پاکستان قرأت و نعت کونسل کے زیراہتمام عظیم الشان محفل

 پاکستان قرأت و نعت کونسل کے  زیراہتمام عظیم الشان محفل

 شب معراج پر ایمان ہمارے دین کا حصہ ہے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں نیک کاموں کی توفیق عطا فرمائے، برے کاموں سے دور رکھے
کویت میں مقیم ہر عمر کے لوگ حمد ونعت پیش کرتے ہیں جو بھی اس کاوش میں مدد کر رہے ہیں اللہ انہیں مزید توفیق عطا فرمائے۔محمد عارف بٹ
امت مسلمہ کو معراج کے دوران نماز کا تحفہ ملاہے ہمیں اس تحفہ کی قدر کرنی چاہیے۔علامہ مشتاق قادری
تقریب کے  آخر میں درودوسلام پیش کیا گیا جبکہ دعا کے بعد تقریب اختتام پذیر ہوئی اور شرکاء کیلئے طعام کا بھی انتظام کیا گیا
 چاند تارے ہی کیا دیکھتے رہ گئے
اُن کو ارض و سماں دیکھتے رہ گئے
درود اس نبی پر کہ جس نے مسلماں بنایا
 عبدالعزیز قاسم، نے خوبصورت نعت پیش کرکے داد وصول کی کویت میں معراج النبیؐ کے موقع پر محفل29  مئی کی شب پاکستان قرات و نعت کونسل کے زیراہتمام پاکستان انگلش اسکول و کالج جلیب الشیوخ میں منعقد ہوا، تقریب کی اسپانسرشب کا اعزاز پاکستان بزنس کونسل نے حاصل کیا، ابتدائی حصہ کی کمپیئرنگ کے فرائض محمد افضل شافعی نے انجام دئیے، انہوں نے مہمان خصوصی حسن وزیر،چارج ڈی افئرز سفارت خانہ پاکستان، محمد عارف بٹ صدر محفل و صدر پاکستان بزنس کونسل حافظ محمد شبیر صدر اوورسیز پاکستانیز ایڈوائزری کونسل، شہزاد احمد صدر پاکستان قرأت و نعت کونسل اور عدنان عادل، فاؤنڈنگ ممبر قرأت و نعت کونسل کو، اسٹیج پر تشریف لانے کی دعوت دی۔ محمد افضل شافعی نے ابتدائی کلمات میں کہا کہ قرأت و نعت کونسل کے قیام کا مقصد صرف محافل کا انعقاد نہیں بلکہ فن قرأت و نظامات کو نئی نسل تک منتقل کرنا ہے، استاتذہ کرام بچوں کو تربیت دے رہے ہیں، ان میں سیتین شاگردوں کو اسٹیج پر بلائیں گے جو پہلی بار اسٹیج پر آرہے ہیں، انہوں نے پروگرام کے اگلے حصہ کی کمپیئرنگ کیلئے ایک کمسن نقیب علی رضا کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی، وہ پہلی مرتبہ نقابت کے فرائض انجام دے رہے تھے مگر اُن کی خوداعتمادی، روشن مستقبل کی نوید دے رہی تھی۔ تلاوت قرآن کریم کیلئے کمسن قاری عبداللہ محمد کو دعوت دی گئی جنہوں نے  سماں باندھ دیا، علی رضا نے حمد پیش کی۔
حمد اس خدا کی جس نے انساں کو بنایا
ہے عرش پہ اعلان کہ معراج کی شب ہے
خالق کا ہے فرماں کہ معراج کی شب ہے
نظامت ایک مرتبہ پھر افضل شافعی کے حوالہ کر دی گئی، انہوں نے کونسل کے فاؤنڈنگ ممبر محمد عرفان عادل کو اظہار خیال کی دعوت دی، انہوں نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کو سکھانے والا کوئی نہیں، مناسب سمجھا کہ اچھے نقیب اور نعت خواں تیار کئے جائیں۔ ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کیلئے پروگرام تیار کر لیا ہے، 15 خواتین پر مشتمل ٹیم کام کر رہی ہے چارکلاسز کا اجراء کیا گیا ہے۔ ماہانہ خواتین کی مرکزی محفل منعقد ہو گی جس میں اسلامی مہینوں کی اہمیت بیان کی جائے گی، بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانا چاہتے ہیں،آج کی محفل کے حوالہ سے وہ عارف بٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور شہزاد احمد کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتے ہیں۔ پاکستان قرأت و نعت کونسل کے سرپرست اعلیٰ محمد عارف بٹ کو دعوت خطاب دی گئی، انہوں نے کہا کہ وہ کمیونٹی کے ادنیٰ سے خادم ہیں، وہ 36 سال پہلے یہی مشن لے کر کویت آئے تھے کہ لوگوں کے کام آسکیں، اسی مشن کے تحت یہ کونسل بنائی ہے، بچوں کو راغب کریں کہ تربیت گاہ میں آکر کچھ سیکھیں، میری کاوش کس حد تک کامیاب رہیں، یہ آپ بتا سکتے ہیں۔ ہماری کمیونٹی تقریباً ایک لاکھ 20 ، ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے کچھ علاقوں میں ہیپاٹائٹس کی وباء زوروں پر ہے، ہمارے لوگوں کو پتہ اس وقت چلتا جب وقت گذر چکا ہوتا ہے، سوسائٹی آف پاکستانی ڈاکٹرز ان کویت کے تعاون سے مفت ٹیسٹ کا بندوبست ہے  اور مفت علاج کا انتظام ہے۔ یہ پیغام تمام ساتھیوں تک پہنچا دیں، کہ چیک اپ ضرور کرائیں۔ ڈاکٹر شجاع سے رابطہ کریں وہ مفت ٹیسٹ کا اہتمام کر دیں گے پاکستان قرأت و نعت کونسل کا بنیادی مقصد بچوں کی تربیت ہے اپنی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اللہ ہماری کاوش کو قبول فرمائے۔ اس موقعع پر تقریب کے نقیب افضل شافعی نے کویت میں پاکستان کے سابق سفیر سید ابرار حسین کا مشہور شعر پیش کیا۔
تمہیں جو آسماں پہ کہکشاں معلوم ہوتی ہے
ہمیں وہ اُن کے قدموں کے نشان لگتے ہیں
تقریب کے مہمان خصوصی چارج ڈی افئیرز سفارت خانہ پاکستان حسن وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شب معراج پر ایمان ہمارے دین کا حصہ ہے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں نیک کاموں کی توفیق عطا فرمائے، برے کاموں سے دور رکھے۔کویت میں مقیم ہر عمر کے لوگ حمد ونعت پیش کرتے ہیں جو بھی اس کاوش میں مدد کر رہے ہیں اللہ انہیں مزید توفیق عطا فرمائے۔ پروگرام کے بقیہ حصہ کی نقابت کیلئے قاری طلعت شریف نقشبندی کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی، انہوں نے پرجوش انداز سے شرکاء میں ایک جوش اور ولولہ پیدا کردیا۔انہوں نے حمد باری تعالیٰ پیش کی
حمد اس خدا کی جس نے آفاق کو سجایا
 قاری صہیب انجم نے خوش الحانی سے قرآن کریم کی آیات کی تلاوت کی۔ کویت کے معروف نعت خواں حضرات نے ہدیہ عقیدت پیش کی، جس کی تفصیل درج ذیل ہے
سیدرضا علی طاہری:
ڈوب سکتی نہیں طوفان کی طغیانی میں
جس کی کشتی ہو محمدؐ کی نگہبانی میں
شاہد محبوب:
میرا پیغمبر عظیم تر ہے
وہ خود ہی قرآن خود ہی قاری
وہ آپ مہتاب آپ ہالہ
وہ خود نظارا خود نظر ہے
شام سے آنے والے برکات الخمیس سے عربی زبان میں قصیدہ پیش کیا قاری صہیب انجم کو ایک مرتبہ پھر اسٹیج پر بلایا گیا، انہوں نے محمد افضل شافعی کا نعتیہ کلام پیش کیا۔
میرے آقا مدینے بلا کے مجھے قدموں میں تھوڑی جگہ دے دیجئے روضے پہ آنا ہو جائے قسمت میری آقا مجھ کو کچھ ایسی عطا کیجئے۔محمدفیصل نقشبندی
عرش سے نور چلا اور حرم تک پہنچا
سلسلہ میرے گناہوں کا کرم تک پہنچا
حق نواز قادری نے دَف کے ساتھ پنجابی میں نعتیہ کلام پیش کیا۔
صد لو ہوں سرکار مدینے
رب آکھے میں بخش دیاں گا
آجاون گنہگار مدینے
حافظ محمد افضل اویس
شاہوں سے ملا ہے نہ قلندر سے ملا ہے
اللہ کا قرآن اسی در سے ملا ہے
حافظ عبدالوحید ربانی
کیوں نہ ذکر ہووے میرے نال تیرا
میرے سنگ منسوب جو ہویوں
شاہد منیر:
 جس پہ سرکار دو عالم کی نظر ہوجائے
وہ ستارا بھی اگر ہو تو قمرہوجائے
نعتوں کا حصہ ختم ہونے کے بعد معراج النبیؐ پر مفصل خطاب کیلئے علامہ مشتاق قادری کو خطاب کی دعوت دی گئی، انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں واقعہ معراج النبیؐ تفصیل سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو معراج کے دوران نماز کا تحفہ ملاہے ہمیں اس تحفہ کی قدر کرنی چاہیے۔تقریب کے  آخر میں درودوسلام پیش کیا گیا جبکہ دعا کے بعد تقریب اختتام پذیر ہوئی اور شرکاء کیلئے طعام کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔