معاشرے کا تاریک پہلو

حرافیض …… لاہور گریژن یونیورسٹی)
خود کشی ایسا فعل ہے جسے انسان ارادتاً کرتا ہے اور اپنی زندگی کا خاتمہ کرتا ہے۔ خودکشیاں زیادہ تر لوگ ذہنی تنائو ، پریشانی کی حالت، ڈپریشن یا نشے کی حالت میں کرتے ہیں۔ خود کشی کے واقعات میں لوگ مالی حالات سے پریشان ہوکر یا اپنے اردگرد کے ماحول  میں رشتوں میں خرابی کے باعث بھی خودکشی کے بہت سارے واقعات پیش آتے ہیں ہمارے ہان خود کشی کے واقعات دن بدن بڑھتے جارہے ہیں جن میں کچھ تو اخبار کی سرخی میں جگہ بنا لیتے ہیں مگر زیادہ تر اخبار تک پہنچے سے محروم رہتے ہیں لمحہ فکریہ یہ ہے کہ خودکشی کرنیوالوں میں زیادہ تر ہمارا نوجوان طبقہ شامل ہے ایک سروے کے مطابق نوجونوں میں خودکشی کی زیادہ تر وجوہات ’’محبت‘‘ ہے یعنی محبت میں ناکامی یا دھوکہ کی صورت میں متاثرہ شخصیت اپنی زندگی کو بے کار سمجھتے لگتا ہے اور آخر کاروہ کچھ روز بعد خود کشی کرکے خود کو ختم کرنے پر ترجیح دیتا ہے۔ مگر ان میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں ہے جو گھریلو مسائل والدین یا سرپرست کی بے جا سختی ڈانٹا سے تنگ آکر یہ گھنائونی حرکت کرتے ہیں جبکہ ان میں ایسے نوجوان بھی موجود ہیں جوکہ تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے گھر والوں کے ڈر سے معاشرے میں شرمندگی اور مستقبل کے تباہ ہونے کے خوشے سے موت کے گلے لگا لیتے ہیں خیر خود کشیوں میں اور بھی کئی وجوہات ہیں جوکہ خودکشی کا سبب بنتی ہیں جن میں تو بیان کرنا محال ہے یہاں پر ایک بات کو بھی نظر انداز کرنا بھی درست نہ ہوگ اکہ ہمارے معاشرے میں کچھ تو خود کشیاں ہوتی ہیں اور کچھ مخالفین کے عذاب کا نشانہ بنانے کے بعد خودکشی کارنگ دے دیا جاتا ہے میرے خیال میں ہماری نوجوان نسل میں غصہ اور عدم براداشت کوٹ کوٹ کر بھراہوا ہے غصہ ایسی بیماری ہے جس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہوجاتی ہے ذراسی بات پر ناجانے کیا کچھ ہو جاتا ہے اور یہی وہ غصہ ہے جو انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرجاتی ہے یہ وہ غصہ ہے جس کا کل ہماری نوجوان نسل موت کی آغوش میں سو جاتا ہے بہتر سمجھتی ہے بظاہر ایسا ہی ہوتا ہے وہ خود کو تو دنیا کے ہر مسئلے سے آزاد کرلیتے ہیں مگر جو زندہ ہیں ان کو ہزاروں قسم کے مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں وہ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ غیور لوگ مرا نہیں کرتے بلکہ مار دیئے جاتے ہیں نوجوان طبقے میں خودکشی کرنے والوں میں لڑکیاں بھی خاصی تعداد میں شامل ہیں۔ خود کشی کا عمل مایوسی کی کئی انتہا سے شروع ہوتا ہے معاملہ اگرچہ کچھ بھی ہو مگر لوگوں کے زہن میں سوئی اسی ایک پوائنت معاملات کچھ ٹھیک نہیں ہے پر اٹکی ہوتی ہے  لڑکی توپنی جان لے کر ایک طرف ہو جاتی ہے مگر وہ یہ نہیں سوچتی کہ اپنی اس حرکت سے اپنا ماں باپ، بہن بھائی اور دیگر خاندان والوں کو کس اذیت سے دوچار کیا ہے خودکشی کرنے سے پہلے لڑکیاں یہ بھی نہیں سوچتیں کہ جس طرح پھول ایسی لطافت کیلئے ، چٹانیں مضبوطی کیلئے اور سمندر وسعت کیلئے ہوتا ہے اسی طرح وہ اپنے بابل کا سرفخر سے بلند کرنے کیلئے ہوتی ہیں
بیٹیوں کی غلط حرکت کے بعد ماں باپ ایک ایک پل میں ہزار بار مرتے اور ہزار بار جیتے ہیں ایک بارمرنا تو آسان ہوتا ہے مگر روز روز تڑپ تڑپ کرجینا بہت مشکل کام ہے خود کشی کو ہمارے دین میں حرام قرار دیا گیا ہے اور ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس قابل مذمت کام کو سرانجام دینے سے گریز نہیں کرتے جبکہ انگلینڈ  ایک ایسا ملک ہے جہاں خودکشی کرنے والے کی سزا موت ہے ، ہمارے ملک کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں ان حالات میں ہرلڑکی کو اپنی حفاظت خود کرنی چاہیے۔ یہاں پر انسانوں کے روپ میں جانور گھومتے ہیں۔ جوموقع کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ ان کو موقع ملے اور وہ اپنا مقصد حاصل کریں  آج ہم خود کو اتنا کمزور ثابت کررہے ہیں کہ ہم میں عقل و شعور نہیں ہے اگر کوئی ہم سے ہنسی کی بات کرے تو ہم اس کو اپنے خیالات میں جگہ دینے لگ پڑتے ہیں جبکہ دو جملوں کے تبادلے سے محبت کا تبادلہ کیسے شروع ہوسکتا ہے آخر کب تک ہمارے والدین ہمارے بھائی ہمیں انگلی پکڑ کر چلیں گے کب تک ہم سہاروں کی تلاش میں رہیں گے اور اپنے بل بوتے  پر کچھ نہیں کریں گے
ہمارے دین نے جہاں آزادی دی ہے وہیں ہمارے لئے کچھ پابندیاں بھی عائد کی ہیں تاکہ معاشرے میں بگاڑ پیدا نہ ہوہمیں اپنی حدود میں رہ کر سوچ سمجھ کر ہی کوئی قدم اُٹھانا چاہیے تاکہ آنیوالی ممکنہ پریشانی سے بچاجاسکے ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے بس تھوڑے سے حوصلے، ہمت اور حاضر دماغی کی ضرورت ہوتی ہے۔ خودکشی کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ گھمبیر ہو جاتے ہیں حوصلہ پست کرنے سے مدمقابل دشمن اور مضبوط ہوتا ہے ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مرنے کے بارے میں سوچنے کی بجائے جینے کے انداز بول دیئے جائیں اور ایسے انداز اپنانے جائیں کہ لوگ دنگ رہ جائیں اور آپکو دیکھ کر کوئی دوسرا بھی مایوسی کے اندھیروں سے نکل آئے اور نئی زندگی کا آغاز ایک نئے اور حوصلے سے کرے ۔