ٹیکسلا اور واہ کینٹ میں چور‘ ڈاکو سرشام سرگرم

قاری ولی الرحمن  …… ٹیکسلا
ٹیکسلاواہ سرکل کا علاقہ دارلحکومتی شہر اسلام آباد، راولپنڈی سے ملتا جلتا علاقہ ہے۔ اس علاقہ میں صنعتی دفاعی اداروں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ کارخانے بڑی تعداد میں موجود ہیں، اسی حوالے سے ٹیکسلا واہ سرکل کے علاقہ کو محنت کشوں کا دیس’’مزدوروں کی بستی‘‘ کہا جاتا ہے، یہاں کی سیاسی قیادتوں میں مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء چوہدری نثار علی خان اور ان کے مدمقابل سیاسی رہنماء غلام سرور خان کا تحریک انصاف کے ساتھ تعلق ہے۔ مشرف دورحکومت میں غلام سرور خان وفاقی وزیرکے عہدہ پر فائز رہے اور اب موجودہ صورتحال میں چوہدری نثارعلی خان این اے 52 روات کلر سیداں کی نشست سے منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم میاں نوازشریف کی کابینہ میں وفاقی وزیر داخلہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ غلام سرور خان این اے 53 سے رکن قومی اسمبلی ہیں، یہاں دونوں جانب کی سیاسی قیادتیں ایک مضبوط اور طاقتور نیٹ ورک کی مالک ہیں، تاہم علاقہ میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہ ہے،کسی دور میں ایک سینئر پولیس آفیسر نے ایک موقع پرکہا تھا کہ ’’پولیس جاگ رہی ہو تو جرم سو جاتا ہے‘‘ لیکن ٹیکسلا واہ سرکل کے علاقوں میں موجودہ صورتحال سینئر پولیس آفیسرکے کہے گئے جملے کے بالکل برعکس ہے۔ شام ہونے کے بعد چوروں ڈکیتوں اور رہزنوں کی سرگرمیاں تیز ہو جاتی ہیں، جبکہ رات کے اوقات میں گشت کا دعویٰ کرنے والی پولیس معلوم نہیں کہاں آرام کر رہی ہوتی ہے، چند ماہ قبل نامعلوم مسلح ڈاکو رسہ گیری کی واردات کرتے ہوئے موہڑہ ملیاراں کے علاقہ میں رہائش پذیر محمد ارشاد عرف شادہ کے ڈیرہ پرگئے اور اسکے بچوں کو چارپائیوں کے ساتھ باندھنے کے بعد اسکے ڈیرے پر موجود قیمتی مالیتی بھینسوں کو اپنے ساتھ لائی گئی گاڑیوں پر لوڈکرکے لے گئے، شادے نے مزاحمت کی کوشش کی تو اسے پسٹل اور بندوقوں کے بٹ مارکر زخمی کرگئے۔ متذکرہ واردات کا سراغ لگانا ابھی باقی تھا کہ 10اپریل کو نامعلوم مسلح ڈاکوئوں کے گروہ نے ٹیکسلا یونیورسٹی کے ساتھ نہر لنک روڈ پرابرار احمدکے ڈیرے پرکامیاب واردات کی اور وہاں سے آٹھ بھینسیں اسکے پاس موجود اسی ہزار روپے کی نقد رقم بشمول تیس من گندم مکئی شہزورگاڑیوں میں لوڈکرکے فرار ہوگئے۔ واردات کرنے سے قبل ڈاکوئوں نے حفاظت کے لئے رکھے گئے کتوں کو زہریلی چیز دے کر مار دیا۔ اس کے بعد ابرار اور اسکے بیٹوں کو ایک کمرے میں بندکرکے بڑے پرسکون اندازمیں اپنی کارروائی مکمل کی۔ صبح کے وقت دودھ لینے کے خریدار ابرارکے ڈیرے پر پہنچے تو وہاں کی دنیا ہی بدلی ہوئی تھی، علاوہ ازیں ٹھٹھہ خلیل روڈکے اطراف آباد متعدد دیہاتوں میں بھی رات کے اوقات میں پشتو بولنے والوں کی ٹولیاں لوٹ مارکرنے کے لئے بڑی دلیری کے ساتھ دندنا رہی ہوتی ہیں۔ جبکہ ایچ ایم سی روڈ کے اطراف میں جدید بستیوں کے ٹائونز میں بھی رہائش پذیر لوگ آئے روزکی وارداتوں سے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پولیس چوکیوں کے انچارج اور ماتحت عملہ مختلف رابطہ سڑکوں پرخود ساختہ ناکے لگاکر اپنی مخصوص وارداتوں میں مگن رہتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹیکسلا واہ سرکل کے علاقوں میں جرائم کی دنیا سے وابستہ عناصرکو پولیس پر بالادستی حاصل ہو چکی ہے۔ جرائم کے اڈے پوری طرح آباد ہیں اور پولیس فرضی کہانیوں اور جعلی بیان بازیوں کے ذریعے افسران بالاکی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے۔ مقامی سطح پر سیاسی رہنمائوں کو اقتدار کا زمانہ ’’جاڑے کے موسم‘‘ کی طرح کاٹنا پڑ رہا ہے کیونکہ واقفان حال کاکہنا ہے کہ مقامی سطح پر تحصیل انتظامیہ سے لیکر محکمہ مال، ٹی ایم اے، پولیس، محکمہ واپڈا، محکمہ سوئی گیس کے دفاتر میں کسی بھی غریب آدمی کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کے ازالہ کے لئے اقتداری گروپ سے متعلق کسی کوکوئی اختیارنہیں۔ عوام بے چارے کٹی پتنگ کی طرح امید بھری نظروں سے کبھی ایک طرف اورکبھی دوسری طرف دیکھنے پرمجبور ہیں۔ مقامی سطح پر پولیس کی پھرتیاں اور من مانیاں بھی اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ یہاں تعینات پولیس افسران اور ماتحت عملہ ضلعی بااختیار افسران کی باز پرس سے مکمل طور پرمستثنیٰ ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے علاقہ سے جرائم کے خاتمہ کے لئے چند ماہ قبل ٹیکسلا واہ سرکل کے علاقوں میں صوبہ خیبر پختون خواہ اور اسکے ساتھ ملحقہ ایجنسیوں سے متعلق لوگوں کی اکثریت جو یہاں منتقل ہوچکی ہے،کا تفصیلی سروے کرنے کے احکامات جاری کئے تھے، ان کے احکامات کی روشنی میں متعلقہ ماتحت اداروں نے عمل درآمد یقیناً کیا ہوگا۔ تاہم ابھی تک اس معاملہ میں کوئی قابل عمل اور قابل ذکر بات سامنے نہیں آئی۔