نیلا بھیڑیا

کافی عرصہ کی بات ہے کہ ایک جنگل میں بھیڑیا رہتا تھا۔ایک دن جب اسے بھوک سے ستایا تو وہ خوراک  حاصل کرنے کیلئے قریبی گائوں میں گُھس گیا۔گائوں میں موجود کتوں نے جب بھیڑیا کو دیکھا تو اس پر بھونکنا شروع کردیا اور اس کوکاٹنے کے لئے اس  کے پیچھے  بھاگے، کتوں نے کافی دیر تک ان کا پیچھاکیا۔بھیڑیاکتوں سے بچنے کیلئے  قریبی  گھر میں گھس گیا۔وہ گھر ایک ڈائر(کپڑے رنگنے )والے کا تھا۔بھیڑیا اس گھر میں موجود ایک نیلے رنگ کی بالٹی میں گر گیا جب باہر نکلا تواس کا خلیہ بگڑا ہوا تھا نیلے رنگ  میں گرنے سے اسکا رنگ نیلاہوگیا۔بھیڑیا پریشانی کی حالت میں جنگل میں واپس گیا توجنگل میں موجود تمام جانورنیلے رنگ کا بھیڑیا دیکھ کرحیران اور خوف زدہ ہوگئے۔بھیڑیا اب تمام جانوروں کے خوف سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔بھیڑیے نے تمام جانوروں سے جھوٹ بولا اور کہا کہ مجھے جنگل میں حکومت کرنے اور آپ کی رہنمائی کیلئے بھیجا گیاہے۔تمام جانوروں نے اس کی بات پر یقین کر لیا اور اسے جنگل کا بادشاہ بنا دیا۔
بھیڑیے نے اپنی سیکورٹی کیلئے ایک شیر کا انتحاب کیااور اسے سیکورٹی گارڈمقرر کردیاجبکہ ہاتھی کو ایک نوکر کے طور پر مقررکرلیا  باقی تمام جانوروں کو نیلے بھیڑیا کی خدمت کرنے کا حکم دے دیا گیا۔اس طرح اس نیلے بھیڑیے نے ایک جھوٹ کے ذریعے  شاہانہ زندگی گزارنا شروع کردی۔
ایک دن جنگل سے جب بھیڑیوں کا ایک جھنڈ گزر رہا تھا تو تمام جانوروں نے نیلے بھیڑیے کو اپنے حصار میں گھیر لیا لیکن نیلا بھیڑیا اپنی قدرتی خصلت پر کنٹرول نہ کر سکا اس ان بھیڑیوں کی طرح چیخنا چلاناشروع کردیااب تمام جانوروں کو پتا چل گیا کہ یہ تو ایک بھیڑیا ہی ہے اور اس نے ہم سب سے جھوٹ بولا اوربے وقوف بنایا۔  تمام جانوراس پرجھبٹ پڑے اُنہوں نے اس جھوٹے بھڑیے کی خوب پٹائی کئی اور جنگل سے بھگا دیا۔نتیجہ:سچ ہمیشہ باہر آ ہی جاتا ہے
رامین‘ وانیہ (واپڈا گرلز ہائی سکول)