ماں نے دو بچوں کو زہر کھلا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا

ماں نے دو بچوں کو زہر کھلا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا

تحریر: فرحان راشد میر
انسانی رویوں میں عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رحجان نے معاشرتی اقدار کو بری طرح پامال کرکے رکھ دیا ہے، تہذیب و تمدن کے زرق برق لباس میں چھپے معاشرے میںایسے ایسے افسوسناک اور دلخراش واقعات جنم لیتے ہیں کہ عقلیں دنگ اور دماغ مائوف ہو کر رہ جاتے ہیں، انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے، لیکن حقیقت اسے ماننے اور تسلیم کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔ان دنوں معاشرے کے ہاتھوں ستائی مائوں کے ہاتھوں اپنے بچوں سمیت خود کشی کا رحجان زور پکڑ رہا ہے‘ کہیں ماں بچوں سمیت نہر میں کود رہی ہے‘ کہیں چھت سے بچوں کو گرانے کے بعد خود بھی خود کشی کررہی ہے‘ کہیںزہر کھا کراپنی اور بچوں کی زندگیاں ختم کررہی ہے۔ایسا ہی ایک دلخراش واقعہ گوجرانوالہ کے علاقے نوشہرہ روڈ میں وقوع پذیر ہوا- معمولی گھریلو جھگڑے پرسگی ماں نے اپنے دو کمسن بچوں کو زہر دینے کے بعد اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا- ماں کی ہلاکت کے اگلے دن چھ ماہ کا بچہ بھی اس بے رحم معاشرے کو الوداع کہہ کر اپنی ماں کے پہلو میں جاسویاجبکہ دوسرا دو سالہ بچہ ریحان ابھی تک ہسپتال میں زیر علاج ہے- اس عبرتناک اور عبرت آموز واقعہ کی تفصیل کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے کہ نوشہرہ روڈ کے رہائشی وسیم کی بیوی صدف سسرالی گھر سے علیحدہ ہونا چاہتی تھی مگر اسکا شوہر اپنی بیوی کے اس فیصلہ سے انکاری تھا جسکے باعث دونوں میاں بیوی کے مابین جھگڑے معمول بن گئے تھے جس سے دلبر داشتہ ہو کر ایک روز قبل صدف نے مبینہ طور پر اپنے دو کمسن بچوں چھ ماہ کے ایان اور دو سالہ ریحان سمیت زہریلی چیز پی لی جس کے نتیجے میں صدف جاں بحق ہو گئی جبکہ اسکے دونوں بیٹے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں پر شیر خوار ایان بھی موت و حیات کی کشمکش میں مبتلارہنے کے بعد دم توڑ گیا ہے- 6 ماہ کے معصوم پھول ایان کو بھی ماں کے پہلو میں آہوں و سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا -
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کونسی قیامت ٹوٹ پڑی کہ ایک ماں اپنے ہاتھوں اپنے بچوں کوزہر دینے پر مجبور ہوگئی،جس ماں نے 9 ماہ تک بچے کو اپنے رحم میں اٹھائے رکھا، اس کی پیدائش کے بعد اس کی لمبی زندگی کی دعائیں مانگیں، اس کے پیدا ہونے کے بعد اس کی کامیاب زندگی اور اس کے سر پر سہرا سجانے کے خواب دیکھنا شروع کردئیے تھے- جس ماں نے اپنے بچے کو ڈاکٹر انجینئر کے روپ میں اپنے من میں بسایا ، جس ماں کی مامتا کے چرچے ہر معاشرے میں بڑ ے فخر سے بیان کئے جاتے ہیں ، جو اپنے بچوں کے لئے اپنی جان ہر وقت ہتھیلی پر اٹھائے رکھتی ہے او ر اس کے آرام سکون کی خاطراپنا سکھ چین برباد کردیتی ہے ، یہی ماں اگر اپنے ہاتھوں اپنے لخت جگروں کو موت کی آغوش میں پہنچا دے تو اسے کیا کہیں گے،اپنے ہی ہاتھوں اپنے گلشن کو اجاڑنے کا تصور ہی بہت ہولناک ہوتا ہے- ماہرین نفسیات کے مطابق ایسے واقعات کے جنم لینے میں حالات کا پورا عمل دخل ہوتاہے، انسان کی بڑھتی ہوئی خواہشات اور محدود وسائل، خانگی جھگڑے،ایک دوسرے کی خواہشات اور رویوں کو نہ سمجھنا یہ سب مل کر خوفناک انجام کو جنم دیتے ہیں- دوسری وجہ یہ ہے کہ عورت فطرتی طور پر کمزور واقع ہوئی ہے اور وہ حالات سے جان چھڑانے کی کوشش کرتی ہے، اس بات میں بھی کافی سچائی ہے کہ عورت حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن یہی عورت اگر اڑ جائے تو ایسے ایسے فیصلے کرتی ہے کہ انسان اپنی انگلیاں دانتوں تلے دبانے پر مجبور ہوجاتا ہے- نبی کریمؐ نے عورت کو انسانی پسلی سے تشبیہہ دی ہے ، یعنی پسلی ٹیڑھی ہے اگر اسے زبردستی سیدھا کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ ٹوٹ جائے گی مگر سیدھی نہیں ہوگی-
اسی طرح اس واقعہ کا پس منظر اگر دیکھا جائے تو اتنے بڑا قدم اٹھانے کی کوئی غیر معمولی  وجہ سمجھ نہیں آتی، ایک علیحدہ مکان کی خواہش فطرتی عمل ہے اور ایک عورت کا ہمیشہ یہ خواب ہوتاہے کہ شادی کے بعد اپنا الگ گلشن آباد کرے، اس کا مطالبہ کسی لحاظ سے بھی غیر اسلامی،غیر اخلاقی نہیں، لیکن اس مطالبے کو بنیاد بنا کر اپنا ہنستا بستا گھر اجاڑ لینا بھی کسی طور جائز اور درست قرار نہیں پائے گا- اگر دونوں میں سے ایک فریق تھوڑی سے لچک کا مظاہرہ کرتا تو یہ المناک سانحہ جنم نہ لیتا-اب یقینا دیگر گھر والے بھی سوچتے ہوں گے کہ اگر اس کی ضد کے آگے ہار مان لیتے تو حالات ایسا افسوسناک رخ اختیار نہ کرتے، لیکن کہاوت مشہور ہے اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت، مکان تو بنتے ٹوٹتے رہتے ہیں لیکن زندگی دوبارہ واپس نہیں آتی-ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں مثبت رویوں کو فروغ دیا جائے، ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور ایک دوسرے کیلئے قربانی کے جذبوں کو پروان چڑھایا جائے- بے جا اور ان گنت خواہشات کی آبیاری کرنے کی بجائے، ہر انسان کو اپنے وسائل اور اختیار کے دائرے میں محدود رہنا چاہئیے، اگر انسان اپنی سوچ اور خواہشات کو نفس کے تابع کرنے کی بجائے عقل کے تابع کرلے تو اس قسم کے واقعات سے بچا جاسکتا ہے-بحثیت انسان اور مسلمان ہمارا ایمان ہوناچاہئیے کہ ہر کام کا وقت مقرر ہے، ضروری نہیں ہماری ہر خواہش اسی وقت پوری ہو جائے ، جب قدرت کی طرف سے منظوری ہوتیہے تو ہر رکاوٹ خود بخود دور ہوجاتی ہے اور ناممکن بھی ممکن ہوجاتے ہیں -