جدہ میں ایک تقریب ....

صحافی  |  امیر محمد خان
 جدہ میں ایک تقریب ....

جدہ اور اسکے قریب جوار میں پاکستانیوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق پانچ چھ لاکھ سے کم نہیں ، قائم پاکستان قونصیلٹ کے دائرہ اختیار میں، جدہ، مکہ المکرمہ، مدینہ المنورہ، خمیش مشیط، ینبع، بہائ، ابہائ، طائف اور اسکے قریب کے گاﺅں اور چھوٹے شہر آتے ہیں جدہ کے قونصیلٹ کے کئی قونصلر جنرلز آئے ، تین سال کا عرصہ مکمل ہوتے ہوئے جب الوادعی دعوتیںہوتی ہیں تو وہ اپنی تقاریر میںکہتے ہیں کہ جدہ کی کمیونٹی بہت اچھی ہے ، ایک الوادعی تقریب میں تقریر کرنے کا موقع مجھے بھی ملا تھا اور میں نے کہا تھا یہ جدہ کی کمیونٹی کی بد قسمتی ہے کہ قونصل جنرل کو تین سال بعد جاتے ہوئے علم ہوتا ہے کہ یہ کمیونٹی بہت اچھی ہے ،جبکہ اس بات کا علم اپنے تجربہ سے پہلے ہی ہوجانا چاہئے ، اورعلم ہو نہ ہو حکومت پاکستان نے جس کام کیلئے بھیجا ہے کمیونٹی کے تعاون سے اسے بحسن خوبی کرنا چاہئے “جدہ میں موجودہ قونصل جنرل جناب آفتاب احمد کھوکر جنہیں یہاں تعنیات ہوئے چھ ماہ کے قریب ہونے لگا ہے ، نہائت ملنسار، اور ایک ملاقات میں لوگوں کو دوست بنانے والے ہیں ۔انکی یہاں آمد کے ساتھ میزبان ملک سعودی عرب نے اپنے قوانین کی رو سے تارکین وطن کو ہدائت جاری کی کہ وہ یہاںرہائش کے سلسلے میں اپنے کاغذات اور ملازمت کے سلسلے میں سختی سے سعودی قوانین پر عمل کریں ، دیگر ملکوںکے تارکین وطن کی طرح یہاں بے شمار پاکستانی بھی اس قانون کی ذد میں آتے تھے ، اعلان کے ساتھ ہی ہزاروں پاکستانیوں نے قونصیلٹ کی عمارت کا رخ کیا ، کوئی پندرہ سال تک یہاں غیر قانونی رہ کر واپس جانا چاہتا تھا ، اپنے اہل خانہ کے پاسپورٹ بنانا چاہتا تھا ،سعودی فرما ں رواں خادم الحرمین الشریف شاہ عبداللہ نے ہمیشہ کی طرح سرپرستی ، انسان دوستی ، عاجزی ، اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے تمام غیر قانونی افراد کوایک دفعہ نہیں بلکہ دو دفعہ وقت دیا کہ وہ اپنے معاملات درست کرلیں ، کوئی جرمانہ ہوگا اور نہ ہی کوئی سزا اسلئے تمام تارکین وطن اپنے اپنے سفارت خانوں اور قونصیلٹس کی طرف بھاگے ، اس میں کوئی شبہ نہیںکہ ریاض میںپاکستان سفارت خانہ اور جدہ میں پاکستان قونصیلٹ نے سعودی عرب میں موجود دیگر ممالک کے تمام سفارت خانوں اور قونصیلٹس کے زیادہ سرگرمی کا مظاہر ہ کیا ، جدہ کے دائرہ اختیار میں چونکہ پاکستانیوں کی تعداد زیادہ ہے اسلئے یہاں کے قونصلٹ نے قونصل جنرل آفتاب کھوکر کی قیادت میں دن رات کام کیا ، بے روزگار پاکستانیوں کو روزگار دلانے کیلئے جاب فئئرز کا اہتمام کیا ، جدہ چیمبرز آف کامرس ، وزارت لیبر کے اعلی افسران ، اور دیگر اداروں سے آفتاب کھوکر نے وہ شاندار تعلقات پیدا کرلئے جو کسی اور سفارت کار کے حصے میں نہیں آئے ، اس سے یہا ںپاکستانیوںکی لئے بے شمار سہولیات پیدا ہوئیں ، وہ سعودی اہل کار کھلے عام قونصل جنرل آفتاب کھوکر سے اپنی بھائیوں والی دوستی کا دم بھرتے ہیں، انکے تعلقات کی وجہ سے سعودی اہل کار پاکستانیوں کی اعلی قوم بھی قرار دیتے ہیں ۔ اس مشکل وقت میں سخت دوپہر میں ہم نے قونصل جنرل آفتاب کھوکر کو پاکستانیوں کے ساتھ سڑک پر کھڑا بھی دیکھا تاکہ پاکستانیوں کو احساس ہو کہ کوئی انکی دیکھ بھال کررہا ہے ، وہ پاکستانیوں کو یقین بھی دلا رہے ہوتے کہ وہ سعودی قوانین کی پاسداری کریں قونصیلٹ انکے ساتھ ہے ۔ میاں نواز شریف کے حکومت سنبھالتے ہی آفتا ب کھوکھر میاں نواز شریف کی نیک تمنائیں سعود ی حکومت اور انکے افسران تک پہنچاتے رہتے ہیں ، جہاں یہ مشکل وقت آیا وہیں ایک اچھا وقت بھی جب سعودی عرب کا یوم آزادی آیا،گزشتہ دنوںیہاں ایک تقریب کا اہتمام پاکستان جرنلسٹ فورم کے چئیرمین کی مشیرخاص اور جدہ میں ضرورت مند لوگوں کی مدد کیلئے ہر وقت تیار خدیجہ ملک نے
ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا جس میں بڑے پیمانے پر سعودی بھائیوں نے شرکت کی،تقریب اتنی پررونق تھی کہ میں نے گزشتہ تیس سال سے اتنی بھر پور تقریب نہیں دیکھی خاص بات تھی اس تقریب میں ہندوستان، امریکہ ،دوبئی ، امارات، ساﺅتھ افریقہ ،کے قونصل جنرلز، سعودی میڈیا کی بھر پور تعداد، سعودی ٹی وی کے اداکار، مہمان خصوصی سعودی وزارت اطلاعات کے ڈائریکٹر جنرل سعود بن علی الشیخ ، سعودی محکمہ محنت مغربی زون کے ڈائیریکٹر جنرل عبداللہ العیلیان ، کی موجودگی میں صرف پاکستان قونصل جنرل آفتاب کھوکر موجود تھے ،اسٹیج پر لگے بینرپر حکومت پاکستان کا نشان خادم الحرمین الشریفین کو یوم الوطنی کے پیغام کے ساتھ موجود تھا، مہمان خصوصی سعود بن علی الشیخی کے خطاب کے علاوہ دوسرا خطاب صرف قونصل جنرل آفتاب کھوکر کا تھاجنہوں نے اپنے خطاب میں سعودی حکومت اور عوام کو میاں نواز شریف کی جانب سے یوم الوطنی کی مبارکباد پیش کی،او ر اس موقع پر خاص طور پر انہوںنے کشمیر پر وزیر اعظم اور پاکستان کا موقف بیان کیا خاص طور پر سلامتی کونسل میں وزیر اعظم کی کشمیر اور دہشت گردی کے حوالے سے پاکستانی موقف کا حوالہ دیا ( یہ اور بات ہے انکی اس تقریر کے دوران یہاں ہندوستان کے قونصل جنرل قدوائی محفل سے اٹھ کر چلے گئے ۔ ) تقریب میں سعودی مہمانوں ، منتظم خدیجہ ملک ، فوزیہ خان نے پاکستان کے قونصل جنرل آفتاب کھوکر کے ہمراہ کیک کاٹا اور خیر سگالی کے طور پر ایک دوسرے کو کھلایا، مقامی ہوٹل کے وسیع ہال میں سینکڑوں سعودی مرد اور خواتین گلوںمیں سعودی عرب کا پرچم ، اور یوم الوطنی کے تہنیتی پیغام کے ہمراہ موجود تھے ، تقریب میں قونصل جنرل آفتاب کھوکر کی تقریر کا عربی ترجمہ تقسیم کیا گیا، یہ شاندار تقریب یقینی طور خدیجہ ملک،اور فوزیہ خان کی کاوش تھی،ا س موقع پر ہمیںپاکستانی ملے جنہوںتقریب کو بہت سراہا اور خاص طور پر آفتاب کھوکھر کی پاکستانیوںکیلئے خدمات کا ذکر کیا کہ کم وقت میں انہوں نے نہائت سرگرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ خاص طور پر ایک تاریخی کام کہ اب قونصیلٹ جہاںپاسپورٹ کی تجدید کیلئے سینکڑوں کا رش ہوتا تھا ایک مہذب قوم کی طرح پاکستانیوں کو کہا ہے کو قونصیلٹ آنے سے قبل فون پر وقت لے لیںتاکہ انہیں انتظارنہ کرنا پڑے اس عمل سے آٹھ گھنٹے کا کام اب صرف دو گھنٹے میں ہوجاتا ہے اور رش بھی نہیں ہوتا ، نیز پاسپورٹ بن جانے کے بعد قونصلٹ انتظام کررہا ہے کہ بذریعہ کورئیر پاسپورٹ گھر پہنچا دیا جائے تاکہ قونصیلٹ آنے کی زحمت نہ ہو ۔ تقریب سے قبل سعودی یوم الوطنی کی ایک تقریب آفتاب کھوکر نے اپنی رہائش گا پر منعقد کی جس میں مہمان خصوصی سعودی وزارت محنت کے ڈائیریکٹر جنرل عبداللہ العلیان ، ڈائیریکٹر جنرل وزارت اطلاعات سعود بن علی الشیخی ، معروف سعودی اسکالر ڈاکٹرمحمد الجہنی، سابق بریگیڈیرجنرل سعودی افواج انور عشقی اور سعودی وزارت تجارت کے نمائندے طلا ل سمرقندی اور دیگر افراد موجود تھے ،اس تقریب میں قونصل جنرل کی تقریر کے علاوہ شاندار خطاب ڈاکٹر انور عشقی ( سابق جنرل سعودی افواج ) کا تھا انہوںکے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ پرہے یہ دہشت گرد پاکستانی نہیں بلکہ باہر سے آرہے ہیں ان پر قابوکرنا ضروری ہے ، انہو ں نے کہ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب پاکستانیوںکا دوسرا گھر ہے ، میں یہ کہتا ہوںکہ ہم ایک ہی گھر کے لوگ ہیں یہ گھر علیحدہ نہیں۔
پاکستانی قونصل جنرل کے قابل ستائش کام اپنی جگہ مگر دو اہم کام انکی دانشمندی ، دانشوری، اور قریبی توجہ چاہتے ہیں ، وہ ہیں جدہ کے دو اسکولوںکے معاملات، ایک اسکول جہاں اسکول بورڈ نے انکی یہاں آمد سے قبل قونصیلٹ کی ایماء پر برطرف کئے گئے ، معاملات وزیر اعظم تک بھی پہنچائے گئے ، یہ اساتذہ گزشتہ ایک سال سے بے روزگار ہیں ، یہ معاملہ قونصل جنرل کی فوری توجہ چاہتا ہے ، اور حل ہونے کی صورت میں اساتذہ کے اہل خانہ کی دعائیں ہی حاصل ہونگی ، ضرورت ہے اس سلسلے میں اپنے سابقہ قونصل جنرل اور کسی اور سابقہ افسر کی غلطی کو تسلیم کرنے کی تو معاملہ حل ہوجائے گا،دوسرے اسکول کا مسئلہ ایک پاکستانی سیاست دان کا پیدا کردہ ہے ، جو اسکول کی انتظامی سر براہ بھی ہیں ، سابقہ حکومت کی نمائندہ ہونے کے ناطے قونصلیٹ اور سفارت خانہ انکی ہر جائز اور ناجائز پر آنکھیں بندکر رہاہے، اب ضرورت ہے کہ جبکہ کوئی دباﺅنہیں وہاںوالدین کا مشاورتی بورڈ بنایا جائے ، فیسوں پر نظر ثانی کی جائے اور اسکول کو اسکول کی طرح چلایا جائے ۔ امید ہے کہ قونصل جنرل اپنی تمام تر اچھائیوںکے ساتھ ان معاملات کو پاکستانی کمیوینٹی کی خواہش اور سعودی قوانین کے مطابق حل کریں گے۔