”سوات امن معاہدہ کر کے طالبان نے تقویت حاصل کر لی“

نیویارک (نمائندہ خصوصی) امریکی ذرائع ابلاغ پاکستان کی صورتحال کے بارے میں مسلسل تبصرے کر رہے ہیں۔ نیوز ویک کے مطابق پاکستان گھیرے میں آ چکا ہے، گذشتہ ماہ سوات امن معاہدہ کر کے طالبان نے تقویت حاصل کر لی۔ جریدے نے لکھا ہے کہ پاکستان کے حالات اتنے بھی سنگین نہیں جتنے محسوس ہوتے اگر فوج بعض مقامات پر انتہا پسندوں کو نہیں روک سکی تو دوسرے مقامات پر انہوں نے حیرت ناک کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ یہ ایسی کامیابیاں ہیں جو مجموعی طور پر ایک قوم کو آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرتی ہیں۔ جریدے کے مطابق بالآخر امریکہ کو بتایا گیا ہے کہ پاک فوج ملک کو عسکریت پسندوں سے درپیش خطرات کے بارے میں سنجیدہ ہو گئی ہے۔ اب فوج عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کا حقیقی جواب دے رہی ہے۔ اور سوات سے باہر تک پھیل جانے والے جہادیوں کا راستہ روکنے کے لئے فوج بھیجی جا رہی ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق صدر اوباما نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں پاکستان کے اس سرکاری موقف کو تسلیم کیا کہ ایٹمی ہتھیار مکمل طور پر حکومت پاکستان کے کنٹرول میں ہیں مگر پاکستان بھر میں طالبان کی فوج اور سیاسی کامیابیوں کے پیش نظر اوباما کے الفاظ زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ اخبار نے کہا کہ ہماری اور ہمارے اتحادیوں کا تقاضا ہے کہ مزید دشمنوں کا راستہ روکا جائے خصوصاً ایسے دشمنوں کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے جو ہمارے نظریات اور فکر کے مخالف ہیں۔