والدین کے ہاتھوں جگر کے ٹکڑوں کے المناک قتل کا نہ رکنے والا سلسلہ

والدین کے ہاتھوں جگر کے ٹکڑوں کے المناک قتل کا نہ رکنے والا سلسلہ

احسان شوکت
azee_ahsan@hotmail.com
 ہمارا معاشرہ اتنی تیزی سے گراوٹ کا شکار ہو رہا ہے کہ لوگ اخلاقی و معاشرتی اقدار نظر اندازکرناتو دور کی بات اب درندگی کی حد یںبھی پار کرنے لگے ہیں ۔اولاد جو ماں باپ کے لئے اللہ رب العزت کی طرف سے سب سے بڑا انعام ہے ۔لیکن ہمارے معاشرے میں والدین کی جانب سے چھوٹی چھوٹی بات پر اپنے بچوں ،لخت جگر کے ٹکڑوں کو بیہمانہ طریقوں سے قتل کرنے کے واقعات آئے روز کا معمول بن چکے ہیں اور ماں باپ کی طرف سے اپنے بچوں، جگر کے ٹکڑوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرنے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ میں مختلف وجوہات پر 62بچے اپنے والدین کی انا بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔جنہیں سوچ کر بھی دل دہل اور کلیجہ پسیج جاتا ہے۔ کرب ناک صورتحال یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں مختلف وجوہات  پر ماؤںکے ہاتھوں بھی اپنے کمسن بچوں کے قتل کے بھی واقعات میں تیزی آ گئی ہے اورآئے روزماؤں کی جانب سے اپنے بچوں کو قتل کرنے کے دلخراش واقعات رونما ہو رہے ہیں ۔گزشتہ ہفتے سب سے دلخراش واقعہ لاہور کے علاقہ فیصل ٹاؤن میں پیش آیا ۔جب شوہر محمد اسلام سے جھگڑے کے بعد خاتون عابدہ پروین نے اپنے 2 بچوں10 ماہ کے ننھے بیٹے صدام حسین اور اڑھائی سالہ بیٹی ام فروا کو ایل ڈی اے فلیٹس کی چوتھی منزل سے نیچے پھینک کر خود بھی چھلانگ لگا دی۔جس سے 10 ماہ کا ننھا صدام حسین موقع پر ہی دم توڑ گیااور اس معصوم کی چیخ بھی نہ نکل سکی جبکہ اڑھائی ام فروا اور چھلانگ لگانے والی ماں عابدہ پروین شدید زخمی ہو گئی۔دونوں زخمیوں کو ریسکیو اہلکاروں نے طبی امداد کے لئے جناح ہسپتال پہنچایادیا تھا۔جس سے چار روز بعدعابدہ پروین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گئی۔ چشتیاں، بہاولنگر کی رہائشی عابدہ پروین اپنے شوہر محمد اسلام کے پاس دو ماہ قبل لاہور منتقل ہوئی تھی اور ایل ڈی اے فلیٹس کے ایک کمرے میں رہائش پذیر تھی۔ عابدہ کے شوہر اسلام کے مطابق اس کی بیوی موبائل فون لے کر دینے کی ضد کر رہی تھی جس پر جھگڑا ہوا اور وہ سو گیا۔مگر عابدہ نے انتہائی اقدام اٹھا لیا اور علی الصبح عابدہ پروین نے اپنے 10 ماہ کے بیٹے صدام حسین اور بیٹیام فروا کو ساتھ لیا اور چھت پر چلی گئی۔ جہاں سے اس نے پہلے معصوم صدام حسین کو پہلے چھت سے نیچے پھینکا پھر بیٹی ام فروا کونیچے پھینکنے کے بعد خود بھی کود گئی۔ پولیس نے خاتون عابدہ پروین کے شوہر محمد اسلام کی درخواست پر عابدہ پروین کے خلاف قتل، اقدام قتل اور خودکشی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ تاہم عابدہ کے شوہر اسلام نے کہا تھا کہ اس نے اپنی بیوی کے خلاف مقدمہ پولیس کے کہنے پر درج کرایا ہے۔وہ عابدہ پروین کو وہ معاف کر دے گا مگر اسکی نوبت نہ آئی۔ علاوہ ازیںہسپتال میں زیر علاج بچی ام فروا کی حالت اب بہتر بتائی جا رہی ہے۔اسی طرح نولکھا کے علاقہ برانڈرتھ روڈ پر گھریلو جھگڑے پرنکھٹو شوہرسجادخان نے اپنی بیوی سمیرا ناز اورساڑھے 10ماہ کے بیٹے عبدالمنان کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔واقعہ کے مطابق نولکھا کے علاقہ برانڈرتھ روڈ گلی نمبر6کے رہائشی سجادخان کی8سال قبل ریلوے روڈ کے رہائشی عرفان الحق کی بیٹی سمیرا ناز سے ہوئی تھی ۔ان کے ہاں تین بیٹے پیداہوئے ۔دونوں کے درمیان اکثر لڑائی جھگڑا رہتاتھا۔6روز قبل دونوں میاں بیوی میں جھگڑا ہو گیا ۔جس کے بعدسمیراساڑھے10ماہ کے بیٹے عبدالمنان کے ساتھ ایک چارپائی پر سو گئی جبکہ اس کی دو بیٹے دوسری چارپائی پر سوگئیں۔اس دوران سجادخان نے کمرے میں سوئی اپنی بیوی سمیرا ناز پر اندھا فائرنگ کر دی۔ جن کی زد میں آ کر سمیرا نازاور اس کا ساڑھے 10ماہ کا  شیر خواربیٹا عبدالمنان موقع پر ہی ہلاک ہو گئے ۔دوہرے قتل کی واردات کے بعد ملزم سجادخان فرارہونے کی کاشش کررہا تھا کہ اسے محلے داروں نے قابو کر لیا۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی۔محلے داروں نے ملزم سجاد کو پولیس کے حوالے کردیا ہے جبکہ پولیس نے ملزم سجاد اور اس کے بھائی حمادخان کو گرفتار کرلیا ہے۔ مقتولہ سمیرا کے ورثاء کا کہنا ہے کہ ملزم سجادکباڑیا تھا مگر اب وہ کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا ۔جس وجہ سے سمیرا اور سجاد میں جھگڑا رہتا تھا ۔ملزم سجاد کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بیوی سمیرا کو غیرت کے نام پر قتل کیا ہے ۔تھانہ نولکھا کی حوالات میں بند ملزم سجاد خان اپنے کئے پر شرمندہ نظر نہیں آرہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ صرف اپنی بیوی سمیرا کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ میں نے سوئی ہوئی سمیرا پر پسٹل سے 6 فائر کئے مگر ایک گولی غلطی سے میرے ساڑھے دس ماہ کے بیٹے عبدالمنان کو لگ گئی۔ مجھے اپنے بیٹے کی موت کا دکھ ہے۔ میں نے کمرے میں سوئے دیگر دو بیٹوں کو کچھ بھی نہیں کہا۔اس واقعہ کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کچھ عرصہ قبل سجاد نے 7 سالہ بڑا بیٹا اپنے پاس رکھ لیا اور سمیرا ناز کو دونوں چھوٹے بچوں سمیت گھر سے نکال دیا۔ جس کے بعد سمیرا والدین کے پاس گھر واقع ریلوے روڈ پرآکر رہنے لگی۔ اسی دوران اس نے سجاد سے بیٹے کی تحویل، اخراجات اور خلع کیلئے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالتی احکامات پر بڑا بیٹا باپ سجاد سے لے کر ماں کے حوالے کر دیا گیا۔ خرچے کے دعوے پر سجاد کے ہوش اڑ گئے اور اس نے سمیرا کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا جس کے تحت اس نے رشتے داروں کو بیچ میں ڈال کر صلح کر لی جس میں فریقین کے مابین 2 سو روپے کے اشٹام پیپر پر راضی نامہ بھی لکھا گیا جس میں سجاد نے وعدہ کیا بچوں کی فیس و دیگر اخراجات کے علاوہ سمیرا کو 2 ہزار روپے ماہانہ ذاتی خرچہ دے گا،آئندہ بچوں پر یا سمیرا پر تشدد اور گالم گلوچ نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کے فیملی ممبران سمیرا پر ناجائز دبائو ڈالیں گے۔ معاہدے کے مطابق اگر اب سجاد نے سمیرا کو گھر سے نکالا تو وہ حق مہر و دیگر اخراجات 50 ہزار سمیرا کو دے گا۔ اس کے علاوہ سمیرا کو بچوں کی ڈلیوری کے اخراجات ایک لاکھ روپے بھی ادا کرے گا جو اس نے رشتے داروں سے ادھار لئے تھے۔ چھوٹے بیٹے عبدالمنان کی بیماری پر اٹھنے والے 30 ہزار روپے بھی سجاد ادا کرے گا۔ اس راضی نامہ کے بعد سمیرا اپنے خاوند کے گھر بچوں سمیت واپس چلی آئی مگر اسے نہیں پتہ تھا کہ اسکے سر کا سائیں خونیں درندہ بن چکا ہے۔پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے جبکہ مزید کاروائی عدالت کے حکم پر کی جائے گی۔ایک اور افسوسناک واقعہ کے مطابق نوشہرہ روڈ گوجرانوالہ کے رہائشی وسیم کی بیوی صدف نے سسرالیوں سے الگ رہائش رکھنے کی خواہش پوری نہ ہونے پر اپنے دو کمسن بچوں چھ ماہ کے ایان اور دو سالہ ریحان کو زہر دینے کی بعد خود بھی زہر پھانک لیا ۔واقعہ کے مطابق نوشہرہ روڈ کے رہائشی وسیم کی بیوی صدف سسرالی گھر سے علیحدہ ہونا چاہتی تھی مگر اسکا شوہر اپنی بیوی کے اس فیصلہ کو ماننے سے انکاری تھا۔جس پر دونوں میاں بیوی کے مابین جھگڑے معمول بن گئے تھے۔اسی بات پر چار روز قبل صدف نے اپنے دو کمسن بچوں چھ ماہ کے ایان اور دو سالہ ریحان کو زہر دینے کی بعد خود بھی زہر کھا لیا ۔۔جس سے صدف اور خوار ایان  ہلاک ہو گئے جبکہ ڈاکٹر وں کے مطابق ریحان کی حالت تسلی بخش بیان کی جاتی ہے۔ کربناک بات یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں مہنگائی،بے روز گاری اور غربت کی وجہ سے والدین اتنے مجبور و لاچار ہو گئے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کو مارنے اور خودکشی کر لینے میں ہی عافیت اور تمام جھنجھٹوں سے چھٹکارا سمجھتے ہیں ۔ایسے مخدوش حالات ہو چکے ہیں کہ لگتا ہے کہ شہریوں کے لئے موت تمام پریشانیوں سے آزادی ہے۔ان واقعات کو سن کر انسانی کلیجہ دہل کر رہ جاتا ہے مگر تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایسے سفاکانہ اور لرزہ خیز واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اپنی کارکرگی کے بلند و بانگ دعوؤں کی بجائے ان واقعات کا خود کو ذمہ دار سمجھے اور مہنگائی، غربت اوربے روز گاری پر قابو پانے کے علاوہ لوگوں کو ریلیف دینے کے لئے عملاََ اقدامات کئے جائیں جبکہ ہم اپنی اسلامی و اخلاقی اقدار کو فروغ اور ان پر عملدرآمد کریں تاکہ آئندہ سے ایسے دلخراش واقعات کا سدباب ہو سکے ۔