لاہور‘ تین ماہ میں چودہ ہزار سے زائد وارداتیں

لاہور‘ تین ماہ میں چودہ ہزار سے زائد وارداتیں

صوبائی دارالحکومت میں 2014ء کے پہلے 3 ماہ میں جرائم پیشہ عناصر کی کارروائیاں عروج پر رہی ڈاکوؤں‘ چوروں کی لوٹ مار نے شہریوں کو مکمل طور پر غیر محفوظ کر دیا دن دیہاڑے ڈکیتیوں کی وارداتیں ہوتی رہی اور مزاحمت پر متعدد شہریوں کو قتل کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر میں قتل‘ اندھے قتل‘ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بھی دھڑلے سے جاری ہیں اور ’’بے بس‘‘ پولیس جرائم کے بے لگام گھوڑوں کو لگام ڈالنے میں مکمل ناکام نظر آئی۔ 2014ء کے پہلے تین ماہ میں مختلف جرائم کی مجموعی طور پر 14 ہزار 2 سو 72 وارداتیں ہوئی ان وارداتوں میں شہریوں کو جانی نقصان کے ساتھ اربوں روپے مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا ان وارداتوں نے پولیس کی کارکردگی کے دعوؤں کے تمام پول کھول دیئے ہیں بڑھتی ہوئی وارداتیں آپریشن ونگ کی ناکامی ہے۔ شہر میں پولیس پٹرولنگ نہ ہونے کی وجہ سے یہ وارداتیں بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ دوسری ان بڑھتی ہوئی وارداتوں کے ملزمان کی گرفتاری انویسٹی گیشن ونگ کی ذمہ داری ہیں جس میں ناکامی کی وجہ سے ملزمان قانون کی گرفت میں نہیں آرہے اور وارداتیں ہیں کہ روکنے کا نام بھی نہیں لے رہی۔ شہر کی اس صورتحال پر قائم مقام ڈی آئی جی آپریشن رانا عبدالجبار اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ذوالفقار حمید شاید مطمئن ہیں لیکن شہر لاہور کے باسی اس صورتحال سے شدید پریشان ہیں۔ ایک جانب شہری جرائم پیشہ عناصر کی وارداتوں سے خوف و ہراس میں مبتلا ہیں جبکہ دوسری جانب ان وارداتوں کے مقدمات کا اندراج شہریوں کیلئے بڑی کامیابی سے کم نہیں۔ پولیس اپنی ناکامی چھپانے کیلئے مقدمات کا اندراج نہیں کر رہی اور شہریوں کو کئی کئی ہفتے تھانوں کے چکر لگا کر خوار کیا جاتا ہے۔ 2014ء میں مختلف وارداتوں پر  درج کئے گئے مقدمات جس سے 670 مقدمات خارج کر دیئے گئے ہیں یا تو یہ مقدمات پولیس اہلکاروں نے رشوت لیکر مخالفین کے کہنے پر درج کئے یا پھر وارداتوں میں ملوث بااثر ملزمان کی جانب سے دکھائی جانے والی نوٹوں کی چمک کے بعد یہ ملزمان ’’مجرم سے محرم‘‘ بن گئے۔ 3 ماہ میں ہونے والی ان وارداتوں میں پولیس کا انویسٹی گیشن ونگ تاحال 8 ہزار 64 وارداتوں کے ملزمان کا کوئی سراغ نہیں لگا سکی جو انویسٹی گیشن پولیس کے کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ ان گزرے 3 ماہ کے دوران ملزمان وارداتیں کرتے رہے اور پولیس ’’سوتی رہی‘ سوتی رہی‘‘ شہر میں 1 ہزار 8 سو 14 شہریوں کو کروڑوں مالیت کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے محروم کر دیا گیا جبکہ لاہور پولیس 1 ہزار 4 سو 80 وارداتوں کے ملزمان کا سراغ تاحال نہیں لگا سکی پولیس کی یہ کارکردگی شہریوں کیلئے کسی صدمہ سے کم نہیں اور شہری خود کو مکمل طور پر غیر محفوظ سمجھتے ہیں لیکن شہریوں کو شاید لاہور پولیس کی کارکردگی کے متعلق معلوم نہیں پولیس ملزمان کو گرفتار ضرور کرتی ہے لیکن ملزمان پولیس کی حراست سے فرار ہو جاتے ہیں جیسے گذشتہ دنوں برکی پولیس کی حراست سے 2 خطرناک ملزمان فرار ہو گئے۔ پولیس میں ایسے ضرور ہیں جن کی غفلت و لاپرواہی اور عدم توجہ کی وجہ جرائم کی وارداتیں روکنے کا نام نہیں لے رہی لیکن ایسے افسران بھی موجود ہیں جو پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ماتھے کا جھومر ہیں جہاں ایک طرف پولیس افسران کی ناکامی کی وجہ محکمہ کی بدنامی ہو رہی ہے۔ وہاں ایسے افسران بھی موجود ہیں جن سے محکمہ کی شان بڑھتی ہے اور پولیس افسران سر اٹھائے فخر سے چلتے ہیں پولیس کی ساکھ کو بہتر بنانے میں سی آئی اے پولیس کا کردار سب سے اہم ہے سی آئی اے کوتوالی کے ڈی ایس پی خالد ابوبکر اور سی آئی اے نواں کوٹ کے ڈی ایس پی فیاض احمد کا شمار ان پولیس افسران میں ہوتا ہے جو پولیس کا امیج بہتر رکھنے کیلئے کوشاں ہیں ان افسران نے متعدد ڈکیت گینگز بھی گرفتار کئے جو سینکڑوں وارداتوں میں ملوث تھے اس کے ساتھ ساتھ بھتہ خور و دیگر خطرناک ملزمان کو بھی گرفتار کرنے میں کامیاب رہے۔ شہریوں کی حفاظت کیلئے خالد ابوبکر اور فیاض احمد جیسے پولیس افسران کی ہر تھانے میں موجودگی ناگزیر ہے۔ لیکن مستقبل میں دیکھنا ہو گا یہ افسران اپنی کارکردگی کی بہتری کی جنگ جاری رکھتے ہوئے خطرناک ملزمان کی گرفتاری کا سلسلہ جاری رکھیں گے یا بہت سے دوسرے پولیس افسران کی طرح محکمہ پر بوجھ بن جائیں گے شہر میں وارداتوں کے جاری سلسلہ کو روکنے کیلئے پولیس کے تمام وینگز کو بھرپور کوشش کرنا ہوگی۔ پولیس کو یاد رکھنا چاہئے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی ذمہ داری ہے اور پولیس کے وجود کا واحد مقصد بھی یہی ہے۔