بچوں کے ابتدائی پانچ سال کی تربیت انہیں کندن بناسکتی ہے

بچوں کے ابتدائی پانچ سال کی تربیت انہیں کندن بناسکتی ہے

 بچوں کے ابتدائی پانچ سال والدین کی بھر پور توجہ چاہتے ہیں،یہ پانچ سالوں میں اچھی تربیت پا کرکندن بن سکتے ہیں،شرط یہ ہے کہ اس عمر میں ان کی مناسب دیکھ بال کی جائے ابتدائی عمر میں ان کو اچھی تربیت دینا والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔
شیر خوار بچے بڑے پیارے ہوتے ہیں، ہر کوئی بچوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو روتا ہے اس کے رونے پر والدین خوش ہوتے ہیں۔دیکھنے میں یہ سب بچے ایک جیسے لگتے ہیں۔ ننھے منے ہاتھ ،چھوٹے چھوٹے  پائوں، گورے گورے اور سرخ رنگ کے گال ہر کوئی چاہتا ہے کہ لپک کر اسے گود میں لے لیں اور خوب پیار کرے،بڑے تو بڑی احتیاط سے انہیں پکڑ لیتے ہیں لیکن چھوٹے بچے انہیں نہیں سنبھال سکتے ۔
وقت کے ساتھ ساتھ ان کی پرورش ہوتی رہتی ہے ابتداء میں بچے صرف دودھ ہی پیتے ہیں اور پھر دودھ پینے کے بعد سو جاتے ہیں یہ عمل تقریباً دو تین ماہ جاری رہتا ہے جب  بچے کی عمر تین ماہ یا اس سے زیادہ ہوتی ہے تو غوں غوں کرتا ہے۔ اور گھر والوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ اسی عمر میں یہ دودھ کے ساتھ ساتھ نرم غذا کھانا شروع کر دیتا ہے۔ لیٹے لیٹے اپنی گردن گما کر ادھر اُدھر دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اوراسی عمر میں ماں کی گود سے نکلنے کی کوشش بھی کرتا ہے پھر آہستہ آہستہ رینگتا ہے جب وہ اس مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر چلنے کے قابل ہو جاتا ہے ،عمر کے اس حصّہ میں وہ کئی مرتبہ گرتا اور سنبھلنے کی کوشش کرتا ہے بعض اوقات اسے چوٹیں بھی لگتی ہیں،جوں جوں وقت گزرتا ہے اس کی نشونما میں اضافہ ہوتا ہے۔ چھ ماہ کی عمر میں بیٹھ سکتا ہے اور اپنے ہاتھ پائوں کی مدد سے کرولنگ کی کوشش کرتا ہے لیکن بعض اوقات بیٹھے بیٹھے گر بھی جاتا ہے۔رنگین چیزوں کو دیکھ کر محظوظ ہوتا ہے اور انہیں پکڑنے کی کوشش میں رہتا ہے ناکامی کی صورت میں رونے لگتا ہے اور جب اس کو کوئی کھلونا پکڑایاجائے تو اسے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ بچہ تو پھر بچہ ہے۔ اسے کیا پتہ کہ یہ کھانے کی چیز نہیں ، شیر خوار بچے دیکھنے میں ایک جیسے لگتے ہیں لیکن ان سب کی عادات مختلف ہوتی ہیں۔ بعض بچوں کو گود میں رہنے کی عادت ہوتی ہے جونہی انہیں گود سے اتارا جائے رونے لگتے ہیں۔ کیونکہ بڑے بہن بھائی چھوٹے بچوں کو بڑے شوق سے اٹھاتے ہیں پھر وہ بچہ گود میں رہنے کا عادی ہو جاتا ہے اور زیادہ تر گود میں میں رہنا پسند کرتا ہے۔
 ایک سال کی عمر میں  سیڑھیاں چڑھنے اور اترنے کے لئے بیتاب دکھائی دیتا ہے جونہی   سیڑھیوں کی طرف جاتا ہے والدین اسے لپک کر تھام لیتے ہیں کہ کہیں گر نہ جائے،اسے چوٹ نہ لگ جائے گویا وہ وقت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش میں رہتا ہے ۔رفتہ رفتہ یہ رویہ پختہ ہوتا جاتا ہے بچہ کسی حد تک اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ تندرست بچے ایک سال کی عمر تک چلنے پھرنے کے قابل ہو جاتے ہیں ،آہستہ آہستہ چلنے کی کوشش کرتے ہیں، جونہی تیزی سے چلنے کی کوشش کرتے ہیںگر پڑتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی پرورش اور نشو نما کا عمل جاری رہتا ہے بچہ ابتدائی پانچ سالوں یہ بتا دیتا ہے کہ وہ کتنی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ یعنی اس کی حرکات و سکنات دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا کہ بچہ کتنا ذہین ہے اگر بچوں کی مناسب دیکھ بھال کی جائے اور اس کی باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ بڑے ہو کر اچھے اور پڑھے لکھے شہری نہ بن سکیں۔ ابتدائی پانچ سالوں میں اگر مناسب تربیت نہ دی جائے اسے برے بھلے کی پہچان نہ کروائی جائے تونہ صرف ضدی ہو جاتے ہیں بلکہ ان میں چڑ چڑا پن بھی آ جاتا ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بچے بڑوں سے اثر لیتے ہیں اور ان کی باتوں کو بڑی جلدی پک کر لیتے ہیں اس لئے ان کے سامنے کوئی ایسی بات نہ کہی جائے جس سے ان کے ذہن پر منفی اثرات پڑنے کا خطرہ ہو۔
 ہم عمر بچوں کو کھیلنے کا موقع مل جائے تو آپس میں بڑے خوش رہتے ہیں اور بعض اوقات بڑی سمجھ داری کی باتیں بھی کرتے ہیں۔ اپنے منہ کے زاویے بدلتے ہیں ایک دوسرے یا کسی بڑے کی نقل بھی اتارتے ہیں اور تو اور بڑوں سے ایسے سوالات کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
دیکھنے میں بھی آیا ہے کہ بڑے بہن بھائی اپنے چھوٹے بہن بھائیوں سے اتنا پیار محبت کرتے ہیں کہ انہیں چھوٹوں کو تنگ کرنے میں بڑا مزہ آتا ہے، وہ بچے کے مزاج کے خلاف انہیںچھیڑتے ہیں جس سے بچہ روتا ہے بعض اوقات تو اپنی توتلی زبان سے گالیاں دینے کی کوشش بھی کرتا ہے جو کہ اچھی بات نہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نے گالیاں کس سے سیکھیں؟یقیناً گھر یا محلے سے سُنیں ہوں گی۔
یہ حقیقت ہے کہ بچہ اپنی توتلی زبان سے جب بولتا ہے اور بولتا ہی چلا جاتا ہے تو اس کے الفاظ کی غلط ادائیگی سے بڑے بہن  بھائی بڑے خوش ہوتے ہیں اور بارہا وہی جملہ دہرانے کے لئے کہتے ہیں۔ ایسا کرنے سے بچے کی لفظ کی ادائیگی دیر بعد درست ہوتی ہے۔ لیکن ایسے بچے بھی دیکھے گئے ہیں جن کی عمر بمشکل تین سال ہو گی لیکن ان کے الفاظ کی ادائیگی بالکل درست ہوتی ہے۔بچوں کو ابتدائی پانچ سال کی عمر میں بہت کچھ سکھانے کی ضرورت ہوتی ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ جس گھر میں بچوں کی تعداد زیادہ ہو وہاں بچے بولنا بڑی جلدی سیکھ جاتے ہیں جبکہ دوسری صورت میں یعنی جس گھر میں بچے نہ ہوں وہاں پہلے بچے پر والدین کی توجہ زیادہ ہونی چاہئے، شیر خوار بچوں کے ابتدائی پانچ سال بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اس عمر میں ان پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔