دنیائے کرکٹ کا عالمی میلہ وقت نیوز کے سپیشل پروگرام صرف کرکٹ کے سنگ

محمد ثاقب حسین
کر کٹ بائی چانس ہے۔ ہم اکثر ایسا سنتے ہیں۔کر کٹ کے بارے میں یہ سب کچھ اس لیے کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ کوئی ٹیم کسی بھی وقت دوسری ٹیم کو پیچھاڑ دیتی ہے۔ کبھی رنز کے انبار لگتے ہیں تو کبھی وکٹوں کی لائنیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ آج کل اس ہی کھیل نے نہ صرف پاکستان ، انڈیابلکہ کر کٹ کے چاہنے والوں کے لہو کو پوری دنیا میں گرما رکھا ہے۔ کوئی اپنی پسند یدگی کا اظہار سٹیڈیم میں اپنے ملک کا جھنڈا لہرا کے کرتا ہے تو کوئی اپنے چہرے کو اپنے وطن کے پرچم سے رنگتاہے۔ اسی طرح شائقین کی اکثریت گھروں میں میچ دیکھنے کااہتمام کرتے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ کرکٹ پاکستانیوں کا مقبول ترین کھیل بن چکاہے تو بے جا نہ ہو گا۔ اور جب بات کی جائے دنیا ئے کرکٹ کے میلے کی تو پاکستانی کیونکر کسی ملک سے پیچھے رہ سکتے ہیں۔ اس میں عوام ہی نہیں پاکستان کا ہر ادارہ شامل نظر آتا ہے۔ان میں چاہے پارلیمنٹ کے اراکین ہوں یا پھر افواج کا ترجمان ادارہ۔ الغرض ہر کوئی اس کھیل کی جنگ میںاپنے شاہینوں کو بھر پور انداز میں اپنے خیر سگالی کے پیغامات کے ہمراہ رخصت کرتے ہیں۔ اور خواہش کی جاتی ہے کہ پاکستان ایک بار پھر بانوے کی تاریخ دوہرائے۔اس پورے منظر نامے میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے جس کو کسی بھی طور پر نظراندازکرنا ممکن ہی نہیں۔ یو ں تو پاکستان میں میڈیا کے کئی پرائیو یٹ ادارے ہیں جو کہ ملکی ترقی میںاہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس طر ح جب بات آتی ہے ٹیم پاکستان کی سپورٹ کی تو کوئی بھی اس دوڑ میں پیچھے رہنے کا نہیں سوچتا۔ ہر ٹیلی وژن چینل کرکٹ کے بڑے بڑے ناموں کو ان مقابلوں کے تجزیے کے لیے مدعو کرتا ہے۔ ورلڈ کپ کے میلے کو سجانے کے لیے وقت نیوز نے بھر پور طریقے سے ورلڈ کپ کرکٹ
ٹرانسمیشن کا آغاز " صرف کرکٹ " کے نام سے کیا ۔ گو کہ اس بار کرکٹ کی عالمی جنگ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی سر زمین پر لڑی جارہی جبکہ پاکستان اور ان ممالک کے وقت میں کئی گھنٹوں کا وقفہ ہے۔ باوجود اس کے وقت نیوز کی ٹرانسمیشن " صرف کرکٹ ©©"کے ذریعے اپنے نا ظرین کے لیے دن اور رات کے پیمانے کو نظر اندازکر کے لمحہ با لمحہ صورت حال کاتجزیہ اور ماہرانہ رائے اپنے دیکھنے والوں کو باہم پہنچانے میں مصروف عمل ہیں۔اور ورلڈ کپ کے فائنل تک اس ذمہ داری کو بخوبی نبھانے کا عزم کرتے ہیں۔ اس ٹرانسمیشن میں بطور تبصرہ نگار ملکی کرکٹ کی تاریخ کے سنہری ادوار کے شاہد اور تاریخ کا حصہ رہنے والے ستاروں کا پینل مدعو کیا گیا۔ ان میں ایک بڑا نام جو کے ماضی میں کئی کرکٹر ز کو پاکستان کی جانب سے دنیائے کرکٹ میں متعارف کرواچکے ہیں۔ اپنی گفتگو میں ماضی کے حوالوں کا بھر پور تڑکا لگانے کا فن بھی جانے ہیں ۔ بالکل یہ نا م ہے اظہر خان کا۔ جو کہ پاکستا ن کی کرکٹ کی تاریخ میں ناقابل فراموش کردار ہیں۔ اور جب بات کی جائے اس فاسٹ باﺅلر کی جو کہ خود کو کرکٹر بائی چانس کہلواتے ہیں ۔ جو کے نو ے کی دہائی میں وقار ، وسیم اور عمران جیسے بڑے ستاروں کے ہمراہ کرکٹ کھیل چکے ہیں ۔ جی ہا ں۔۔ کوئی اور نہیں میں بات کررہا ہوں عامر نذیر کی جن کا کیرئیر تاریخی کامیابیوں سے پرُ ہے۔ جنہوں نے اپنے پہلے میچ میں ہی کرکٹ کی تاریخ کو ایک سنہری ریکارڈ سے پرُ کرنے کی بھرپور کوشش کی اگرچہ اس میں کر کٹ کے منصف نے اپنا درست کردار ادا نہیں کیا۔ اسی طر ح جب بات کی جائے انڈیا کی شکست کی اور وہ بھی بھارتی سورماﺅں کی سرزمین پر۔ تو انضما م کی قیادت میں سیالکوٹ سٹالینز کا ایک چمکتا ستارہ جس کے چمکنے کی روشنی سے بھارتی ٹیم چنُد ھیا گئی۔ یہ وہ ہی کھلاڑی ہے جس نے 06 میچوں کی سیریز میں انڈین بلے بازوﺅں کواپنی ریورس سوئنگ سے پریشان کئے رکھا اور کئی میچوں میںبہترین کھلاڑی قرار پایا بلکہ مین آف دی سیریز کا ایوارڈ حاصل کرکے کر کٹ کی دنیا میں تہلکہ مچایا ۔ بالکل درست، ہم بات کر ہے ہیں رانا نوید الحسن کی۔ان کے ساتھ اگر ہم 2012 ءکے ایشیاءکپ کے فائنل کے ہیرو کو کیسے بھول سکتے ہیں۔ جو کہ اب بھی ٹیم میں سلیکشن کے لیے دن رات محنت کررہے ہیں۔ یہاں میں بات کر رہا ہوںاعزاز چیمہ کی، جنہوں نے بنگلہ دیش کی ٹیم کو پچھاڑ کر پاکستان کو ایشیاءکی کرکٹ کا تاج دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہمارے پروگرام میں ایک اور ستارہ جس کا نام چوہدری محمد صدیق ہے ۔ جو کہ تبصرہ کرتے وقت اپنی گفتگو میں ظریفانہ انداز اپنانے میں مہارت ہے۔۔
اس بھر پور گلدستے کے ہمراہ اور اس ٹرانسمیشن کے مایہ ناز اینکر پرسن جن کو صحافتی اور کرکٹ کے حلقے حافظ عمران کے نام سے یا د کرتے ہیں ۔ جن کے پروگرام سے کرکٹ کے چاہنے والوںکے لیے ہمیشہ اچھائی کا پہلو نکلا۔ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کھیل کو کور کرنے والے صحا فیوں کو بخوبی طور پر ہے۔ یہاں ایک بات اور کرتا چلوں کہ اس پوری کاوش میں اگر پس پردہ رہ کر اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کر کے اس پوری ٹرانسمیشن کو کرکٹ کے چاہنے والوں کے لیے ایک نئے انداز میں لانے ، بلکہ ساتھ ساتھ اس پروگرام کے شرکاءکے لیے مختلف انعامات کا سلسلہ شروع کرنے میں جس شخصیت کی محنت کار فرما ہے۔ اس بات کے لکھنے میں مجھے بالکل بھی عار نہیں کہ اس پروگرام کے پروڈیوسر اور پس پردہ ٹیم کے لیڈر عمران اقبال کے تجربے اور ان کی ٹیم کی دن رات کاوش نے اس پوری کوشش کو کامیابی کی طرف لے جانے میں بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ادارہ آئندہ بھی ہمیں اس طر ح کے پروگرامز اور تاریخی ستاروں سے آشنا کردانے میں کو ئی کسر نہ چھوڑے گا۔