دربار کی سجادہ نشینی کیلئے دو افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان گرفتار

طارق محمود عاجز  ……خانقاہ ڈوگراں
پولیس دو سال بعد نواحی گائوں شیروکی میں دو افراد کو زندہ جلانے والے ملزمان کا تعین کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ملزمان نے جائیداد اور دربار کی سجادہ نشینی کے تنازعہ پر سائیں عباس اور شہزاد رحمانی کو پٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیا تھا۔پولیس نے ،ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر5/12درج کیا تھا دوسال کی تحقیقات کے بعد کریمنل انویسٹیگیشن برانچ نے طارق ڈوگر،محمد اشرف سمیت سات ملزموں کو گناہگارقرار دے کر گرفتار کرلیا۔اس گائوں میں10/12افراد قتل ہوچکے مگر پولیس اندھے قتلوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے۔پنجاب میں قتل دشمنی کی زیادہ تر وجہ زن زر زمین ہے اس کی وجہ سے خاندان تباہ وبرباد ہوجاتے ہیں اور دشمنیاں نسل در نسل چلتی رہتی ہیں تھانہ خانقاہ ڈوگراں کے نواحی گائوں شیروکی میں دل دہلادینے والی ایسی ہی واردات ہوئی جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ اس گائوں میں با با شیر شاہ ولی کا دربار ہے جہاں مقتول با با سائیں عباس ولد محمد علی قوم جٹ گذشتہ14/15سال سے بطور خادم خدمات سرانجان دے رہا تھا جبکہ مقتول محمد شہزاد رحمانی اس کے خادمِ خاص کے طور پر رہ رہا تھا سائیں عباس حکمت وغیرہ کرتا تھا جبکہ شہزاد رحمانی دوائی وغیرہ بنانے میں مدد کرتا تھا اسی دربار پر ملزمان طارق ڈوگر اور شبیر انصاری سکنہ فیصل آباد بھی اکثر آتے اور راتیں گذارتے تھے مدعی مقدمہ محمد یوسف رحمانی نے بتایا کہ بابا سائیں عباس نے ملزم طارق ڈوگر کو 12لاکھ روپے کی خطیر رقم ادھار دے رکھی تھی جبکہ ملزم شبیر انصاری دربار کی سجادہ نشینی پر قبضہ کرنا چاپتا تھا مگر سائیں عباس کے وفادار ساتھیوں محمد شہزاد رحمانی کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہوتے تھے انتقام کی چنگاری اندر اندر ہی اندر ایک بھانبھڑ کی شکل اختیار کرچکی تھی اور ملزمان موقع کی تلاش میں تھے3جنوری سال2012کو ملزمان ملزمان اور مقتولین دربار پر اکٹھے دیکھے گئے ملزمان طارق ڈوگر،شبیر انصاری نے دیگر پانچ ساتھیوں کے ہمراہ مل کر رات گئے مقتولین کو چائے وغیرہ میں نشہ آور گولیاں کھلاکر اندونوں کو کلہاڑیوں کے وار سے بے دردی سے قتل کیا بعد ازاں ان کودربار سے ملحقہ قبرستان کے درمیان گڑھا میں لکڑیوں میں دباکرپٹرول چھڑک کر آگ لگادی جس کی وجہ سے دونوں کے جسم جل کر کوئلہ ہو گئے اور چند معمولی باقیات کے علاوہ سب کچھ راکھ کا ڈھیر بن گیا اہلِ علاقہ نے باقی بچ جانے والی باقیات سے دونوں کی شناخت کی واقع کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے اورفوری طور پر نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر5/12درج کیا پولیس اور مقتولین کے ورثاء نے قاتلوں کی تلاش شروع کی تو قاتلوں طارق ڈوگر وغیرہ نے دونوں افراد کے قتل کا الزام اسی گائوں کے رہائشی اپنے مخالفین محمد اسحاق کمبوہ اور اس کے بیٹے محمد ارشد پر لگایا پولیس نے تحقیقات میں ان کو بے گناہ قرار دے دیا جبکہ پنچائتی طور پر انہوں نے اپنی بے گناہ ہی قرآن پر حلف دے کر ثابت کی اور ضمانت کے طور پر30لاکھ روپے کا چیک بھی دے دیا جبکہ ملزمان طارق ڈوگروغیرہ صفائی اور ضامن دینے سے انکاری ہوگئے۔خفیہ طور پر اورمختلف ذرائع سے اس اندھے قتل کا سراغ لگانے کیلئے تحقیقات جاری رکھیں جس کی بنیاد پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن کریمنل برانچ لاہورنے تحقیقات اور تفتیش کیں توملزمان طارق ڈوگر ولد تاج دین سکنہ شیروکی جس نے سائیں عباس سے12لاکھ روپے اور4کنال زمین لے رکھی تھی
(2)شبیر ولد شریف انصاری سکنہ فیصل آباد جو کہ دربار کی گدی پر قبضہ کرنا چاہتا تھا اور سائیں عباس سے حسد کرتا تھا اور ان کے دیگر پانچ ساتھیوں محمد اشرف عرف کالوولد احمد علی ورک،ارشد ولد نور محمد ورک،مقبول ولد سخی محمدانصاری،غلام محمدولدنیامت ملک فیصل آباد،محسن رشیدولد بشیر احمدملک فیصل آبادکو قتل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انہیں گنہگار قرار دے دیا مقامی پولیس نے چار ملزمان کو گرفتار کرلیا جبکہ باقی تین کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔یہاں یہ امر انتہائی قابلِ ذکر ہے کہ گائوں شیروکی میں چند سالوں میں10سے12افرادقتل ہوچکے ہیں مگر اہلِ دیہہ اور قتل ہونے والوں کے لواحقین اور پولیس ان اندھے قتلوں کا سراغ لگانے اور ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔اہلِ دیہہ اور مدعی مقدمہ محمد یوسف رحمانی کے مطابق علاقہ کی اہم سیاسی شخصیت اپنی کرسی اقتدارکومضبوط کرنے کیلئے اندھے قتلوں کے ملزمان کو بے نقاب نہیں ہونے دیتی۔