کویت پاکستان فرینڈشپ ایسوسی ایشن کی مشترکہ تقریب

 کویت پاکستان فرینڈشپ ایسوسی ایشن کی مشترکہ تقریب

کویت پاکستان فرینڈشپ ایسوسی ایشن (کے پی ایف اے) کی سالانہ مشترکہ تقریب بسلسلہ یوم آزادی کویت اور یوم استقلال پاکستان کا انعقاد کویت کے ایک ہوٹل میں عمل میں آیا ۔ اس تقریب کی تیاری ایسوسی ایشن کے ذمہ داران نے شبانہ روز محنت اور لگن سے کی ۔ ایسی تقریبات کا بنیادی مقصد کویت اور پاکستان کے مابین سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر خیر سگالی (سافٹ امیج) تعلقات کو فروغ دینا ہوتا ہے تاکہ زندہ دلانِ پاکستان بیرون ملک باوقار انداز سے اپنی شناخت کروا سکیںاور اس تاثر کو بھی زائل کر سکیں جو حریفان ِ پاکستان کا بنیادی ایجنڈا ہے ۔ اس سفر کے حصول میں ’’کے پی ایف اے‘‘ گذشتہ چوبیس برسوں سے سرگرداں ہے ا ور بڑے تنظیمی انداز میں کویتی کلچر میں پاکستانی کلچر سے محبت سرایت کرتی دکھائی دے رہی ہے،اہلیان کویت کی پاکستانی تہذیب و ثقافت میں دلچسپی روز افزوں دکھائی دے رہی ہے ۔جس کا ثبوت 16مارچ کی وہ مشترکہ تقریب ہے جس میں ایک سو سے زائد کویتی خواتین و حضرات اور دو سو کے قریب پاکستانی خواتین و حضرات نے بھر پور جذبے سے سرشار شرکت کی ۔ تقریب کے مہمان خصوصی گورنرفروانیہ شیخ فیصل الحمود المالک الصباح تھے جو ولی عہد کویت کے بیٹے کی شادی میں مصروفیت کی بناء پر شرکت نہ کر سکے لیکن ان کا ایک تہنیتی مراسلہ تقریب کا موضوع بنا رہا ۔ دیگر مہمانانِ اعزاز میں مجلس وزراء کی رکن اور انڈر سیکرٹری محترمہ نجلہ علی النقی ، ڈاکٹر ہلال السائر ، چیئرمین کویت ریڈ کریسنٹ سوسائٹی اور سابق وزیر صحت کویت ، السید عبدالاء معرفی ، چیئرمین معرفی فائونڈیشن ۔السید جمال النوری ، ڈاکٹر محمد الشرھان ، محترمہ فاطمہ الرشیدی ، انٹرنیشنل لیگل کنسلٹنٹ ۔ عبدالرحمن الصقر ، زید صالح الشواف ’’کے پی ایف اے‘‘ کے سرپرستِ اعلیٰ مبارک سعدون المطوع ، سفیر پاکستان محمد اسلم خان اور جملہ اراکین کے پی ایف اے موجود تھے ۔ 

نظامت کے فرائض تنظیم کے جنرل سیکرٹری ثاقب آفتاب اور محترمہ روحینہ علی نے سر انجام دیئے ۔ تقریب کا آغاز حافظ محمد شبیر ممبر اوپیک کی خوش الحان تلاوت قرآن پاک سے ہوا ۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے جس کے دوران ولید ارشد نعیم اور محمد اویس نے پاکستان اور کویت کے پرچم اٹھا رکھے تھے ۔ ناظم تقریب نے رسم کیک کٹائی کے لئے تنظیم کے صدر رانا اعجاز حسین ، سر پرست اعلیٰ مبارک سعدون المطوع ،مہمانِ اعزاز سفیر پاکستان محمد اسلم خان ، محترمہ نجلہ علی النقی ، انڈرسیکرٹری ، شیخ ابو علاء معرفی ، ڈاکٹر ہلال السائر کو اسٹیج پر مدعو کیا ثاقب آفتاب نے استقبالیہ کلمات میں آزادی کویت اور یوم استقلال پاکستان کی نسبت سے گفتگو کا آغاز کیا ۔ مبارک سعدون المطوع نے اپنے خطاب میں کویت پاکستان دوستی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے دونوں ممالک کے دیرینہ خیر سگالی تعلقات کو اپنا موضوع بنایا بطور خواص انہوں نے پاکستان بلڈ ڈونرز سوسائٹی کویت کے ذمہ داران کو کویتی بھائیوں کے لیے 2500خون کی بوتلیں عطیہ کرنے پر انتہائی محبت کی علامت قرار دیا ۔اُن کا خطاب اتحادامہ ، سربلندی پاکستان اور کویت کی محبت سے سرشار تھا ۔ انہوں نے بطور خاص حکومتِ کویت سے درخواست کی کہ گذشتہ آٹھ سالوں سے پاکستانی ویزوں پر لگائی گئی پابندی کو اٹھایا جائے خاص طورپر وزٹ اور فیملی ویزوں پر فی الفور پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا ۔ڈاکٹر محمد سعید خان ، بانی رکن کے پی ایف اے نے عربی زبان میں بڑے خوبصورت لب و لہجہ میں تقریر کرتے ہوئے حاضرین کو ’’ کے پی ایف اے‘‘کی تعمیری سرگرمیوں سے آگاہ کیا ، اور حکومت کویت کو ویزوں کے اجراء کیلئے توجہ دلائی ۔پرائیڈآف پرفامنس پاکستان شیخ ابوعلاء معرفی نے اپنے خطاب میں پاکستان کیساتھ اپنی محبت کو بیان کرتے ہوئے حکومت کویت کو پاکستانیوں کے لیے ویزوں کے حصول کو آسان بنانے کی اہمیت پر زور دیا ۔چیئرمین معرفی فاؤنڈیشن عبدل الٰہ معرفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان بڑے گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ پاکستان خطہ کا ایک اہم ملک ہے۔ پاکستانی فوج نے کویتی فوج کو ہمیشہ ٹیکنیکل سپورٹ فراہم کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے پاکستان کے شمالی علاقوں میں 1000 سے زائد پراجیکٹس حاصل کر لئے ہیں۔ شمالی علاقوں میں ایک جدید اسپتال کی تعمیر میں اعلیٰ حضرت امیر کویت نے بھی عطیہ دیا۔ کویتی عوام پاکستان کی ہر ممکن مدد کرنا چاہتے ہیں۔
محترمہ فاطمہ الرشیدی انٹرنیشنل کنسلٹننٹ نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان بسلسلہ ایکسپو کراچی 2015ء کو اپنا موضوع سخن بنایا اور پاکستان میں اپنے قیام کو محبتوں کا سفر قرار دیا ۔ سفیر پاکستان محمد اسلم خان نے اپنے خطاب میں تمام کویتی بھائیوں اور بہنوں کی آمد اور ان کی تقاریر میں پاکستانی ویزوں کے ضمن میں اٹھائے جانے والے نکات پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کویت پاکستان کے تعلقات کو اپنا موضوع بنایا انہوں نے کراچی میں ہونے والی ایکسپو نمائش میں کویتی وفود کی بھر پورشرکت پر کویتی تاجروں کا شکریہ ادا کیا اور خاص طورپر اوپیک کے ممبر حافظ محمد شبیر کی کائوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔محترمہ نجلہ علی النقی نے پاکستانیوںکیلئے اپنے محبت بھرے جذبات کا کھل کر اظہار کیا اور یقین دلایا کہ وہ حکومت کویت کو ویزوں کے اجراء کے لیے سفارشات پیش کریں گی ۔تنظیم کے صدر رانا اعجاز حسین نے اظہار تشکر میں کویت اور پاکستانی خواتین و حضرات کی کثیر تعداد میں تقریب میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور رواں تقریب کو کویت اور پاکستان کے مابین ایک سنگ میل قرار دیا ۔ رانا اعجاز نے اپنے خطاب میں حکومت کویت سے مودبانہ درخواست کی کہ براہ کرم زندہ دلان پاکستان کیلئے کویتی ویزوں کے حصول کو آسان بنایا جائے تاکہ ہم یہاں پر مقیم پاکستانی اپنے بیوی بچوں اور والدین کو مدعو کر سکیں کیونکہ زمینی دوری کئی خانگی فسادات کا سبب بن رہی ہے ۔ تمام مہمانان کو خصوصی شیلڈ سے نوازا گیا ۔تقریب کی خصوصی بات یہ تھی کہ تمام کویتی خواتین و حضرات نے ’’کے پی ایف اے‘‘ کی رکنیت حاصل کر کے تنظیم کے ساتھ اپنی محبت کا ثبوت دیا ۔ تنظیم کے ایگزیکٹوو ممبران نے اس تقریب کے انعقاد کیلئے انتہائی مہارت کا ثبوت دیا اور تقریب کے چہرے کو پروفیشنل بنائے رکھا ۔تمام اراکین تقریب کے آغاز سے لے کر انجام تک چاق و چوبند دکھائی دیئے ۔ مولانا عارف جاوید محمدی دونوں ممالک کیلئے دعائے خیر فرمائی ، یوں یہ تقریب رات گئے ایک باوقار عشائیہ کے بعد اختتام پذیر ہوئی ۔