امریکہ زرداری اور نوازشریف میں پاور شیئرنگ کیلئے شدید دباﺅ ڈال رہا ہے: برطانوی اخبار

لندن (آصف محمود سے) برطانوی اخبار \\\"دی آبزرور\\\" کے مطابق امریکہ کو پاکستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش ہے اور اوباما انتظامیہ کو اس بات کا ادراک ہوچکا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اس صورتحال کا اکیلے مقابلہ نہیں کرسکتے لہٰذا امریکہ کی طرف سے صدر زرداری اور نوازشریف کے درمیان پاور شیئرنگ کیلئے بھرپور دباﺅ ڈالا جا رہا ہے۔ امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگلے دو ہفتے پاکستان کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ آبزرور کے مطابق اگرچہ صدر زرداری اور نوازشریف کے درمیان ماضی میں اکٹھے کام کرنے کی کوئی اچھی مثال موجود نہیں لیکن اسکے باوجود امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور صدر اوباما کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان و پاکستان رچرڈ ہالبروک نے دونوں رہنماﺅں پر زور دیا ہے کہ وہ پاور شیئرنگ کیلئے ایکدوسرے سے تعاون کا طریقہ کار طے کریں۔ پاکستان میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی بحران کی وجہ سے امریکہ میں اس حوالے سے سفارتی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ صدر بارک اوباما نے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں مرکزی حیثیت دیدی ہے اور آئندہ دنوں میں پاکستان پر فوکس مزید بڑھ جائیگا۔ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے گزشتہ روز دیگر امریکی حکام کیساتھ پاکستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ بدھ کو افغان صدر حامد کرزئی اور صدر آصف زرداری کی امریکی صدر اوباما سے واشنگٹن میں ملاقات ہورہی ہے جس میں طالبان کیخلاف اب تک کی کامیابیوں اور طالبانائزیشن کی وجہ سے پاکستان جیسی نیوکلیئر ہتیھار رکھنے والی ریاست کو درپیش ممکنہ خطرات پر تبادلہ خیال ہوگا۔