ایوان اقبال میں پنجابی مشاعرہ .... مشاعرہ میں امارات بھر سے شعرا نے شرکت کی

صحافی  |  طاہر منیر طاہر
 ایوان اقبال میں پنجابی مشاعرہ .... مشاعرہ میں امارات بھر سے شعرا نے شرکت کی

متحدہ عرب امارات میں مشاعروں کی تاریخ گذشتہ چار دہائیوں پر مشتمل ہے۔ گذشتہ چالیس سالوں کے دوران علم و ادب کے چروانوں نے ہر دور میں علم و ادب کی محفلیں سجائیں اور مقامی و بین الاقوامی مشاعروں کے اہتمام کیا۔ ان مشاعروں میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ امارات کے اردگرد واقع خلجی ممالک میں مقیم اردو دانوں نے اردو مشاعروں میں شرکت کی۔ بلکہ یورپین ممالک سے بھی شعرا مشاعروں میں شرکت کے لئے امارات آتے رہے۔ اردو مشاعرے تو گذشتہ چالیس سالوں کے دوران بے شمار ہوئے لیکن پنجاب زبان میں کسی مشاعرہ کا ذکر نہیں ملتا۔حال ہی میں ایوان اقبال کے صدر پرنس اقبال گورایہ نے ایک پنجابی مشاعرہ کا اہتمام کیا جو شارجہ کے ایک ہوٹل میں ہوا اور متحدہ عرب امارات کا پہلا پنجابی مشاعرہ قرار پایا۔ ماں بولی زبان پنجاب میں ہونے والے مشاعرہ کی صدارت عہد حاضر کی عظیم علمی‘ ادبی اور سماجی شخصیت علامہ ابوالامتازع میں مسلم نے کی۔ اس موقع پر مہمان خصوصی قونصلیٹ آف پاکستان دوبئی کے پریس قونصلر سردار عبدالواحد خان تھے۔ جبکہ شعراءمیں سرفراز علی حسین‘ مقصود تبسم‘ ڈاکٹر وحید الزماں‘ فقیر سائیں حافظ زاہد علی‘ پروفیسر ظہیر بدر‘ شوید اختر برہانی‘ امجد اقبال امجد‘ حافظ عامر‘ یعقوب عاطر ابراہیم غوری‘ زاہد مسطوری‘ عبداللطیف طارش اور ابراہیم واصف شامل تھے۔ پروگرام کی مہمان اعزازی ثمینہ چودھری تھیں جبکہ نظامت کے فرائض پروفیسر ظہیر بدر نے بخوبی انجام دئیے۔ اس موقع پر مذکورہ شعراءنے اپنی اپنی کلام نہایت خوبصورتی کے ساتھ پڑھا اور سامعین سے داد وصول کی پنجابی زبان میں اپنی طرز کا یہ پہلا مشاعرہ تھا جس میں شعراءاور سامعین نے بھرپور شرکت کی۔ مشاعرہ کے آغاز سے اختتام تک لوگوں کی دلچسپی قائم رہی جبکہ شعراءنے مختلف موضوعات پر اپنی جامع اور خوبصورت شاعری پیش کی۔ پریس قونصلر سردار عبدالواحد خان نے مشاعرہ کے بارے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی بے شمار صلاحیتوں کے مالک ہیں جس کی مثال اس مشاعرہ میں موجود شعراءہیں جو کس قدر عمدہ اور پختہ کلام سنا رہے ہیں۔ سارا دن کام کرنے کے باوجود شاعری کے لئے لمحات نکالنا بڑی بات ہے یقیناً یہ زرخیز ذہنوں کی عکاسی ہے۔ انہوں نے مشاعرہ کے انعقاد پر اقبال پرنس کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی لوگوں کی تفریح کے لئے مشاعروں کا انعقاد کرتے رہا کریں گے تاکہ علم و ادب کے دلدادہ لوگوں کو اپنے فن کے اظہار کا موقع ملتا رہے۔ آخر میں پرنس اقبال گورایہ نے آنے والے تمام مہمانوں شعراءاور تعاون کار ملک خالد اعوان کا شکریہ ادا کیا۔