پسند کی شادی رکوانے کیلئے بیٹی کو ملازم سے قتل کروایا

پسند کی شادی رکوانے کیلئے بیٹی کو ملازم سے قتل کروایا

میاں علی افضل
صوبائی دارلحکومت میں اندھے قتل کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے نوٹس پر آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے سی سی پی او امین وینس اور ایس پی سی آئی اے عمر کو اندھے قتلوں کی وارداتوں کی انوسٹی گیشن اور دھویں کی طرح غائب ہونیوالے خطرناک ملزمان کی فوری گرفتار ی کے احکامات دئیے جس پر ایس پی سی آئی اے عمر ورک کے احکامات پر ڈی ایس پی سی آئی اے خالد ابوبکر نے تحقیقات کیں تو سنسنی خیز انکشافات ہوئے ایک قتل کی ورادات میں باپ نے اپنی ذات ،برادری میں سر اونچا رکھنے اور لڑکے کے ’’پینڈو‘‘ دیہاتی ہونے پر پسند کی شادی کی خواہش رکھنے والی بیٹی کو ہی قتل کرا دیا اور بیٹی سے شادی کے خواہشمند لڑکے اور اس کے کزن پر بیٹی کے قتل کا مقدمہ درج کروا دیا پسند کی شادی کی خواہش رکھنے والی لڑکی گولیاں لگنے سے چل بسی جبکہ لڑکا اور اس کا کزن پولیس کے ہاتھوں ذلیل خوار ہوتے رہے قتل کے اصل ملزمان آزاد گھومتے رہے اور صلح کیلئے منہ مانگے پیسے مانگتے رہے۔ شاہدرہ پولیس کی ناقص تفتیش کے باعث کیس میں قتل کے ملزمان مدعی بن گئے جبکہ پولیس حراست میں قتل کے مقدمہ میں موجود بے قصور نوجوانوں نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے لاکھوں جتن کئے لیکن ان کی تمام تر کوششیں بے سود رہی6جون 2014کو شاہدرہ کے علاقہ مہر پورہ میں شوکت نامی شہری کے گھر مسلح شخص آ یا اور بغیر کسی لوٹ مار کے شوکت کی بڑی بیٹی18سالہ آمنہ کو دیکھتے فائرنگ کر دی مسلح شخص کو پکڑنے کی کوشش کے دوران مسلح شخص نے آمنہ کی چھوٹی بہن نصرت رمضہ کو بھی گولیاں مار دیں اور فرار ہو گیا فائرنگ سے آمنہ چل بسی جبکہ اس کی بہن نصرت رمضہ شدید زخمی ہو گئی لڑکیوں کے باپ نے منور نامی نوجوان اور اس کے کزن عامر پر بیٹی آمنہ کے قتل کا مقدمہ شاہدرہ تھانے میں درج کروا دیا شاہدرہ پولیس نے منور اور عامر کو حراست میں لیکر روایتی انداز میں تفتیش شروع کر دی تھانے میں ان کا خوب ’’استقبال ‘‘ کیا دونوں نوجوان اپنی بے گناہی کی قسمیں کھاتے رہے چیختے چلاتے رہے لیکن ان کی شنوائی نہ ہوئی اسی دوران لڑکیوں کے باپ شوکت نے صلح کیلئے 32لاکھ روپے مانگ لئے دونوں نوجوان منور ،عامر اور ان کے اہل خانہ شوکت کی منت سماجت کرتے رہے اور اپنے بیٹوں کی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے تمام تر کوششیں کی لیکن لڑکیوں کے باپ شوکت نے نوجوانوں کو قاتل قرار دیتے ہوئے پیسوں کے بغیر صلح سے انکار کر دیاتمام تر حالات کو دیکھتے ہوئے منور اور عامر اور ان کے اہل خانہ شدید مایوسی کا شکار تھے کیس سی آئی اے کوتو۳الی کے پاس پہنچنے پر ڈی ایس پی سی آئی اے کوتوالی خالد ابوبکر نے انسپکٹر صدیق کی مدد سے تفتیش شروع کی تو معلوم ہوا ہے کہ شوکت کی بیٹی آمنہ اسی محلے میں موجود منور نامی نوجوان سے شادی کی خواہشمند تھی منور مظفرگڑھ کا رہائشی تھا اور یہاں اپنے کزن عامر کے پاس رہتا تھا منور محنت مزدوری کرتا تھا آمنہ اور منور ایک دوسرے سے شادی کے خواہشمند تھے دونوں نے فیصلہ کیا کہ گھر کے بڑوں کی مرضی سے شادی کریں گے دونوں نے اپنے گھروں میں بتا دیا جس پر آمنہ کا باپ شوکت آگ بگولا ہو گیا اور منور سے شادی کی خواہش کرنے پر آمنہ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا باپ شوکت نے اپنی بیٹی آمنہ کو چند روز بعد سمجھایا کہ منور ’’پینڈو‘‘ دیہاتی ہے امیر بھی نہیںجبکہ ہماری ذات کا بھی نہیں اس سے شادی کی تو برادری اور رشتہ داروں میں ہماری ناک کٹ جائے گی لیکن اس کے باوجود آمنہ منور سے شادی کرنے پر بضد تھی مزید چند روز گزرنے کے بعد اچانک شوکت نے اپنی بیٹی آمنہ کی منور سے شادی پر آمادگی ظاہر کر دی جس پر آمنہ اور منور بہت خوش تھے پھر تقریبا ایک ماہ بعد ہی شوکت نے اپنے شاگرد فرحان کیساتھ ملکر اپنی بیٹی آمنہ کے قتل کا منصوبہ بنایا فرحان پہلے بھی جیل میں رہ چکا تھا اور وارداتوں میں ملوث رہا تھا فرحان نے فوری آمادگی ظاہر کردی شوکت نے فرحان کو آمنہ کی تصویر دکھا دی اور کہا میں دکان پر موجود رہو ں گا میرے گھر جا کر آمنہ کو قتل کرکے فرار ہو جانا اور مقدمہ منور اور عامر پر درج کرائیں گے اور بعد میں ان سے صلح کرکے ملنے والے پیسے تقسیم کر لیںگے جس پر فرحان نے پلاننگ کے مطابق شوکت کی بیٹی آمنہ کو قتل کیا فرا ر ہونے لگا تو آمنہ کی چھوٹی بیٹی نصرت رمضہ نے فرحان کو روکنے اور پکڑنے کی کوشش کی تو فرحان نے اسے بھی گولیاں مار دیں اور فرار ہو گیا آمنہ کے باپ نے فرحان کے ذیعے بیٹی کا قتل کروا کر قتل کا مقدمہ آمنہ سے شادی کے خواہشمند منور اور اس کے کزن عامر پر درج کروا دیا ان سے پیسے مانگتے رہے حقائق سامنے آنے پر منور اور عامر کے ورثاء ، قریبی رشتہ دار و اہل علاقہ کی بڑی تعدادڈی ایس پی سی آئی کوتوالی خالد ابوبکر کے پاس جا پہنچی کامیاب تفتیش، حقائق سامنے لانے اور اصل ملزمان کیخلاف کارروائی پر سی آئی اے کو دعائیں دیتے رہے سی آئی اے کوتوالی کیجانب سے اس اندھے قتل کی تفتیش سے بے قصور منور اور عامر پھانسی کی سزائوں سے بچ نکلے اور آمنہ کو قتل کرکے آزاد گھومنے والے اصل قاتل قانون کے کٹہرے میں پہنچ گئے پردے فاش ہونے پر آمنہ کا والد شوکت آنسو بہاتا رہا  اسی دوران کیس کی تفتیش پہنچنے پر ڈی ایس پی سی آئی اے کوتوالی خالد ابوبکر اورانسپکٹر صدیق پر مشتمل ٹیم نے چند ہفتوں کی تفتیش میں قتل کے اصل ملزمان کو بے نقاب کردیا سچائی سامنے آنے پرملزمان حیران ہو گئے اتنی بڑی پلاننگ پر ملزمان کو یقین تھا کہ پولیس کبھی بھی انھیں پکڑ نہیں پائے گی اور نہ ہی کیس سی آئی اے کے پاس جا سکے گا جبکہ تفتیش مکمل ہونے پر حقائق سامنے آتے ہی قتل کے جھوٹے مقدمہ میں پھنسائے جانیوالے نوجوانوں نے سکھ کا سانس لیا