یوم پاکستان دیار غیر میں پُر وقار تقریبات

یوم پاکستان دیار غیر میں پُر وقار تقریبات

پاکستان تحریک انصاف فرانس کے زیر اہتمام 23مارچ کو شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جس کے میزبان امتیاز اکرم کدھر تھے۔ جنہوں نے حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ا ور فرانس کو ایک بہت بڑے پروگرام کا تحفہ دیا۔آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا ، فرانس کے معروف صحافی اور اے آر وائی کے نمائندہ شبیر بھدر کے ایصالِ ثواب کیلئے دعا کی گئی۔ نعتیہ کلام محمد معظم نے پیش کیا۔ پاکستان تحریک انصاف فرانس کے سیکرٹری انفارمیشن افضال احمد گوندل نے تمام حاضرین کو خوش آمدید کہا اور مقررین کو دعوتِ خطاب دی۔ مہمان خصوصی قمر بوسال نے چوہدری امتیاز اکرم کدھر کو پی ٹی آئی پیرس کا صدرمنتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی اور اپنے خطاب میں کہا کہ 23مارچ ہماری تاریخ کا اہم ترین دن ہے، ہم نئی نسل کو اس بات سے آگاہ کر رہے ہیں کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے جس نے ہمارے وجود کو آج تک دل سے قبول نہیں کیا اورہروقت ہمیں عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں کرتاہے۔ کشمیر کو اپنا نصب العین بنائیں اور اسے حاصل کریں۔ ہمیں 23 مارچ کے حقیقی تقاضوں کو پورا کرنا ہو گا۔ صدر عمر رحمان نے 23 مارچ کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کی ممبر شپ کیلئے اہم معلومات دیں۔ عمر رحمان نے میزبان چوہدری امتیاز اکرم کدھر کو پی ٹی آئی پیرس کا صدرمنتخب کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرارداد پاکستان کا دن ہمیں ان افراد کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے پاکستان کے حصول کے لئے اپنی جان و مال قربان کردیں۔ تمام پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے وطن کی ترقی و خوشحالی کے لئے تمام سہولتیں بروئے کار لائیں اور ان افراد کو بھی یاد رکھیں جن کی کاوشوں کے سبب انہیں آزاد وطن نصیب ہوا۔ فرانس سے پاکستان جانے والے پاکستانیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو کراچی میں قائد اعظم کے مزار اور لاہور میں مینار پاکستان، مزار علامہ اقبال اور دیگر تاریخی مقامات کا دورہ ضرور کرائیں تاکہ انہیں اپنے اپنے وطن کی تاریخ کے بارے میں ادراک ہو۔ پاکستان کے موجودہ حالات کے بارے میں اوورسیز پاکستانی سخت پریشان رہتے ہیں۔ امن و امان کی خراب صورت حال کے سبب اکثر پاکستانی چھٹیاں اپنے وطن میں گزارنے کی بجائے دوسرے ممالک میں جاکر گزارنے لگے ہیں، جس کے باعث پاکستان کو مالی خسارہ بھی ہو رہا ہے۔حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ حالات کو بہتر بنائے۔ پروگرام کے میزبان چوہدری امتیاز احمد کدھر نے اپنے خطاب میں تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یوم پاکستان پوری قوم کیلئے تجدید عہد کا دن ہے ،پاکستان کیخلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔
23 مارچ 1940ءکے دن اس سلسلے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جب قرارداد پاکستان منظور کی گئی۔ کشمیر کی پالیسی پر پاکستان آج بھی قائم ہے پاکستان اور کشمیریوں کے درمیان قدرتی اور ایمانی رشتے قائم ہیں۔نائب صدر اصغر برہان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں امن و امان کی بحالی اور پاکستان کو اس کے قیام کے عظیم مقصد سے ہمکنار کرنے کیلئے قوم کو 23مارچ 1940ءوالے جذبہ کے ساتھ عہد کرناچاہئے ہم پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا کر دم لیں گے۔ جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے جدوجہد کرنا موجودہ حالات میں انتہائی ضروری اور لازمی ہے۔ اس کیساتھ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ سیکرٹری جنرل رانا عمران عارف نے کہا کہ ہمیں بحیثیت قوم بابائے قائداعظم کے اقوال کو مشعل راہ بناتے ہوئے قوم کو ترقی کی طرف لے کر جانا ہوگا۔ علامہ اقبال کا خواب قائد اعظم نے رات دن ایک کرکے محنت سے پورا کیا۔ 23 مارچ کے موقع پر قوم کو آپس میں متحد ہونے کا عز م کرنا ہو گاملک اس وقت جس صورت حال سے گزر رہا ہے پاکستانی قوم پر کڑا امتحان ہے ۔
سینئر نائب صدر راجہ محمد عجب نے کہا کہ یوم پاکستان ان نظریات کی تجدید کا دن ہے جو ہمارے پیارے وطن کی تخلیق کے پیچھے کارفرما تھے۔ یہ عظیم قیادت اور ان کے نظریات کو خراج عقیدت پیش کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔ جنہوں نے بے پناہ مسائل کو ثابت قدمی سے مقابلہ کیا اور برصغیر کے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کے حصول کے مشن پر قائم رہے۔ سازش عناصر کو منہ کی کھانا پڑیگی۔ سیکرٹری انفارمیشن افضال گوندل نے کہا کہ قرارداد لاہور ایک انقلابی قرارداد تھی جس کے دوررس نتائج برآمد ہوئے۔اس قرارداد کے ذریعے مسلمانان برصغیر نے علیحدہ اسلامی ریاست کے واضح نصب العین کا تعین اور انگریزوں و ہندوو¿ں کی غلامی سے نکلنے کا دوٹوک فیصلہ کیا۔پاکستان بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے، ہمیں اسکی حفاظت کیلئے اپنا تن من دھن قربان کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔ پاکستان تحریک انصاف فرانس کے نائب صدر خالد پرویز چوہدری نے کہا کہ ہماری اجتماعی کوششیں حب الوطنی، اخلاص، عزم اور ایمانداری کے عظیم جذبے سے سرشار ہیں جو ملک کو عظیم خوشحالی اور عظمت کی طرف لے جائیں گی۔ 23 مارچ پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج کے دن ہم سب کومخلص ہوکر ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے اصولوں کو ایک رہنما قوت بناکر درپیش مسائل کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ پاکستان اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے تاہم قوم متحد ہوکر بہادری کیساتھ تمام مسائل کا مقابلہ کررہی ہے۔ سینئر رہنما یاسر قدیر نے کہا کہ قراردادِ لاہور کوئی معمولی قرارداد نہ تھی بلکہ اسکے دوررس نتائج برآمد ہوئے۔اس قرارداد کی بنیاد پر مسلمانان برصغیر نے حق خودارادیت کا مطالبہ کیا۔ 23 مارچ کا دن تجدید عہد کا دن ہے اس دن ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ سنجیدگی سے اپنا محاسبہ کرے کہ ہم نے اپنی سوہنی دھرتی کو کیا دیا کیا ہم نے اپنے ملک کے ساتھ انصاف کیا؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ قوم اور ملک کو دین و اسلام کے مطابق اور حضرت قائد اعظم کے فرمودات کے مطابق چلائیں لیکن سوچنا یہ ہے کہ بحیثیت قوم ہم نے اپنے ملک کو کیا دیا۔ ہم ناکامی اور پستی کی طرف دھکیل دیئے گئے ہیں دیار غیر میں ہمیں اکیلا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان کو اس وقت ہم سب کی ضرورت ہے آج ہر شخص پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مخلص ہو کر اپنے ملک کی ترقی کے لیے جدوجہد کرے۔ صدروویمن ونگ آصفہ ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یومِ پاکستان ان نظریات کی تجدید کا دن ہے جو ہمارے پیارے وطن کی تخلیق کے پیچھے کار فرما تھیں۔ اس ملک کی تشکیل کے پیچھے کار فرما سوچ کو مستقبل کے معماران کو منتقل کریں اور انہیں ان عظیم مقاصد کے حصول کیلئے تیار کریں۔ آج کے دن ہم سب کومخلص ہوکر ایمان ، اتحاد اور نظم و ضبط کے اصولوں کو ایک رہنما قوت بناکر درپیش مسائل کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ترجمان تحریک انصاف فرانس ناصرہ فاروقی نے کہا کہ نظریہ پاکستان کا مقصد ایک جدید اسلامی فلاحی جمہوری مملکت کا قیام ہے۔ آج ہمارے ملک میں غربت، مہنگائی، کرپشن کا دور دورہ نظر آتا ہے جبکہ عدل و انصاف ناپید نظر آتا ہے۔ دو قومی نظریہ آج بھی زندہ ہے۔ ہم کو نئی نسل کو تحریک پاکستان، دوقومی نظریہ، قیام پاکستان کے حقیقی اسباب و مقاصد اور مشاہیر تحریک آزاد ی کے افکار و خیالات سے آگاہ کرنا ہوگا۔ عارف مصطفائی نے کہا کہ آئیے آج عہد کریں کہ ہم اپنے وطن پاکستان کو ایک جدید ترقی یافتہ جمہوری پاکستان بنائیں گے اور پاکستان کے اندر اورباہر ہر جگہ پاکستان کی ترقی خوشحالی اور نیک نامی میں اپنابھرپور کردار ادا کریں گے۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کے لئے یہ انتہائی مسرت کا موقع ہے کہ آج ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنے وطن پاکستان کی مضبوطی خوشحالی اور نیک نامی کے لئے مکمل طورپر متحد منظم اور یقین محکم کے ساتھ آگے بڑھنے کا عہد کریں۔ نائب صدر ویمن ونگ فرانس شاہدہ امجد نے کہا کہ جمہوری حکومت اور قوم ملک کو درپیش تمام چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے پوری طرح متحد ہے، آج تک ملک پاکستان کیخلاف سازشیں ہو رہی ہیں مگر آج تک یہ ملک زندہ اور جاوید ہے۔ پاکستانی قوم میں بڑا جذبہ ہے، سیلاب ہو، زلزلے ہوں یا دہشت گردی، پاکستانی قوم کے حوصلے اور اعتماد کو متزلزل نہیں کرسکتی۔ پاکستان تحریک انصاف فرانس کے رہنما و معروف شاعر عاکف غنی نے کہا کہ 23 مارچ 1940کا دن سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ آئیے آج عہد کریں کہ ہم اپنے وطن پاکستان کو ایک جدید ترقی یافتہ جمہوری پاکستان بنائیں گے اور پاکستان کے اندر اورباہر ہر جگہ پاکستان کی ترقی خوشحالی اور نیک نامی میں اپنابھرپور کردار ادا کریں گے۔ ویمن ونگ فرانس کی سینئر نائب صدر شبانہ چوہدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ 23 مارچ 1940 کا دور تحریک پاکستان کا حتمی اور فیصلہ کن دور تھا قرار داد کے منظور ہونے کے صرف 7 سال بعد مسلمانوں کو اپنی منزل مل گئی اور پاکستان ایک اسلامی مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر جلوہ گر ہوگیا۔ آج کا دن دراصل تحریک آزادی کے مجاہدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے ۔ نائب صدر ویمن ونگ فرانس نینا خان نے کہا کہ آج کا دن پاکستان کی عوام اور دنیا میں بسنے والے ہر پاکستانی کے لئے تاریخ کا ایک سنہری دن ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف فرانس کے ممبر ایگزیکٹو کونسل منور جٹ نے کہا کہ دوقومی نظریہ یعنی ہندو اور مسلمان ہر لحاظ سے الگ قوم ہیں۔ ازراہ کرم نئی نسل کو یہ بات سمجھائیں اور اسے نصاب تعلیم میں بھی شامل کیا جائے۔ قائداعظم کے نظریے کی ہمہ گیر تائید کی کئی وجوہات تھیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس قرارداد میں معاشی منشور اور اسلامی نظام حیات بھی شامل تھا۔ ملک ابراہیم برہان نے کہا کہ 23مارچ ہماری تاریخ کا اہم ترین دن ہے۔ مسلمانوں کے اکثریتی صوبوں پر مشتمل علیحدہ وطن کے حصول کا عہد کیا۔اس قرارداد کی منظوری کے بعد قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں سات سال کے عرصہ میں یہ ملک حاصل کر لیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم ایک ایٹمی قوت ہیں ورنہ بھارت(خدانخواستہ) ہمارا ستیاناس کر چکا ہوتا۔ افضال ڈھل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں آزادی کی نعمت مل گئی لیکن ہم نے کفران نعمت کیا جس کی سزا ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ جن قوموں میں ہوس پیدا ہوجائے وہ زوال پذیر اور اخلاقی پستیوں میں گر جاتی ہیں۔ جھوٹ اور منافقت سے ہوس جنم لیتی ہے جو کرپشن کا باعث بنتی ہے۔ ہماری اولین ترجیح نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینا ہونی چاہئے۔ فیاض احمد مانگٹ نے کہا کہ جنگ آزادی کے بعد مسلم اکابرین نے پاکستان حاصل کرنے کا مطالبہ پورے غو و فکر کے بعد کیا تھا۔ تمام رہنما مسلمانوں کو ہندومت کے غلبہ سے محفوظ کرنا چاہتے تھے جبکہ ہندوو¿ں کے رہنما مسلسل اسلام کو دیگر مذاہب کی طرح اپنے اندر جذب کرنے کے درپے تھے۔ اگر متحدہ برصغیر آزاد ہوتا تو جدید جمہوری نظام جو اکثریت کے بل بوتے پر ہندو اقتدار کی ہی ایک شکل ہوتی۔ نائب صدر اشفاق احمد چوہدری نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے تجدید عہد کا دن ہے۔ ہمیں ایک بارپھر قیام پاکستان کے جذبے سے کام کرنے اور قومیتوں کے بجائے ایک قوم بننے کی ضرورت ہے۔ پاکستان بے شمار قربانیوں کے بعد وجود میں آیا۔ 23 قائداعظم دیانت کی ایک مثال تھے جو سرکاری خزانے سے خود یا کابینہ پر ایک پائی بھی غلط طور پر استعمال کرنا حرام سمجھتے تھے، پاکستان کا پہلا بجٹ صرف 75 کروڑ روپے کا تھا، جب کہ آج ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم کا خرچہ اس سے زیادہ ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو پاکستان کی ثقافت سے روشناس کرانے اور منسلک رکھنے کے لیے اپنی آبائی اور مذہبی زبانوں اردو اور عربی کی تدریس کی ضرورت ہے۔ راجہ ظہیر نے کہا کہ آئیے آج عہد کریں کہ ہم اپنے وطن پاکستان کو ایک جدید ترقی یافتہ جمہوری پاکستان بنائیں گے اور پاکستان کے اندر اورباہر ہر جگہ پاکستان کی ترقی خوشحالی اور نیک نامی میں اپنابھرپور کردار ادا کریں گے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو پاکستان کی ثقافت سے روشناس کرانے اور منسلک رکھنے کے لیے اپنی آبائی اور مذہبی زبانوں اردو اور عربی کی تدریس کی ضرورت ہے۔ ادارہ منہاج القرآن کی جانب سے بھی وفد نے شرکت کی۔ دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی پروگرام کی اہم نوعیت کے حوالے سے شرکت کر کے باہمی یکجہتی کا پیغام دیا۔ افضال احمد گوندل نے پروگرام کے آخر میں تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ قومی ترانہ کے بعد آخر میں عشائیہ کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔