امریکہ پاکستان میں جمہوریت اور سویلین حکومت کا حامی ہے اوباما انتظامیہ

واشنگٹن(نمائندہ خصوصی) پاکستان میں زرداری گیلانی حکومت کے ممکنہ خاتمے کی اطلاعات کے بعد اوباما انتظامیہ نے پر زور الفاظ میں کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں جمہوریت اور سویلین حکومت کا حامی ہے۔ وائٹ ہاﺅس کے ترجمان رابرٹ گبز اور وزارت خارجہ کے ترجمان فلپ جے کراﺅلی نے گزشتہ روز یہاں معمول کی بریفنگز کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ پاکستانی عوام نے واضح کردیا ہے کہ وہ آمریت پر سویلین حکومت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اوباما انتظامیہ پاکستان میں جمہوریت کی مکمل حماےت کرتی ہے تاہم وہاں سویلین حکومت کوکون چلائے گا؟ یہ معاملہ پاکستانی عوام پر چھوڑتے ہیں، افغانستان میں نیٹو فورسز کیلئے سپلائی کے اور بھی روٹس ہیں تاہم پاکستان کے راستے سپلائی روٹ انتہائی اہم ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان فلپ جے کراﺅلی نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہمارا تعاون مثالی رہا ہے دونوں ممالک نے تمام معاملا ت پر سٹرٹیجک مذاکرات شروع کیے ہیں تاہم شراکت داری میں سکیورٹی ایک اہم عنصر ہے دونوں ممالک کے درمیان سٹرٹیجک مذاکرات کا اگلا دور اگلے ماہ واشنگٹن ڈی سی میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام نے واضح کردیا ہے کہ وہ ملک میں آمریت کی بجائے جمہوریت کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نہ صرف پاکستان میں جمہوری حکومت کی حمایت کرتا ہے بلکہ حکومت کی صلاحیت میں اضافے کیلئے اس کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکام صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم سید رضا گیلانی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل اشفا ق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سمیت دیگراعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں پاکستان کے ساتھ ہماری بات چیت فوجی اور سویلین دونوں سطح پر ہوتی ہے جو دو طرفہ حقیقی شراکت داری کی ایک مثال ہے۔ ایک سوال کے جوا ب میں فلپ جے کراﺅلی نے کہا کہ افغانستان میں نیٹو فورسز کیلئے سپلائی کے اور بھی روٹس ہیں تاہم پاکستان کے راستے سپلائی روٹ انتہائی اہم ہے۔ وائٹ ہاﺅس کے ترجمان رابرٹ گبز نے بریفنگ کے دوران کہا کہ نومبر میں صدر باراک اوباما کے متوقع دورہ بھارت کے دوران پاکستان اور افغانستان کی موجودہ صورتحال کے علاوہ عالمی معیشت اور دوطرفہ تجارتی تعلقات اہم پہلو ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے نکتہ نظر سے واضح طور پر پاکستان اور افغانستان اہم ممالک ہیں چنانچہ صدر اوباما کی بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک کی صورتحال اہمیت کی حاصل ہوگی۔