دوبئی میں 23 مارچ کی تقریب

صحافی  |  طاہر منیر طاہر
دوبئی میں 23 مارچ کی تقریب

یوم قرار اداد پاکستان کے حوالے سے گزشتہ دنوں پاکستان ایسوسی ایشن دوبئی میں ایک تقریب ہوئی جس میں پاکستان کمیونٹی کے لوگوں نے شرکت کی۔ اسی تقریب کے مہمان خصوصی سفیر پاکستان برائے متحدہ عرب امارات آصف علی درانی تھے جبکہ دیگر خاص مہمانوں میں قونصلیٹ آف پاکستان دوبئی کے قونصل جنرل جاوید جلیل خٹک، ویلفیئر قونصلرز ہارون ملک اور ڈاکٹر ریاض حسین لانگ کے علاوہ سول کمیونٹی سے ع، س مسلم، ممتاز مسلم، سہیل احمد، عبدالغفار، زاہد ترمذی، طاہر زیدی، ملک ارشد، فرحان پیر محمد، مصطفیٰ قاسم، امجد حسین چودھری، انیس چودھری، پرنس اقبال، شریف ڈار اور عمر ابراہیم کیساتھ دیگر بہت سے لوگ شامل تقریب تھے۔اس موقع پر خواتین اور بچوں کی بھی ایک خاص تعداد موجود تھی۔ پروگرام کا آغاز وقت سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ پاکستان ایسوسی ایشن دوبئی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر فیصل اکرام نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ اور اپنی تقریر میں پاکستان ایسوسی ایشن دوبئی کی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا۔ اور تقریب کے اغراض و مقاصد سے حاضرین کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یوم قرار داد پاکستان کے موقع پر دیار غیر میں مقیم احسن کارکردگی دکھانے والے پاکستانیوں کو ایوارڈز دینے کا مقصد ان کی حوصلہ افزائی ہے۔ آج جن لوگوں کو غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو ایورڈز دیئے جا رہے ہیں وہ لوگ خراج تحسین کے لائق ہیں جنہوں نے دیار غیر میں اپنا اور ملک کا مثبت پہلو اجاگر کیا ہے۔

شرکاء نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ایسوسی ایشن دوبئی کے صدرڈاکٹر ضیاء الدین نے کہا کہ بحیثیت پاکستانی قوم ہم سے سب کا یہ فرض ہے۔ کہ ہم قوم و ملک کے لئے ایسے کام کریں جس سے ملک و قوم کا نام روشن ہو۔ دیار غیر میں مقیم پاکستان مختلف شعبوں میں نمایاں کام سرانجام دے رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی ہمارا فرض ہے تاکہ دوسرے لوگ بھی ان کی تقلید کرتے ہوئے مزید اچھے کام کریں جس سے ملک و ملت کانام روشن ہو۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب ایسے ہی پاکستانیوں کی خدمات کے اعتراف میں ہے۔
تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کو انعامات دیئے گئے جن کی تفصیل یہ ہے۔ پرنٹ میڈیا میں اشفاق احمد، جمیل احمد خان، الیکٹرانک میڈیا میں ذمرد بونیری، ایمانداری میں قراۃ العین، سوشل کاموں میں سحر شیخ، لٹریچر میں ظہور الاسلام جاوید، تعلیم میں عائشہ میمن پیشہ وارانہ صلاحیتوںمیں محمد حمید فاروقی، رفیق احمد، عبدالغفار ابوبکر، سجاد حیدر، رضاکارانہ خدمات پر عالیہ جاوید اور تعلیم میدان میں احسن کارکردگی دکھانے پر ثمینہ ناصر کو ایوارڈز اور سرٹیفکیٹس دئے گئے۔
ایوارڈز سفیر پاکستان آصف درانی نے اپنے ہاتھوں سے دیے جو کہ اس موقع پر ان کے ہمراہ قونصل جنرل جاوید جلیل خٹک اورپاکستان ایوسی ایشن دوبئی کے صدر ضیاء الدین مسلسل سٹیج پر ان کے ہمراہ موجود ہے۔
ایوارڈز تقسیم کرنے کے بعد سفیر پاکستان آصف درانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک زندہ قوم ہیں جبکہ پاکستان پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔ پاکستان کا اقوام عالم میں بڑا نام ہے۔ پاکستان آج جن بحرانوں کا شکار ہے وہ ہمیشہ ان بحرانوں میں نہیں رہے گا۔ بہت جلد پاکستان ان بحرانوں سے نکل کر ترقی یافتہ اقوام عالم کی صف میں کھڑا ہوگا۔ پاکستان کو درپیش موجودہ اندرونی اور بیرونی مسائل سے نمٹنے کے لئے پوری قوت سے کام لیا جا رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب ملک سے دہشت گردوں اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ آصف درانی نے کہاکہ ہمیں تعلیم عام کرنے کی ضرورت ہے خاص طور پر ہمیں بچیوں کی تعلیم پر خاص توجہ دینا ہوگی کیونکہ اگر ایک بچی پڑھ لکھ جائے گی تو پورا گھرانہ تعلیم یافتہ ہو جائے گا۔ آج جن لوگوں کو ایوارڈز دئے گئے ہیں یہ لوگ یقینا مبارباد کے قابل ہیں اور دوسروں کے لئے مثال ہیں لہٰذا سب کو چاہئے کہ قومی، ملکی اور ملی مفاد کے لئے بڑھ چڑھ کر کام کریں اور پاکستان کے نام روشن کریں۔
پاکستان ایوسی ایشن کے زیر اہتمام ہونے والے یہ تقریب شروع سے آخر تک بدنظمی کا شکار رہی۔ سب سے پہلے تو پروگرام ہی سوا گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا۔ پروگرام کی ترتیب بھی بے ترتیب رہی۔ آڈیوسسٹم نے شرکا نے تقریب کو خاصا بور کیا۔ ایوارڈز کی تقسیم پر اکثرلوگ یہ چہ میگوئیاں کرتے پائے گئے کہ ایوارڈز کی تقسیم میں ذاتی پسند سے کام لیا گیا جبکہ ایوارڈز سلیکشن کمیٹی کے ممبران کے نام بھی نہ بتائے گئے۔ پاکستان ایسوسی ایشن دوبئی کے ایک عہدیدار یہ کہتے سنے گئے کہ ہم نے تو صرف ممبران کو بلایا تھا یہ اتنے زیادہ لوگ کیسے آگئے۔ جیسے ہی کھانے کا اعلان ہوا تو مختصر کھانے پر زیادہ لوگ ایک دم پل پڑے جس کے ہاتھ جو آیا وہ لے کر چلتا بنا۔ متعدد لوگ لائنوں میں ہی کھڑے رہ گئے اور کھانا ختم ہوگیا۔ ایسوسی ایشن کے ایک سابقہ عہدیدار نے صورتحال دیکھتے ہوئے کہا کہ ہمارے دور میں تو ایسی بد نظمی ہر گز نہ تھی جو اب دیکھنے میں آرہی ہے۔