پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں نوائے وقت اور مجید نظامی کا کردار

پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں نوائے وقت اور مجید نظامی کا کردار

پاکستان اور اسلام کے خلاف جنگی جنون نے مبتلا بھارت نے 11مئی 1998ءکو پاکستانی سرحدوں سے 93 میل دور راجستھان کے صحرائی علاقے پوکھران میں تین ایٹمی دھماکے کر دیئے۔ بھارت نے یہ دھماکے جس وقت کئے اس وقت میاں محمد نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم تھے۔ ان دھماکوں سے ان کی حکومت جب کہ در حقیقت انہی کا امتحان شروع ہو گیا بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد قوم کی طرف سے جوابی دھماکے کا مطالبہ کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی روزنامہ نوائے وقت کے چےف ایڈیٹر جناب مجید نظامی نے بھارت کے پاکستان دشمن عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے جوابی ایٹمی دھماکے کرنے کی باقاعدہ مہم کا آغاز کر دیا۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنے اداریوں میں حکومت پر جلد از جلد دھماکوں کا جواب دھماکوں سے دینے کے دباﺅ ڈالنا شروع کر دیا۔ اس پر پورے ملک کے محب وطن میں ان کے موقف کی زیردست پذیرائی ہونے لگی۔ اس کے ساتھ ساتھ مجید نظامی کی واضح ہدایات پر پاکستان کے شہریوں کے اس مطالبے سے عبارت خبروں کو انتہائی نمایاں طور پر شائع کرنا شروع کر دیا گیا۔ جن میں کہا جاتا کہ ”پاکستان اب ایٹمی دھماکہ کرنے میں دیر نہ کرے“ نوائے وقت میں فوری ایٹمی دھماکہ کرے کے حق میں جہاں متقدر علماءکرام، سیاستدانوں اور سماجی نمائندوں کے بیانات شائع کئے جانے وہاں تاجروں، صنعت کاروں اور صنعت فلم سے تعلق رکھنے والی نمائندہ شخصیتوں کے بیانات کو بھی نمایاں جگہ دی جانے ۔ نوائے وقت کے اس انداز صحافت نے ایک ایسی تحریک کا ڈول ڈال دیا تھا۔ جس کا مقصد پاکستان کو ایٹمی صلاحیتوں کا اظہار کر کے اپنے دشمن نمبر ایک بھارت کو اس کے مذموم عزائم کا جواب دینا تھا۔ اس مہم کا مقصد ایک یہ بھی تھا کہ اس اقدام سے پاکستان اور اس کے عوام کی آزادی و خودمختاری کا تحفظ ہو۔

ان دنوں ایسے خدشات میں اضافہ ہو رہا تھا کہ اندرون ملک بعض ”نادان دوستوں“ کے چاپلوسانہ مشورے برسر اقتدار قیادت کو تاریخ میں قابل فخر مقام حاصل کرنے سے محروم کرنے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔ جب کہ دلکش پیش کشوں اور ترغیبات کے ساتھ بیرونی ممالک کے دباﺅ میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ مگر مجید نظامی کی یہی کوشش تھی کہ مزید وقت ضائع کئے بغیر پاکستان کو ایٹمی دھماکے کر دینے چاہئیں۔ تاکہ بھارت کے حکمرانوں کے متکبرانہ اور بگڑے ہوئے لہجے کی درستگی کا سامان ہو سکے۔ اسی حوالے سے انہوں نے 16مئی 1998ءکو اپنے اداریہ کا عنوان دیا۔
”بھارت کے ایٹمی دھماکے، امریکہ اور پاکستان“
میاں صاحب تاریخی موقع ضائع نہ کریں۔
اس اداریے میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں لکھا کہ بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد امریکہ اور اس کے حواریوں نے جو شور مچایا تھا وہ آہستہ آہستہ دم توڑ رہا ہے اور یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ بھارت کو امریکہ اور یورپ کی در پردہ تائید و حمایت حاصل ہے۔ یا اس حوالے سے وہ بھارت کو تنگ کرنے کا کوئی حقیقی ارادہ نہیں رکھتے۔ اسی اداریے میں جناب مجید نظامی نے آگے چل کر رکھا۔ ”پاکستان میں ایک ایسی لابی موجود ہے جو احتیاط اور صبرو تحمل کے نام پر حکومت کو امریکی ڈکٹیشن قبول کرنے قوم کو بھارت کی بالادستی تسلیم کرنے کا مشورہ دے رہی ہے۔ آج آزمائش کی گھڑی میں میاں نواز شریف بھی ہر طرح کی مصلحتوں دباﺅ، اور دھمکیوں کو بالائے طاق رکھ کر قوم کو احساس تفاخر اور ایقان تحفظ فراہم کریں تاریخ انہیں کبھی بھلا نہ پائے گی۔
جناب مجید نظامی کی رہنمائی میں نوائے وقت کے صفحات جس استحکام پاکستان تحریک کے لئے وقف تھے اس نے ایٹمی دھماکوں کے حق میں جو فضا تیار کی تھی اس کے سو فیصد تک مثبت نتائج مرتب ہو رہے تھے۔ ملک کے صف اول کے تمام سیاستدانوں کی طرف سے فوری طور پر ایٹمی دھماکے کرنے پر زور دیا جانے لگا۔ اس کے برعکس 18مئی 1998ءکو بھارتی وزیر داخلہ لال کرشن ایڈوانی نے دہلی میں اپنی پریس میں بڑی رعونت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیر کے بارے میں اپنی پالیسی ”رول بیک“ کرے۔ بھارتی ایٹمی دھماکے پاکستان کے جارحانہ عزائم او کشمیر میں اس کی کارروائیوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کے آئینہ دار ہیں۔
ممکنہ خطرات کے پیش نظر اسلام کی سربلندی پاکستان کی پرچم کی اڑانوں اور پاکستانی قوم کی آزادی و خودمختاری پر آنچ نہ آنے دینے کے جذبوں سے سرشارمجید نظامی کے قلم سے اس ادارے کی نمود ہوئی۔ عنوان تھا:
میاں صاحب!
کشتیاں جلا کر میدان عمل میں کود پڑیں!
اس کے بعد تو ”بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے“ خیبر سے کیماڑی اور کوئٹہ تک پاکستانی عوام کا نعرہ بن گیا۔ ایٹمی دھماکے کرنے کے حق میں مختلف تنظیموں کے زیر اہتمام مظاہروں کی ابتدا ہو گئی۔
21مئی 1998ءکو وزیر اعظم میاں محمد نواز شرےف نے وزیر اعظم ہاﺅس اسلام آباد میں ایڈیٹروں سے ملاقات کی جہاں بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکہ کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیالات ہوا۔ بعض مدبران جرائد نے ایٹمی دھماکہ کرنے کی مخالفت کی ایسے ماحول میں واحد آواز نوائے وقت کے چےف ایڈیٹر جناب مجید نظامی کی تھی۔ جرات اظہار کا عملی نمونہ، انہوں نے وزیر اعظم کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ”میاں صاحب! آپ ایٹمی دھماکہ کر دیں ورنہ عوام آپ کا دھماکہ کر دیں گے“۔ برسر اقتدار قومی قیادت کو سالار صحافت کی طرف سے یہ ایسا انتباہ تھا جو پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنانے میں ممد ثابت ہوا تھا۔ ایٹمی کلب میں شامل پر ایٹمی ملک کی طرح پاکستان بھی اسی حوالے سے ایک ولولہ انگیز اور روح پرور تاریخ رکھتا ہے۔ جس بھی کوئی مور¿خ اس تاریخ کو مرتب کرے گا۔ تو قوم کو بیدار رکھنے اور حکمرانوں کو قومی خواہشات اور امنگوں کے مطابق فیصلہ کے لئے مجبور کرنے والے مجید نظامی ایسے صحافیوں کا تذکرہ کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکے گا اس روز سعبد کا سورج طلوع ہو گیا پوری قوم جس کے انتظار میں گھڑیاں گن گن کر گزار رہی تھی۔ جمعرات کا مبارک دن اور مئی 1998ءکی 28 تاریخ تھی۔ پاکستان نے صوبہ بلوچستان میں چاغی کے پہاڑوں میں یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کر کے ہمسایہ دشمن بھارت کی برتری کا غرور خاک میں ملا دیا۔ اس روز یہ دھماکے سہ پہر تین بج کر 40منٹ پر یکے بعد دیگرے ہوئے۔ ان دھماکوں کے پاکستان کو ایٹمی قوت رکھنے والے دنیا کے سات ممالک میں شامل کر دیا۔ جب کہ پاکستان ایٹمی قوت رکھنے والا عالم اسلام کا پہلا ملک بن گیا۔

چونکہ یہ جناب مجید نظامی کی برویت و رہنمائی میں اسی مقصد کی خاطر شروع کی گئی استحکام پاکستان مہم کی کامیابی کی منزل مراد تھی غالباً اس بنیاد پر وزیر اعظم میاں نواز شرےف نے ان دھماکوں کی پہلی خوشخبری نوائے وقت کے ایڈیٹر انچیف جناب مجید نظامی کو ٹیلی فون پر خود سنائی ایٹمی دھماکوں کے آپریشن کی نگرانی پاکستان کے مایہ ناز سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کی۔ اور اسی عظیم یادگار قومی دن کو سرکاری طور پر ”یوم تکبیر“ کا نام دیا گیا۔ جو بلاشبہ پاکستان کے مایہ ناز سائنسدانوں مسلسل 23 سالہ کاوشوں کا ثمر ہے۔