تاجر دوست یا عوام دوست بجٹ؟

صحافی  |  طاہر منیر طاہر
تاجر دوست یا عوام دوست بجٹ؟

 بجٹ جب بھی آتا ہے عوام پر بجلی بن کر گرتا ہے۔ حکومت اپنے تیار کردہ  بجٹ کو ہمیشہ عوام دوست بجٹ  قرار دیتی ہے۔بجٹ  نہ صرف پاکستان میں اہل پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ بیرون ملک  بسلسلہ روزگار مقیم  پاکستانیوں  پر بھی اثرپڑتا ہے۔ یہ کم آمدنی والوں اور تنخواہ دار لوگوں پر اثراندازہوتا ہے جبکہ سرمایہ دار ہمیشہ فائدے میں رہتے ہیں بجٹ غریب لوگوں کے لئے پریشانیاں جبکہ تاجر طبقہ کے لئے خوشیاں لاتا  ہے  کیوں کہ بجٹ میں قیمتیں بڑھنے والا سامان انہوں  نے پہلے ہی سٹاک کر لیا ہوتا ہے۔ بیرون  ملک مقیم پاکستانی بجٹ سے کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔  آئیے کچھ لوگوں  سے بات کر کے دیکھتے ہیں اکبر جمیل باجوہ گذشتہ 30  سال سے متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں اور پاکستان میں اپنے خاندان کی کفالت کی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں تو تنخواہوں میں سالہاسال  نہیں بڑھتیں  جبکہ پاکستان میں مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے  اور بجٹ تو غریب عوام پر ایک بم کی طرح گرتا  ہے۔  بجٹ پاکستان میں آتا  ہے جبکہ بیرون  ملک  اثر ہماری جیبوں پر پڑتا ہے  کیوں کہ ہر ماہ خرچہ  ہمیں  بھجوانا ہوتا ہے۔ اس بار بھی بجٹ ہم پر گراں گزرا  ہے جسے عوام دوست بجٹ نہیں کہا جا سکتا۔
پاکستان مسلم لیگ  (ن) مڈل ایسٹ کے صدر چودھری مڈل ایسٹ کے صدر چودھری نور الحسن تنویر سے جب بجٹ کے بارے رائے جاننے کے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بذریعہ  ٹیکسٹ پر لکھا کہ Balance Budjet یعنی بجٹ متوازن ہے۔
متحدہ عرب امارات میں پاکستان  پیپلزپارٹی کے دو سینئر راہنمائوں چودھری محمد شکیل  نے کہا کہ  ہر بجٹ ہمیشہ روز مرہ  کی اشیاء پر اثر انداز ہوتا ہے۔  جس سے گھریلو بجٹ  متاثر ہو جاتا ہے اور اسے بیلنس  رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر حکومت روز مرہ  کے استعمال کی اشیائے  خورد و نوش  کی قیمتیں نہ بڑھائے تو معاملات  جیسے تیسے چل جاتے ہیں لیکن بجٹ کے بعد تاجر اپنی  مرضی سے جو قیمتیں بڑھا دیتے ہیں جس سے گھر کا سارا  نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔  شیریں درانی نے کہا  کہ میری نظر میں حالیہ بجٹ عام لوگوں کے لئے بوجھ ہے۔ پی ایم ایل این لاہور کی ورکر شمع بٹ نے کہا کہ  حکومت نے بجٹ میں عام اشیاء کی قیمتوں  کو بڑھنے نہیں دیا جس سے  لوگوں کی جیب پر کوئی بوجھ نہیں  پڑے گا۔ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ بجٹ بے شمار  مسائل کے باوجود  انتہائی متوازن دیا گیا  ہے جس پر عام آدمی پر بوجھ نہیں  پڑا بلکہ ریلیف ملا ہے۔  پی ایم ایل این  متحدہ عرب امارات کے راہنما ملک دوست محمد اعوان نے کہا کہ  بجٹ میں حکومت پاکستان کی تعمیر و ترقی کا خاص خیال رکھا  ہے۔ بہت سے منصوبوں کی تکمیل کے لئے خاص  رقم رکھی ہے جن میں بجلی اور کراچی لاہور۔  موٹروے کے منصوبوں  کو اولیت دی گئی ہے۔  انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان  کو ترقی کی راہ  پر گامزن دیکھنا  ہے تو حکومت  کا ساتھ دینا  ہے۔ بجٹ کو خوش دلی سے قبول  کرنا ہے ملک دوست محمد اعوان نے کہا  کہ بجٹ ہر لحاظ مکمل اور جامع   ہے جس میں سب کا خیال رکھا گیا  ہے  جن میں تنخواہ دار طبقہ   اور پنشنر شامل ہیں حکومت واقعی پاکستان کے عوام  کے لئے مثبت کام کر رہی ہے جس کا ثبوت حالیہ متوازن  بجٹ ہے۔ متحدہ  عرب امارات میں مقیم پاکستانی بزنس مین جمیل اسحاق اور پاکستان سوشل سنٹر شارجہ کے صدر چودھری خالد حسین آف سدووال نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے  ہیں۔ پاکستان میں جب بھی کوئی آفت آتی  ہے  تو بیرون ملک پاکستانی ہر ممکن حکومت پاکستان اور اہل وطن کی مدد  کے لئے آگے آ جاتے ہیں ۔پاکستان سے اچھی خبر آئے تو بیرون  ملک پاکستانیوں  کے چہرے خوشی سے کِھل اٹھتے  ہیں جبکہ کوئی پریشان  کن خبر بیرون ملک  مقیم پاکستانیوں  کو سوگوار کر جاتی ہے۔  حالیہ بجٹ کو اگر  مثبت انداز میں غور سے  دیکھا جائے۔ تو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے  بہترین بجٹ  ہے  جس میں ایک عام آدمی  کے مسائل کا پورا پوراخیال رکھا  گیا ہے۔
دوبئی میں جاب کرنے والی ایک خاتون رانی درانی نے کہا کہ بجٹ آتے  ہی پاکستان میں اخراجات  بڑھ جاتے ہیں جس کا اثر براہ راست  بیرون ملک  ہم پر پڑتا ہے کیوں کہ ماہانہ خرچہ  ہمیں بھجوانا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  مہنگائی بڑھتی ہے اور ہر ماہ یہاں ہمارا بجٹ متاثر ہو جاتا ہے۔ بیرون ملک یہاں ہماری تنخواہیں بڑھتی  نہیں ہیں لیکن  جیسے تیسے پاکستان  میں اہل خانہ کو روز مرہ کے اخراجات  کے لئے رقم باقاعدہ بھجوانا  پڑتی ہے۔ بجٹ ابھی آیا  ہی ہے اور ہمیں فکر لگ گئی  ہے کہ اخراجات بڑھیں گے۔ حکومت چاہے جتنا بھی عوام دوست بجٹ بنائے یا کہے  وہ ہوتا عوام  پر بوجھ  ہی ہے۔   یہ بجٹ بھی عوام پر گراں گزرتا  ہی لگتا ہے  آزاد علی تبسم شارجہ  کے پاکستانی بزنس مین جو حلقہ پی پی 51 سے بطور ایم پی اے منتخب ہوئے ہی ان کا کہنا ہے کہ سابقہ جتنی بھی حکومتیں آئیں  ہیں ایسا متوازن بجٹ کسی نے نہیں دیا جس میں عام آدمی خاص خیال رکھا  گیا ہو۔ آزاد علی تبسم نے کہا کہ مہنگائی  کی تو اب ایک بین الاقوامی مسئلہ  ہے کچھ اشیاء کی قیمتیں  بین الاقوامی طور پر  بڑھتی ہیں جس کااثر اندرون پاکستان پر بھی پڑتا ہے۔  جسے خوش دلی سے قبول کرنا چاہئے  تاہم مسلم لیگ  (ن)  کی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے وہ مثالی ہے جس میں پاکستان کی تعمیر  و ترقی کے ساتھ ساتھ عام آدمی کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ اس بجٹ کے مثبت اثرات آئندہ چند ماہ  میں ہوں گے جب پاکستان ترقی کی شاہراہ  پر گامزن ہو گا اور پاکستان میں خوشحالی آئے گی۔ انشاء اللہ