔البتہ کنزرویٹو پارٹی کے عہدیدار اس کی توانائی اور تقریر بازی کی صلاحیت سے کافی متاثر ہوئے۔ مہم کے دوران ان کی ملاقات ایک ممتاز کاروباری شخص ڈینس تھیچر سے ہوئی اور1951ء میں اس سے شادی کرلی۔1953 میں وہ جڑواں بچوں… ایک لڑکا اور ایک لڑکی کی ماں بنیں اور ٹیکس وپیٹنٹ لاء میں خصوصی مہارت کے ساتھ بیرسٹر کے طورپر کوالیفائی کرلیا۔ وہ 1959ء تک لاء کی پریکٹس کرتی رہیں اور پھر لندن کی ایک امیر نواحی آبادیFinchileyسے ’’ ہائوس آف کامنز‘‘ میں نشست جیتنے میں کامیاب ہو گئیں۔ کنزرویٹو پارٹی میں تھیچر درجہ بدرجہ اوپر آئی۔ وہ 1962ء میں’’ منسٹری آف پینشنز اینڈ نیشنل انشورنس‘‘ میں جونئیر وزیر تعینات ہوئی اور دو سال بعد ترقی کرکے سینئر پارٹی رہنمائوں کے فرنٹ بنچ کے جونیئر بیک بنچ میں شامل ہوگئی۔1970 میں جب ایڈورڈ ہیتھ وزیراعظم منتخب ہوا اور کنزرویٹو پارٹی چھ سال بعد دوبارہ اقتدار میں آگئی تو تھیچر کو وزیر برائے تعلیم و سائنس نامزد کیا گیا۔ وہ ہیتھ کی کابینہ میں شامل واحد خاتون تھی۔ تھیچر نے تعلیمی پالیسی میں زیادہ علاقائی خود مختاری کیلئے کام کیا۔ اور سرکاری اخراجات کی مخالفت ہونے کے باوجود تعلیم کا بجٹ بڑھایا۔ 1974 میں ہیتھ کی حکومت کوشکست ہوئی کیونکہ وہ طاقت ور لیبر یونینز سے نمٹ سکی اور نہ ہی 1973 ء کے توانائی کے بحران کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی دبائو کو دور کر پائی۔ تھیچر کو یقین تھا کہ کنزرویٹو کو اب ایک آزاد معیشت پر بھروسہ نہیں رہا تھا اور حکومتی اختیارات اور اخراجات میں کمی لانے کی ضرورت تھی۔1975ء میں وہ کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کیلئے میدان میں آئی اور کامیاب رہی۔ یوں وہ انگلش پارلیمنٹ کی سات سو سالہ تاریخ میں ایک بڑی سیاسی جماعت کی پہلی خاتون رہنما بن گئی۔1979ء میں مارگریٹ تھیچر نے لیبر پارٹی کی جیمبزCallahanحکومت کے خلاف عدم اعتماد تحریک کامیابی کے ساتھ منظور کروائی اور عام انتخابات کوممکن بنایا۔ انتخابی مہم کی تیاری کرنے کے دوران اس نے کہا تھا، مجھ میں زبردست توانائی اور ہمت ہے۔ میں کسی کام کے پیچھے پڑ جانے اور سب کے پیچھے ہٹ جانے کے باوجود اسے پورا کرنے کی عورتوں کی خوبی رکھتی ہوں’’ لیبر پارٹی کے حالات جوں کا توں رکھنے کے پروگرام کے مقابلے میں کنزرویٹو پارٹی نے تبدیلی پر مبنی پروگرام پیش کیا۔ تھیچر نے افراط زر سے نمٹنے کا وعدہ کیا۔ اس دور کے انگلینڈ میں شرح افراط زر کسی بھی اور یورپی ملک سے زیادہ تھی۔ اس کے علاوہ اس نے 13لاکھ بے روزگاروں کو ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا اور زور دیا کہ صرف ٹیکس میں کمی اور ٹریڈ یونینز کی طاقت کو ختم کرنے کے ذریعے ہی ہماری بڑھوتری ممکن ہے۔ تھیچر نے اعلان کیا کہ ایک سوشلسٹ ریاست بننے کی جانب رجحان جلد ہی الٹا دیاجائے گا۔ اگر ہم نے اپنے طور طریقے اور سمت درست نہ کی تو بطور قوم ہماری عظمت تاریخ کی کتابوں میں محض ایک حاشیہ بن کر رہ جائے گی۔ کنزریٹو اور تھیچر نے زبردست فتح حاصل کی۔ امور خارجہ میں روسیوں نے تھیچر کو اس کی واشگاف کمیونزم مخالفت کی وجہ سے ’’ آہنی خاتون‘‘ کہا ، مگر وہ میخائل گوربا چوف کی شروع سے ہی حمایت تھی، اور کہا کہ’’ ہم مل کر کام کرسکتے ہیں‘‘1982ء میں اس نے ارجنٹائین سے فاک جزائر واپس لینے کیلئے ایک کامیاب فوجی مہم جوئی کی۔ ارجنٹائن کی جانب سے پسپائی کااعلان ہونے پر اس نے کہا، آج برطانیہ کی عظمت واپس مل گئی ہے۔1985ء میں اس نے آئرلینڈ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت اسے شمالی آئرلینڈ کی حکومت میں مشاورتی کردار حاصل ہوگیا۔ مارگریٹ تھیچر صدر ونالڈریگن کی قریبی اتحادی تھی اور 1986 میں لیبیا پر بم باری کیلئے امریکہ کو برطانوی ہوائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی۔ اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے لبرل پارٹی کے رہنما ڈینس ہیلی نے کہا:’’ تھیچر نے برطانوی بل ڈاگ کوریگنی Poodle میں تبدیل کردیا ہے۔ سماجی بہبود کے شعبے میں تھیچر کا ریکارڈ مسلسل کمزور رہا۔ نقادوں نے اسے برطانیہ کے غربا سے لاپرواہ قرار دیا۔1981ء میں لندن کی اقتصادی اعتبار سے بد حال آبادی برکسٹن اور دوسری جگہوں پر فسادات کے جواب میں اس نے گڑ بڑ کی اصل وجہ دور کرنے کے بجائے مزید پولیس فورس بلالی۔ بلدیاتی حکومت کے اخراجات پورے کرنے کی غرض سے ایک پول ٹیکس لگانے پر تھیچر کے اصرار نے فسادات شروع کرادئیے اور 1990ء میں اس کے اقتدار کی عمارت ڈگمگانے لگی۔ آخر کار اس نے استعفیٰ دے دیا۔ مارگریٹ تھیچر نے اپنے دور اقتدارمیں آہنی عزائم کا مظاہرہ کیا۔ اس نے اپوزیشن کے ساتھ زبردست سیاسی بحثیں کیں اور بالعموم غیر عوامی نکتہ نظر اپنایا۔ تھیچر کے اثرات، تھیچری انقلاب کی کامیابی یا ناکامی میں مضمر ہیں اس نے ثابت کردیا کہ کوئی عورت بھی ایک بڑی عالمی طاقت کی قیادت کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔