ورلڈ کپ میں بھی کرس گیل نے نئی تاریخ رقم کر دی

ورلڈ کپ میں بھی کرس گیل نے نئی تاریخ رقم کر دی

محمد معین
کرکٹ بائی چانس ہے اور جب چانس مل جائے تو کئی کھلاڑی ایسے کارنامہ سر انجام دے دیتے ہیں۔ کہ شائقین کو مدتوں یاد رکھتے ہیں اور تاریخ میں ان کا نام چمکتا رہتا ہے دنیا بھر میں بہت سے کرکٹرز ہیں جو اپنی دھواں دھار بلے بازی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں اور جب وہ کریز پر کھڑے ہوں تو مخالف بلے بازوں کے لئے وبال جان بن جاتے ہیں۔باﺅلرز اپنی لائن اور لینتھ بھول جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک کرکٹرز کا تعلق ویسٹ انڈیز سے ہے۔ 35 سالہ کرسٹوفر ہنری گیل جو کرس گیل کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ کالی آندھی کے دیس میں ان کو گیل فورس، گیل سٹورم، ماسٹر سٹورم کے نام بھی یاد کیا جاتا ہے۔ وہ 21 ستمبر 1979ءمیں پیدا ہوئے۔ وہ کریز پر ٹھہرے ہوں تو کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ وہ کھڑے کھڑے گیند کو باﺅنڈری سے باہر پھینکنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اس میں ان کے 6 فٹ 4 انچ کے قد کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ وہ قد کابھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں اور گیندوں کو آرام سے باﺅنڈری کی راہ دکھاتے ہیں۔رواں ورلڈ کپ میں بھی انہوں نے نیا کارنامہ سرانجام دیا اور تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں۔
24 فروری 2015ءکو زمبابوے کیخلاف میچ میں 215 رنز کی تیز رفتار اننگز کھیلی اور ورلڈ کپ کی تاریخ میں ڈبل سنچری بنانے والے دنیا کے پہلے بلے باز بن گئے۔ اس کارنامہ میں انہوں نے 147 گیندوں کا سامنا کیا۔ ان کی اس شاندار انفرادی اننگز میں 16 چھکے اور 10 چوکے بھی شامل تھے۔ انہوں نے زمبابوے کے باﺅلرز کی خوب درگت بنائی اور شائقین ان کے چھکوں پر کیچ پکڑنے کی کوشش میں لگے رہے۔ اس دوران انہوں نے 139 گیندوں پر تیز ترین ڈبل سنچری بنانے کا بھی اعزاز حاصل کیا۔ دوسری وکٹ کی پارٹنرشپ میں 372 رنز کا عالمی ریکارڈ بھی بنایا۔ انہوں نے دوسری وکٹ پر 298 گیندیں کھیلنے کا بھی عالمی ریکارڈ بنایا۔ اس ریکارڈ ساز میچ میں ویسٹ انڈیز کے ورلڈ کپ کا اپنا سب سے زیادہ سکور بنانے بھی ریکارڈ بہتر کیا۔ یہ ورلڈ کپ کی تاریخ کا پانچواں چھٹا برا سکور ہے۔ کرس گیل وکٹ پر کھڑے ہوں تو بڑے سنجیدہ نظر آتے ہیں اور تمام تر توجہ اور نظر گیند پر ہوتی ہے۔ اگرچہ اننگز کے آغاز میں کچھ آرام سے کھیلتے ہیں مگر جیسے جیسے کھیل آگے بڑھتا ہے وہ بھی اپنے ایکشن میں آ جاتے ہیں۔ ان سے قبل بھی ون ڈے کرکٹ میں چار ڈبل سنچریاں بن چکی ہیں۔ اورچاروں ڈبل سنچریاں بنانے والے بھارتی بلے باز یہی گویا وہ بھارت کے علاوہ ڈبل سنچری بنانے والے بھی دنیا کے پہلے کھلاڑی ہیں کرکٹ تاریخ میں دوسری ڈبل سنچری 2 نومبر 2013ء کو بھارت کے روہیت شرما نے بنگلور کے میدان پر آسٹریلیا کے خلاف بنائی۔ انہوں نے 158 گیندوں کا سامنا کیا تھا اور ان کی اننگز میں 12 چوکے اور 16 چھکے شامل تھے۔ تیسری ڈبل سنچری بھارت کے ہی سچن ٹنڈولکر نے 24 فروری 2014ء کو گوالیار کے میدان میں جنوبی افریقہ کے خلاف بنائی۔ انہوں نے 147 گیندوں کا سامنا کیا۔ ان کی اننگز میں 28 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے۔
چوتھے ڈبل سنچری بھارت کے ہی رویت شرما نے 13 نومبر 2014 ءکو کولکتہ کے میدان میں سری لنکا کے خلاف بنائی۔ انہوں نے 173 گیندوں کا سامنا کیا۔ ان کی اننگز میں 33 چوکے اور 9 چھکے شامل تھے۔ پانچویں ڈبل سنچری ویسٹ انڈیز کے کرس گیل نے 24 فروری 2015ء کو ورلڈ کپ میں زمبابوے کیخلاف بنائی۔ انہوں نے 147 گیندوں کا سامنا کیا۔ ان کی اننگز میں 16 چھکے اور 10 چوکے شامل تھے۔
یہ ڈبل سنچری آسٹریلیا کے شہر .... کے میدان اوول میں بنائی گئی۔ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کی پہلی ڈبل سنچری بنانے کا اعزاز بھی بھارت کے ہی وریندر سہواگ کے پاس ہے۔ -7 سہواگ نے 8 دسمبر2011ء کو ویسٹ انڈیز کے خلاف 219 رنز بنائے تھے۔ انہوں نے 149 گیندوں کا سامنا کیا تھا۔ ان کی اننگز میں 25 چوکے اور 7 چھکے شامل تھے۔
کرکٹ میں منفرد نام رکھنے والے کالی آندھی کے کرس گیل دنیا کے واحد کھلاڑی ہیں جو ٹیسٹ کرکٹ میں ٹرپل سنچری، ون ڈے میں ڈبل سنچری اور ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں سنچری بنائے اعزاز رکھتے ہیں۔ انہوں نے ون ڈے تاریخ میں تیز ترین ڈبل سنچری صرف 139 گیندوں پر بنائی۔ وہ ون ڈے فارمیٹ میں 45 نمبر کی شرٹ استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے 16 فروری 2006ء کو نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹونٹی کرکٹ کا آغاز کیا تھا۔
8 آخری ٹی ٹونٹی میچ 19 فروری 2005ءکو جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا تھا۔ وہ 1998ء سے 2008ء تک جمیکا 2008ءمیں وورسیسٹر شائر، 2008-10 کولکتہ نائٹ رائیڈرز 2009-11 ویسٹرن وائیررز 2011ء تاحال رائل چیلنجرز بنگلور، 2011ءسے تاحال سڈنی تھینڈرز، 2012ء میں برسل برنرز، 2006ءمیں سٹینفورڈ سپرسٹارز، 2011ءمیں میٹا بیلی لینڈ ٹسکرز، 2013ء تاحال ڈھاکہ گلیڈ، ایٹرز اور 2014ءمیں ہائی ویلڈ لائنز کی طرف سے کھیل چکے ہیں۔ وہ ون ڈے فارمیٹ 261 میچز میں ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرتے ہوئے 9,136 رنز بنا چکے ہیں۔ یہ رنز ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کیخلاف میچ سے قبل کے ہیں۔ ان کی بیٹنگ اوسط 37.44 ہے۔ 22 سنچریاں اور 46 نصف سنچریاں بھی ان کے کھاتے میں شامل ہیں۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 215 ہے۔ وہ ایک روزہ میچوں میں 158 وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی بہترین باﺅلنگ 36 رنز کے عوض 5 وکٹیں ہیں۔ 103 ٹیسٹ میچز میں 7214 رنز بنائے ہیں۔ جن میں 10 سنچریاں اور 36 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ان کا سب سے زیادہ سکور 333 ہے۔ وہ 73 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ بہترین باﺅلنگ 34 رنز کے عوض 5 وکٹیں ہیں۔
45 ٹی ٹونٹی میچز میں 1406 رنز بنائے ہیں جن میں ایک سنچری اور 12 نصف سنچریاں شامل ہیں زیادہ سے زیادہ سکور 117 ہے۔ وہ 15 وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی بہترین باﺅلنگ 15 رنز کے عوض ........ وکٹیں ہیں وہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کی کپتانی بھی کر چکے ہیں۔ ناقدین ان پر تنقید بھی کرتے ہیں کہ وہ کبھی کبھار ہی بڑی یا اچھی اننگز کھیلتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ جب وہ کھیلتے میں شائقین میدان میں اور ٹیلی ویژن پر خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ریکارڈز ہی ٹوٹنے کے لئے ہیں اور دیکھئے کرس گیل کے نام اور کتنے ریکارڈز آتے ہیں۔