پاکستان کےساتھ نہ ٹوٹنے والے تعلقات کو مزید مستحکم بنائینگے: برطانوی وزیراعظم

لندن (رپورٹ آصف محمود سے+ اے این این) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، برطانیہ اور پاکستان کی دوستی متاثر نہیں ہوگی۔ دونوں ملکوں کے گزشتہ کئی دہائیوں سے روایتی تعلقات ہیں اور مستقبل میں دوطرفہ تعاون مزید بڑھایا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے بعد میڈیا کے ساتھ مختصر گفتگو کے دوران کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون کیساتھ ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سٹرٹیجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون نے انہیں یقین دلایا ہے کہ برطانیہ پاکستان کو یورپی منڈیوں تک رسائی میں مدد دیگا۔ صدر زرداری نے کہا کہ وہ پاکستان کے مسائل پر خصوصی توجہ دینے پر ڈیوڈ کیمرون کے مشکور ہیں۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ نہ ٹوٹنے والے تعلقات ہیں جنہیں مزید مستحکم بنائینگے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مفادات مشترکہ ہیں اور دونوں ملکر دہشتگردی اور انتہاپسندی کیخلاف کام کرتے رہیں گے۔ ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ وہ پاکستان میں سیلاب زدگان کی مدد کیلئے پہلے بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں۔ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی یاد میں منعقدہ ایک ڈنر میں صدر آصف علی زرداری کی شرکت پر انکا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی یاد میں انکی رہائشگاہ پر پودا بھی لگایا گیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق صدر زرداری نے ڈیوڈ کیمرون کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی اور وہ اسی سال پاکستان آئینگے۔ صدر آصف علی زرداری نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات میں مطالبہ کیا کہ برطانیہ پاکستان پر الزامات لگانے کی بجائے جمہوری حکومت کو معاونت فراہم کرے۔ متنازعہ بیانات سے دہشتگردی کیخلاف پاکستان نے سب سے زیادہ جانیں قربان کیں جسے پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے۔ بھارت کو پاکستان کیخلاف الزام تراشی کیلئے بطور پلیٹ فارم استعمال نہ کیا جائے جبکہ برطانوی وزیراعظم نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ برطانیہ دہشتگردی کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے پاکستان کے ساتھ ہے۔ برطانیہ پاکستان میں امن و امان کے قیام اور جمہوریت کے استحکام کیلئے تعاون جاری رکھے گا۔ بھارت میں دئیے گئے بیان کو غلط رخ دیا گیا۔