ایٹمی ماڈلز کو شہروں کی زینت بنایا جائے

ایٹمی ماڈلز کو شہروں کی زینت بنایا جائے

ہم انسان بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں ناں ، کسی بھی چیز گہرائی میں اسی وقت جاتے ہیں جب ہمیں اس کے بارے میں جاننے کی ضرورت پڑتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے تہواروں کو یاد رکھنے کے لئے ایک دن مختص کیا جاتا ہے جسے کوئی خاص نام دیکر منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کے حوالے سے معلومات ہمیں کسی کتاب، کتابچے یا دیوار پرکندہ نہیں ملتیں بلکہ کبھی سٹیج شو، ڈرامے، سیمنار یا پھر اس حوالے سے بنائے گئے ماڈلز سے ملتی ہیں۔ سب سے بڑی مثال مینار پاکستان ہمارے سامنے ہے وہ نہ بھی ہوتا تو ساری دنیا کو معلوم ہوتا ہے یہ پاکستان ہے لیکن محض ایک مینار نے پاکستان کو ایک منفرد پہچان دی۔ ایسے ہی جب ہم جشن ولادت رسول مناتے ہیں تو اسی مناسبت سے مکہ ومدینہ کا نقشہ منا کر بچوں کو دکھاتے ہیں، شعیہ حضرات ماہ محرم میں تعزیہ نکالتے ہیں جس میں مختلف شبیہ کا بطور ماڈل استعمال کیا جاتا ہے۔اسی طرح مختلف مناظر کو تصویری شکل میں اجاگر کر کے نئی نسل تک منتقل کیا جارہا ہے کیونکہ کتابیں پڑھنا اور ان میں دلچسپی لینا ہمیں آتا ہی کہاں ہے۔ انگریزی کی ایک کہاوت ہے :”جو اپنا دفاع مضبوط کرلے وہ اچھا حملہ بھی کرسکتا ہے۔“ لیکن اس کے لئے ہمارے پاس بھی جدید اسلحہ ہونا چاہےے۔میزائل آج ہر ملک کے لئے بہترین دفاعی ہتھیار بن چکا کیونکہ خود کو گزند پہنچائے بنااس سے دور بیٹھے دشمن کو روکنا اور اسے تباہ کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ دنیا میںتمام بڑی قوتیں مثلاً امریکہ، روس، بھارت اور چین اپنی عسکری طاقت بڑھانے کے لئے جدید ترین میزائل بنارہی ہیںلیکن پاکستان کا ممطمع نظر صرف اپنے دفاع کو مضبوط کرنا ہے۔بھارت جیسے ملک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینا اسی وقت ممکن ہوتا جن ہم بھی عسکری طاقت سے لیس ہوتے۔ پاکستان کے ارتقاءکے بعد ہی ہم جوہری طاقت بن گئے ہوتے لیکن کچھ امریکہ نواز حکمرانوں کے باعث ایسا ممکن نہ ہوسکا اور بھارت اس دوڑ میں ہم سے آگے نکل گیا۔دراصل پاکستان کا ایٹمی پروگرام 1954ءمیں ہی شروع ہو گیا تھا جب پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے وائٹ ہاو¿س میں امریکی صدر آیزن ہاور سے ملاقات کی تھی اور پاکستان نے امریکہ کے ایٹم برائے امن (ایٹم فار پیس) کے منصوبہ میں شمولیت کے ساتھ ایٹمی توانائی کے شعبہ میں تحقیق اور ترقی کے لئے ایٹمی توانائی کے کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ آغاز تھا پاکستان کے جوہری پروگرام کا ۔ذوالفقار علی بھٹونے1973ءمیں پاکستان کے جوہری اسلحہ کی صلاحیت حاصل کرنے کے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا اور اس سلسلہ میں انہوں نے جوہری توانائی کمیشن کے سربراہ کو تبدیل کیا اور اعلی سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام کو برطرف کر کے ہالینڈ سے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو پاکستان بلا بھیجا۔جس پر امریکہ نے 1976ءمیں اس وقت کے اپنے وزیر خارجہ ہنری کیسنجر کو پاکستان بھیجا اور ایک تقریب کے دوران ذوالفقار علی بھٹو کو کھلم کھلا دھمکی دی کہ اگر انہوںنے ایٹمی ری پراسسنگ پلانٹ اور ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے منصوبہ پرکام جاری رکھا تو انہیںعبرت کی مثال بنا دیا جائے گا۔ بھٹو تو اس دھمکی سے نہ ڈرے البتہ انہیں 1979ء میں پھانسی کی صورت میں اسکے نتائج بھگتنے پڑے۔ اسکے باوجودپاکستان کے سائنس دانوں نے کہوٹہ کی تجربہ گاہ میں جہاں پر 1976ءمیں ہی یورینیم کی افزودگی کا کام شروع ہوچکا تھا پہلی بار اس میں 1978ءمیں کامیابی حاصل کر لی اور1982 تک وہ نوے فی صد افزودگی کے قابل ہو گئے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کے جوہری سائنس دانوں نے 1984ءمیں ہی جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی اور انہوں نے جنرل ضیاالحق سے کہا تھا کہ وہ کھلم کھلا پاکستان کی طرف سے جوہری بم کی تیاری کے عزم کا اعلان کریں لیکن ان کے امریکی نواز وزیر خارجہ اور دوسرے وزیروں نے سخت مخالفت کی۔ آخر کار جب بھارت نے 11مئی1998 کوراجستھان کے مقام پوکھران میں 15.47بجے زیر زمین200میٹر گہرائی میں شکتی ون کے نام سے ایٹم بم کے5دھماکے کر کے کلب میں شامل ہوا توپاکستان کے لئے کوئی چارہ کار نہیں رہا کہ وہ بھی جوہری تجربات کرکے انہیں جواب دے چنانچہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے تمام تر بین الاقوامی دباو¿ کے باوجود پاکستان کو ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت منوانے کا یہ سنہری موقعہ ضائع نہیں ہونے دیا اور 28مئی 1998ءکو ضلع چاغی کے سلسلہ راس کوہ میں 1000میٹر گہرائی میں10.16بجے چاغی ون کے نام سے 7ایٹمی دھماکے کئے اور یوں پاکستان بھی جوہری طاقتوں کی صف میں شامل ہوگیا۔ اس دن کو ”یوم تکبیر“ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ایٹمی طاقت بننے کے 17برس مکمل ہو چکے ہیں اوراس وقت پاکستان کے پاس شاہین، غوری، حتف،ابدالی غزنوی اور نصر جیسے طاقتور میزائل موجود ہیں جس کی وجہ سے امریکہ جیسا بڑا ملک بھی ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے سے گھبراتا ہے۔ یہ تو ہمارے ایٹمی طاقت بننے کے چھوٹی سی داستان تھی اب آتے ہیں اصلی بات کی جانب، جب پاکستان ایٹمی طاقت بنا تو پورے ملک میںخوشیاں منائی گئیں ، شکرانے کے نوافل ادا کئے صرف اتنا ہی نہیں پاکستان کے مختلف مقامات پر چاغی پہاڑ اور میزائلوں کے ماڈلز رکھے گئے تاکہ عوام کو اس بات کی یقین دہانی کروائی جا سکے کہ ہم دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تو لاہور میں اردو بازار کے چوک میں چاغی پہاڑ کا ماڈل موجود تھا لیکن اب غائب ہے اس کی وجہ شا ید سڑکوں کی تعمیر نو ہو سکتی ہے ، اسی طرح سے لاہور ریلوے سٹیشن کے پاس چا غی پہاڑ کا جو ماڈل تھا اب نہیں رہا جبکہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے شالیمار روڈ پر شاہین میزائل کا ماڈل بھی دیکھا تھا ۔ کہنے کا مقصد صرف اتنا ہی ہے کہ اگر یہ ماڈلز ڈسپلے کے لئے رکھے جائیں تو ہماری نوجوان نسل اپنے جوہری طاقت سے آگاہ ہو سکتی ہے ان میں اس حوالے سے مزید جاننے کی دلچسپی پیدا ہو سکتی ہے۔ ہم یوم تکبیر تو منا لیںگے لیکن اگر یہ چاغی پہاڑ سے لیکر ہمارے میزائلز کے ماڈلز بھی موجود ہوں تو حالات و واقعات کو سمجھنا اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔ آج وہی دور حکومت ہے جن کی نگرانی میں ہم خود کو ایٹمی طاقت کہلا پائے ان سے گزارش ہے کہ ان ماڈلز کو ایک بار پھر لاہو ر اور دیگر شہروں کی زینت بنایا جائے اور جو ماڈل موجود ہیں انکی حالت زار کی بھی خبر لی جائے۔