خودکشیوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ

صدف نثار  ……لاہور گیریژن یونیورسٹی
بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اس سے پیدا ہونے والی مشکلات لوگوں میں مایوسی اور احساس کمتری کو جنم دیتی ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگ حالات سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اس کی سنگینی کا اندازہ اس رپورٹ سے بھی لگایا جاسکستا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق مختلف وجوہات کی بنا پر ایک ماہ کے دوران لاہور سمیت ملک بھر میں 114خواتین سمیت 319 افراد نے اقدام خودکشی کا ارتکاب کیا۔ ان میں سے 71خواتین جبکہ 213 افراد اپنی جان گواہ بیٹھے۔ جبکہ 43سمیت 106افراد کو فوری طبی امداد دے کر بچالیا گیا۔ ان افراد میں زیادہ تر تعداد مردوں کی ہے اور ان میں بھی زیادہ تر 16سے 50سال کی عمر کے درمیان کے افراد شامل ہیں۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 22فروری سے 25مارچ 2014تک اقدام خودکشی کا ارتکاب کرنے والوں کی تعداد 116رہی جن میں زیادہ تر گھریلوں مسائل اور جھگڑوں سے دلبرداشتہ ہوکر جبکہ 20افراد نے غربت بھوک و افلاس سے تنگ آکر اقدام خودکشی کا ارتکاب کیا۔ ان کے علاوہ90افراد نے زہر کھا کر خودکشی کی جبکہ 51 نے فائرنگ اور 34 نے گلے میں پھندے ڈال کر خود کو پھانسی لگالی۔ اوراس کے علاوہ مایوسی اور محبت میں ناکامی کی صورت میں بھی بہت سے ایسے خودکشیوں کے واقعات منظر عام پر آچکے ہیںجن واقعات کی کہانیاں دل دہلا  دینے والی ہوتی ہیں اور بعض واقعات سبق آموز بھی ہوتے ہیں اور اب تک کہ 319واقعات میں سے صرف 43واقعات کی ایف آئی آر درج ہوئی جب کہ رواں ماہ میں اب تک متعدد خواتین سمیت 36افراد نے اقدام خودکشی کا ارتکاب کیا تمام رپورٹ اور واقعات کی نوعیت دیکھنے کے بعدیہ ثابت ہوتا ہے کہ لوگ آجکل مایوسی کا بہت زیادہ شکار ہیںاور اس کی وجہ سے ڈپریشن میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں اور یہی ڈپریشن انہیں اقدام خود کشی کی طرف لے جاتا ہے معاشرے میں اس قدر غربت و افلاس ہے کہ غریب آدمی جب روٹی اور ضروریات زندگی کی اشیاء کو پوار نہیں کرپاتا تو حالات سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرلیتا ہے۔ اور اس کے علاوہ آجکل گھریلوں جھگڑوں سے خودکشی کرنے والوں کی خبروں سے اخبار بھرے پڑے ہیں۔  یہ تمام واقعات ایک جیسے ہی معلوم ہوتے ہیں۔ آج کل لوگ پریشانیوں کو صبروتحمل سے برداشت نہیں کرتے اور اقدام خودکشی مذہبی لحاظ سے بھی حرام ہے۔ اس کا ارتکاب کرتے ہیں جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کو مایوسی اور غربت اور افلاس اور ذہنی پریشانیوں سے نکلا جائے اور انہیں زندگی کی طرف واپس لایا جائے تاکہ ایک خوشحال پاکستان جوکہ 14اگست 1947ء کو اس نیت سے بنا تھا کہ یہاں ہر کوئی محفوظ ہے اور ہر کسی کو تحفظ مہیا کیا جائے گا پھر سے خوشحال ہو سکے اور نوجوان طبقہ جوکہ زیادہ تر اقدام خودکشی کی زد میں ہے اس سے باہر نکل سکے کیونکہ زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امانت ہے خداراہ اس زندگی کی قدر کریں۔ اور اپنے پیاروں کے لئے خوشیوں کا باعث بنے۔