سپریم کورٹ بار تحفظ پاکستان بل کیخلاف تحریک چلانے سے گریز نہیں کرے گی

سپریم کورٹ بار تحفظ پاکستان بل کیخلاف تحریک چلانے سے گریز نہیں کرے گی

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا ملک میں جمہوریت کی بحالی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور حکومتوں  پر اہم ایشوز پر تنقید کے حوالے سے اہم کردار رہا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر کامران مرتضیٰ سیکرٹری آصف محمود چیمہ ممبر ایگزیکٹو کمیٹی علیم بیگ چغتائی اور میاں محمد سعید سے تحفظ پاکستان بل سمیت اہم قومی اور قانونی ایشوز پر نوائے وقت سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سپریم کورٹ بار کے صدر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ تحفظ پاکستان بل عدلیہ کے حوالے سے توہین آمیز و دستور سے متصادم اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ وکلا اس بل کی مذمت اور اسے مسترد کرتے ہیں بل کو پارلیمنٹ نے منظور کیا تو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا اور اس کے لئے وکلاء تحریک چلانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ تحفظ پاکستان وکلاء کے دیباچہ میں کہا گیا ہے کہ یہ بل سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد بنایا گیا ہے جو توہین عدالت کے مترادف ہے یہ بل صوبائی خودمختاری کے خلاف ہے 18ویں ترمیم میں امن و عامہ کا معاملہ صوبوں کے دائرہ اختیار میں دیا گیا تھا انہوں نے بل  کے ذریعے پھر واپس لے لیا اور بعض معاملات میں صوبائی ہائی کورٹس کو بھی بائی پاس کیا ہے حکومت نے چھوٹے صوبوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ سیکورٹی کے نام پر ان کے اختیارات چھینے جا رہے ہیں دستور پاکستان کے آرٹیکل 232کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط ہے۔ مگر اس بل کے تحت ایمرجنسی کے تمام اختیارات مختلف ناموں سے تفتیشی اداروں کو دے دئیے گئے ہیں کسی بھی الزام کو ثابت کرنے کی ذمہ داری پراسیکیوشن سے اتار کر ملزم کے سر پر مسلط کر دی گئی ہے تاکہ وہ پوری زندگی اپنی بے گناہی ثابت کرتا ہوا گزار دے۔ اس کے علاوہ پری ٹرائل اور بعد از ٹرائل میں بھی ملزم کے حقوق کو چھین لیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ تحفظ پاکستان بل میں فورسز کو استعمال کیا گیا ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جو بھی حکومتی یا اداروں کے اہلکار عوام کے خلاف استعمال ہوتے ہیں عوام ان کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتے یہ بل خامیوں کا مجموعہ ہے وکلاء اس کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے مگر اس آزادی کے نام پر دفاعی اداروں کو نقصان پہنچانے کی بھی مخالفت ہے انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے جب اہم ترین ادارے میں بیٹھ کر سیاست کی تو باقی اداروں نے بھی اس کا اثر لیا۔ مگر ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد عدلیہ بہت تبدیل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کے مسائل کا حل ان کی اولین ترجیح میں شامل ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قرآن و سنت کے مطابق جس سزا کا واضح حکم ہو اس بارے بحث کرنا ہی غلط ہے اس لئے اسلام نے سزائے موت سے متعلق واضح فیصلہ کر دیا ہے۔ جس کا نفاذ حکومتوں کی ذمہ داری ہے سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری آصف محمود چیمہ نے کہا کہ وکلاء برادری تحفظ پاکستان بل کو بہت سنجیدہ ایشو سمجھتی ہے۔ یہ آرڈنینس دستور ہے آرٹیکلز 9,10,11,12,14,18 اور 25 سمیت دیگر بنیادی حقوق کے آرٹیکلز سے متصادم ہے جسے وکلاء ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ معاشرے کے دیگر طبقات کے برعکس وکلاء پر اسی بات کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حکومت کی کسی بھی غیر آئینی کوشش کی راہ میں دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں۔ کیونکہ اگر وکلاء برادری نے ہی غیر آئینی اقدامات اور قوانین کے نفاذ میں سمجھوتہ کر لیا تو پھر باقی عوام سے کیا توقع کی جا سکتی ہے اس بل سے دستور کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے اس بل  کو تو آئینی ترمیم کے ذریعے بھی شامل نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت ملک کو حالت جنگ میں قرار دے کر اس بل کا نفاذ کرنا چاہتی ہے۔ جب کہ دوسری طرف ملک کو حالت جنگ میں مبتلا کرنے والوں کے ساتھ گفتگو بھی ہو رہی ہے حکومت کو اپنا دوہرا معیار ختم کرنا چاہئیے۔ اگر حکومت دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے مختصر مدتی قانونی فارمولہ وضع کرنا چاہتی ہے تو وہ اس کو باقاعدہ قانون بنانے کی بجائے بطور آرڈنینس چند ماہ کے لئے نافذ کریں انہوں نے کہا کہ موجودہ باڈی اپنی مدت میں ہی جوڈیشل کمپلیکس اور سپریم کورٹ کے وکلاء کے لئے ہائوسنگ کالونی کا مسئلہ حل کر لے گی اس کے لئے بنائی گئی کمیٹی کے اجلاس منعقد کئے جا رہے ہیں۔ وکلاء کا  ایک اور مسئلہ وکلاء کو سپریم کورٹ کے کیسز کی تاریخ سے کم از کم 15 روز قبل آگاہ کرنا ہے ہم نے فاضل عدالت سے استدعا کی ہے کہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے ساتھ دوسرے وکیل کو بھی تاریخ سے آگاہ کیا جائے۔ ابھی تک تو اس بارے کچھ نہیں ہوا مگر امید ہے کہ جلد ہی مسئلہ حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا گروپ آئندہ الیکشن میں بھی عاصمہ جہانگیر کی سربراہی میں کامیابی حاصل کرے گا۔ سپریم کورٹ بار کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن علیم بیگ چغتائی نے کہا کہ تحفظ پاکستان بل ایک کالا قانون ہے جس کے ذریعے ملزم کا ضمانت کروانے اور اپنے عزیز و اقارب سے ملاقات کا بنیادی حق بھی چھین لیا گیا ہے ضابطہ فوجداری کے سیکشن 374 کے تحت سیشن کورٹ سے سزائے موت کے بعد اس پر عملدرآمد سے پہلے ہائی کورٹ میں ریفرنس بھیجا جانا ضروری ہے مگراب اس کو ختم کر کے 15 روز میں سپریم کورٹ سے براہ راست رجوع کرنا ضروری قرار دے دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ملزم کے لئے اپیل کا فورم ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھاری پیمانے پر اس قانون کا غلط استعمال کیا جائے گا۔ عوام کو انتقام کا نشانہ بنایا جائے گا۔ جو بھی حکومت پر تنقید کرے گا۔ اس کو غائب کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا جائے گا۔ اس بل میں پولیس افسر کو براہ راست گولی مارنے کا بھی اختیار دے دیا گیا ہے  اس طرح کا قانون تو کسی آمر نے بھی اپنے دور میں نہیں بنایا۔ چیف جسٹس آف پاکستان یہ قرار دے چکے ہیں کہ قومی سلامتی کے نام پر شہریوں کی آزادی کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ ہی شہریوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ وکلاء کے علاوہ ایوان بالا یعنی سینٹ بھی اس کو کالا قانون قرار دے چکی ہے یہ بل لا تعداد  خامیوں کے ساتھ بنیادی حقوق اور اخلاقی اصولوں کے منافی ہے بنیادی قوانین کے مطابق جب تک کسی ملزم پر جرم ثابت نہ ہو جائے اسے سزا نہیں دی جا سکتی۔ مگر اس بل کے تحت شک کی بنا پر گرفتار شہری کو بھی مجرم تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی قوانین کا یہ بھی تقاضا ہے کہ گرفتار کئے جانے والے شخص کو وجوہات بتائی جائیں اور  24 گھنٹوں میں مجاز عدالت کے سامنے پیش کیا جائے مگر یہ حق بھی ختم کر دیا گیا ہے اس بل سے ملک پولیس سٹیٹ بن کر رہ گیا ہے۔ سپریم کورٹ بار کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن میاں محمد سعید نے کہا ہے کہ بار کے صدر اور سیکرٹری کی قیادت میں سپریم کورٹ بار کی ایگزیکٹو کمیٹی نے مذکورہ بل کے سامنے آتے ہی متفقہ طور پر اس کی شدید مذمت کی اور حکومت کو واضح طور پر آگاہ کیا کہ بل فوری طور پر واپس لیا جائے قوانین کے موثر اطلاق میں ناکامی کا ہر گز  مطلب نہیں ہے کہ بنیادی حقوق سلب کر لئے جائیں مذکورہ بل کی شدید مخالفت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اسی بل کے مستقبل کا فیصلہ عدلیہ کو ہی کرنا پڑے گا۔ سپریم کورٹ بار کے تمام عہدیداروں نے کہا کہ وکلاء نے ملک میں جمہوریت کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے 2007ء میں عدلیہ کی بحالی کے لئے چلائی جانے والی تحریک وکلاء کے مثبت کردار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اب بھی وکلاء اہم ایشوز پر اپنا موثر کردار ادا کرتے رہیں گے۔