حضرت شیخ احمد سرہندی کی تحریک احیائے دین

 پروفیسر محمد اقبال مجددی
امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی (۱۷۹۔۴۳۰۱ھ /۳۶۵۱۔۴۲۶۱ئ) کا زمانہ حیات ( یعنی سولھویں اور سترھویں صدی) کئی اعتبار سے ہیجان انگیز تھا، ا س میں ذہنی انتشار اور معاشرتی بے چینی پھیلانے والی کئی تحریکیں اٹھیں جن کے ہندوستانی معاشرت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ان ادوار میں بہت سی ایسی تحریکوں نے برصغیر پاکستان و ہند کا رخ کیا جن کے مذہبی اعتقادات نے انتشار پھیلانے کی پوری پوری کوشش کی، بد قسمتی سے ان ایام میں اکبر بادشاہ (۶۵۵۱۔۵۰۶۱ئ) اور اس کے ساتھیوں نے زیر اثر آزاد خیالی اور الحاد کیلئے زمین ہموار کی جا رہی تھی، اکبر بادشاہ ابتدا میں دیندار اور پابند صوم و صلوٰۃ تھا وہ علماء کی بہت تعظیم و توقیر کرتا تھا ،اس نے ان کو بڑے بڑے منصب دے کر با اختیار بنا دیا تو علماء    فقر و قناعت سے نکل کر امراء کے زمرے میں آ گئے انھوں نے اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا، عبادت خانہ کے بے ہنگم مباحث نے کم علم اکبر کو دین اسلام سے منحرف کر دیا چونکہ عہدہ دار علماء اہل سنت سے تعلق رکھتے تھے اس لئے قدرتی طور پر دوسرے فرقوں کے علماء نے بھی اس قسم کا اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی اور یہ عہد کر لیا کہ جب تک ان کو اقتدار سے نہ ہٹا دیں چین سے نہ بیٹھیں گے۔
اکبر بادشاہ ان علماء کے کردار اور حُبِ جاہ کی وجہ سے ان سے اتنا متنفر ہوا کہ ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے فکرمند رہنے لگا، ان دنوں جو افسوسناک واقعات پیش آئے ان میں اکبر کے عہد کے ایک نہایت ہی زیرک خانوادہ یعنی ملا شیخ مبارک ناگوری اور اس کے خاندان کی تذلیل و تحقیر تھی ہوا یوں کہ شیخ مبارک اپنے بیٹوں ابو الفضل اور فیضی کو لے کر صدر الصدور شیخ عبدالنبی اور مخدوم الملک ملا عبد اﷲ سلطانپوری کی خدمت میں گیا اور تنگ دستی کی شکایت کرتے ہوئے صرف ایک سو بیگھہ زمین بطور مدد معاش مانگی تو انھوں نے یہ کہہ کر کہ تم بد عقیدہ ہو اپنے در سے نکال دیا، اس وقت فیضی کی رگ حمیت پھڑک اٹھی اور اس نے کہا:’’اگر میں اپنی اصل سے ہوں اور اپنے اعتقاد میں سچا ہوں توتم سے ایسا انتقام لوں گاجس کی گونج سارے ہندوستان میں سنائی دے گی‘‘۔
واقعی وہ گونج سارے ہندوستان میں سنی گئی اکبر نے علماء کا اقتدار ختم کرنے کیلئے منصوبہ تیار کرلیا، اس سارے ڈرامے کی روح رواں ملا مبارک ناگوری اور اس کے یہ دونوں نہایت زیرک اور موقع شناس بیٹے ابو الفضل اور فیضی تھے۔ انھوں نے ۷۸۹ھ /۹۷۵۱ء کو ایک محضر نامہ تیار کیا (۲۔ نظام الدین احمد: طبقات اکبری۳۴۲-۴۴۲ء بدایونی، عبدالقادر : منتخب التواریخ  ۲/۱۷۲-۲۷۲) جس کی رو سے اکبر بادشاہ کو اعدل، اعقل اور اعلم قرار دیتے ہوئے تمام علماء سے اس پر دستخط کروا کر اکبر بادشاہ کو مجتہد تسلیم کروالیا۔
شیخ مبارک ناگوری نے اس محضر نامہ کے نیچے یہ لکھا کہ میں اس بات کا دل و جان سے خواہشمند تھا اور سالہا سال سے اس کا منتظر تھا، بادشاہ کو فتویٰ دینے کا اختیار مل گیا تو پھر اجتہاد کی راہیں کھل گئیں امام کی رائے مستند سمجھی گئی ، شریعت کے مقابلہ میں امام کی رائے کو فوقیت حاصل ہو گئی۔یہ عبد القادر بد ایونی کا بیان ہے جو بالکل درست ہے جس کی تصدیق محضر کے محرک اور دین الٰہی کے رکن اعظم ابو الفضل کی تحریرات سے بھی ہوتی ہے کہ جو لوگ مشرب نصیری اور حسین بن منصور حلاج کے مسلک کے تھے انھوں نے اکبر کے افکار (دین الٰہی) کو قبول کر لیا اور پرانی رسم کے لوگ ( مقلدین اہل سنت) یاوہ گوئی کرنے لگے اور انھوں نے ہر طرف شورش برپا کر دی۔
اب ان باہم دست و گریبان ’’ دین فروش‘‘ (۵۔ عبادت خانہ میں شریک علماء کے لئے ’’دین فروشان‘‘ کی یہ اصطلاح معاصر ماخذ منتخب التواریخ (۳/۸۰۳) سے ماخوذ ہے۔)علماء کا اقتدار ختم ہو گیا کاش یہ علماء خدا ترس ہوتے اپنے عمل و کردار اور تقویٰ سے جب کہ انھیں بادشاہ کی حمایت حاصل تھی ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے ایک مثالی اسلامی مملکت بنا دیتے۔ لیکن ان کی حب جاہ اور دولت کی ہوس نے ہندوستان کے مسلمانوں کو نہایت نازک حالات سے دوچار کر دیا۔ اب ہر غیر اسلامی نظریات رکھنے والی تحریک کو یہاں پنپنے کے خوب مواقع ملے۔ ان باطل فرقوں میں جو ہندوستان آئے فرقۂ نقطویہ کے عقائد سب سے زیادہ خطرناک تھے ان کے نزدیک نماز، حج اور قربانی بے عقلی کے مترادف تھی۔ طہارت اور غسل کے مسائل کی بھی تضحیک کرتے تھے۔ ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ مذہب اسلام منسوخ ہو چکا ہے اس لئے اب نئے دین کی ضرورت ہے۔
 گویاان کا کہنا تھا کہ اسلام کی عمر صرف ایک ہزار سال تھی اب اگلے ہزار سال کیلئے ہمارے مرتب کردہ عقائد قبول کئے جائیں۔ نقطوی تحریک کے بانی دراصل ایرانی علماء تھے جب شاہ عباس صفوی کو ان کے عقائد کا علم ہوا  تو اس نے اس فرقہ کے ماننے والے ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ان میں سے کچھ افراد جان بچا کر ہندوستان آنے میں کامیاب ہو گئے ان میں شریف رملی بڑا با کمال عالم تھا،ان دنوں ہندوستان کے حالات تو پہلے ہی ایسی تحریکوں کے لئے ہموار ہو چکے تھے اکبر اور اس کے حاشیہ نشینوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اکبر بادشاہ اسے اپنے مرشدوں کی طرح مانتا تھا ، خود ابو الفضل کی اس فرقے کے ساتھ ہم آہنگی تھی۔
شریف رملی نے اپنے فرقے کی کتابوں سے ثبوت پیش کرکے اکبر کو نیا دین بنانے کی ترغیب دی۔ جب انھیں اکبری دورکے علماء کی تائید و حمایت حاصل ہو گئی تو انھیں اس کے پورے مواقع ملے اور ان کے عقائد اکبر کے دین الٰہی میں جلوہ گر ہو گئے ۔پابندی شرع کو تقلید کا نام دیا گیا، علمائے حق کو مقلدین کہہ کر شریعت کی پابندی کو تاریکی سے تعبیر کیا گیا اور اس کے مقابلہ میں اکبر کی بارگاہ کو  ہفت اقلیم کا وطن اور دانایان مل و نحل کا مرکز قرار دیا گیا۔
نقطوی فرقہ کے مشہور شاعر تشبیہی کاشی نے اکبر بادشاہ کے حضور ایک قصیدہ پڑھا۔ جس میں اس نے کہا کہ بادشاہ تقلید پرستوں ( اہل سنت) کو ختم کر دے تاکہ حق اپنے مرکز پر پوری طرح استوار ہو جائے اور خالص توحید کو رواج ہو۔ہندوؤں کی مشہور کتاب مہا بھارت کا (۰۹۹۔۵۹۹ھ /۲۸۵۱ئ۔۷۸۵۱ئ) کا ترجمہ فارسی میں کیا گیا تو اکبر کے حکم سے ابو الفضل نے اس پر ایک طویل مقدمہ لکھا جو معاصر مؤرخ عبدالقادربد ایونی کے الفاظ میں ’’ کفریات و حشویات‘‘ کا مجموعہ ہے، اس کا نام رزم نامہ رکھا گیا اور اسے مصور کروانے کے بعد اکبر نے امراء کو حکم دیا کہ اس پر ہاتھ رکھ کر برکت حاصل کریں۔
ابو الفضل نے اس دیباچے میں علمائے حق کیلئے ’’تقلید پرست‘‘ منتسبانِ کیشِ احمدی، پیروانِ کیشِ احمدی، گرفتار زندانِ تقلید اور سادہ لوحان’’تقلید پرست‘‘ جیسے القاب استعمال کئے۔ابو الفضل کے بھائی، ’’دین الٰہی ‘‘کے محرک اور تفسیر سواطع الالہام کے مصنف فیضی کی اسلام دشمنی کے شواہدعبد القادر بدایونی کی زبانی قابل قبول نہ ہوں تو اس عہد کے نامور عالم و محدث شیخ عبد الحق دہلوی کا قول ملاحظہ ہو جس میں آپ نے لکھا ہے کہ باہمہ فضل و کمال فیضی نے ’’ کفر و ضلالت‘‘ کی وادی میں قدم رکھ دیا ہے۔
ان حالات میں حب جاہ کے طالب اور دنیا دار علماء اکبر کے گرد جمع ہو گئے اس طبقہ کو شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے’’ جماعت شوم‘‘ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے ’’علمائے سو‘‘ اور اس عہد کی کتب تاریخ میں ’’مسلمانانِ ہندو مزاج‘‘ کہا گیا ہے۔ ابو الفضل نے تقلید کو ’’تاریکی‘‘ اور ’’آزاد خیالی و الحاد‘‘ کو تحقیق کا نام دیا ہے۔ اب مغلوں کا وہ دربار جہاں بڑے بڑے علماء قال اﷲ و قال رسول اﷲ  ﷺ کہتے تھے کی جگہ ایسے علماء نے لے لی کہ اگر کبھی قرآن مجید یا حدیث شریف کا بیان ہوتا تو حیلہ بازیوں اور تاویلات کے انبار لگا دیئے جاتے۔ان غیر یقینی حالات میں مسلمانوں کی دو جماعتیں وجود میں آئیں۔ ایک وہ جماعت تھی جسے شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے ’’جماعت شوم‘‘ کہا ہے جسے اس عہد کی کتب تاریخ میں مسلمانانِ ہندو مزاج کہا گیا ہے، دوسری جماعت علمائے حق کی تھی جو شریعت کی ترویج اور ملک میں اسلامی حکومت چاہتی تھی۔علمائے حق کی جماعت میں سے جس نے بادشاہ کے خلاف آواز اٹھائی اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ راسخ العقیدہ علماء کا دوسرا طبقہ وہ تھا جو  ان بدلے اور بگڑے ہوئے مذہبی و معاشرتی حالات کا خاموشی سے جائزہ لے رہاتھا ان حضرات نے راز داری اور دانشمندی سے فکری و ذہنی انقلاب برپا کرنے کیلئے کوششوں کا آغاز کیا۔
اکبر کے آخری سنین حکومت میں ۸۰۰۱ھ /۹۹۵۱ء کو افغانستان سے حضرت خواجہ باقی باﷲ دہلی تشریف لائے یہاں آپ نے ایک خانقاہ کی بنیاد ڈالی اور دین دار امرائ، علماء و مشائخ سے رابطہ قائم کرکے حالات کا بغور جائزہ لینے کے بعد نواب مرتضیٰ خان  فرید بخاری، حضرت شیخ احمد سرہندی، حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی اور بعض دیگر احباب کی ایک جماعت کے ساتھ اصلاح احوال کا آغاز کیا۔ لیکن صرف چار سال بعد ہی آپ کا وصال ہو گیا (یعنی ۲۱۰۱ھ /۳۰۶۱ئ) تو آپ کے مخلصین نے اس مشن کو جاری رکھا اب ذہنی و فکری انقلاب کی کمان حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی نے سنبھالی۔ آپ نے نہایت بالغ نظری اور حکیمانہ انداز سے اس سارے انتشار کا جائزہ لیا جو اکبر کے زیر اثر مسلمانانِ ہندو مزاج پھیلا چکے تھے اور مصروف کار تھے آپ نے ایک ایک فتنہ پر غور فرمایا، الحاد و بے دینی اور آزاد مشربی کے منفی اثرات سے مسلم حکومت اور معاشرت کو بچانے کیلئے جو حل تجویز کئے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا دست مبارک انتشار پذیر ملتِ اسلامیہ کی نبض پر تھا۔
حضرت مجدد الف ثانی کی مجددانہ مساعی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اول اکبری عہد ، دوم جہانگیری دور۔اکبر کی وفات (۴۱۰۱ھ/۵۰۶۱ئ) کے وقت آپ ۳۴ سال کے تھے دینی غیرت اور حمیت آپ کی فطرت میں اس طرح شامل تھی کہ کسی بڑے سے بڑے عالم یا صوفی کا کوئی ایسا قول جو شریعتِ اسلامی سے متضاد ہوتا تو آپ اس پر پرجوش الفاظ میں اپنی رائے کا اظہار فرماتے۔عہد اکبری کے مسائل میں سے اہم ترین مسئلہ معاشرے میں نبی کا مقام متعین کرنا اور اس کی اعلیٰ و ارفع حیثیت کو برقرار رکھنے کے لئے جدو جہد کرنا تھا، اس ماحول میں آپ نے واضح الفاظ میں اس حقیقت کا اعلان کیا:’’بعثت کے بغیر صفائی اور تزکیہ کی حقیقت نصیب نہیں ہوتی، عقل حجت ہے لیکن حجت ہونے میں نامکمل اور تاثیر و تکمیل کے درجے کو نہیں پہنچتی، حجت بالغہ صرف انبیاء کرام کی بعثت ہے۔‘‘(۲۱۔مکتوبات امام ربّانی ۱/۶۶۲)
ان حالات میں جبکہ نبوت کے منصب پر چہ می گوئیاں ہو رہی تھیں آپ نے نبوت کے اثبات میں ایک معرکتہ الاراء رسالہ ’’اثبات النبوہ‘‘ کے نام سے عربی میں تالیف کیا، جس کے ذریعہ یہ ثابت کیا کہ صرف بعثت سے ہی انسانی معاشرے کی ذہنیت کو اعتدال پر رکھا جا سکتا ہے۔اکبری عہد کے فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ علمائے سو کا تھا جب اکبر کو ان کی صحبت بد میسر آئی تو وہ  نہ صرف علمائے حق سے متنفر ہوا بلکہ اسلام کو ہی اختلافات او ر خرافات کا مجموعہ سمجھنے لگا،ایسے علماء کو اس عہد کی کتب تاریخ میں’’علمائے سو بے دین ‘‘کہا گیا ہے جب انھیں اکبر کی حمایت حاصل ہو گئی تو انھوں نے اسلام کو جڑوں سے اکھاڑ نے کی کوشش کی دولت و مرتبہ کی ہوس نے ان علماء کے ضمیر کی آواز کو اس قدر مردہ کر دیا تھاکہ وہ بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر قسم کے غیر شرعی فتوے دینے کیلئے تیار ہو جاتے تھے اکبر کو سجدہ کرنے کا جواز  قاضی نظام بدخشی نے پیش کیا تو ملا عالم کابلی کو اس پر بڑی حسرت ہوئی کہ یہ فضیلت انھیں حاصل کیوں نہیں ہوئی۔  انہی کی بدنفسی اور حیلہ گری سے بادشاہ، امراء اور عوام میں شریعت کی عملی صورت بے معنی ہو کر رہ گئی اور بے راہ روی، آزاد مشربی اور لادینیت نے راہ پا لی۔
اکبر کے بعد اس کا بیٹا نور الدین محمد جہانگیر ۴۱۰۱ھ/۵۰۶۱ء کو تخت نشین ہوا، اس کی جانشینی میں اس عہد کے ایک مجاہد امیر نواب مرتضیٰ خان فرید بخاری کا کلیدی کردار تھا۔  حضرت مجدد الف ثانی  ؒکے ساتھ اس کے پہلے ہی مراسم تھے، علمائے حق اور دین دار امراء اس امر کے منتظر تھے کہ کوئی ایسا فرد اکبر کا جانشین بنے جو ہندوستان کی ملت اسلامیہ کو اس الحاد و زندقہ کی فضا سے نکال سکے ،جو اکبر اور اس کے زیر اثر علمائے سو نے پیدا کر دی تھی۔
اکبر اور اس کے حواریوں کی جماعت شوم یعنی مسلمانانِ ہندو مزاج کے مقابلہ میں حضرت مجدد الف ثانی  ؒ نے امراء اور علمائے حق کا ایک گروہ تیار کیا جسے آپ خود ’’جرگۂ ممدانِ دولت اسلام‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ اب آپ نے ترویج شریعت کے لئے فوری اقدام فرمایا اور اصلاحی پروگرام کا ایک خاکہ مرتب کیا جو اس طرح سے تھا:۱۔سلاطین و امراء کو خطوط لکھ کر انھیں زمانۂ ماضی ( عہد اکبری)میں مسلمانوں اور اسلام کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا گیاتھا اس سے آگاہ کیا۔۲۔ترویج شریعت کیلئے بادشاہ کی تائید و حمایت حاصل کی اور بتایا کہ اس دور میں اس کے بغیر یہ کام دشوار ہے۔۳۔بادشاہ سے قرابتِ قریبہ رکھنے والے ارکانِ سلطنت کو پہلے اسلا م کی حقیقی روح سے روشناس کروایا پھر انھیں اس قربت سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا کہ بادشاہ کو ایسے مسائل دینیہ سے آگاہ کیا جائے جس پر عقائد اسلامیہ کی بنیاد ہے۔۴۔سب سے اہم قدم یہ اٹھایا کہ اس امر میں نہایت درجہ بے چینی کا اظہا ر کیا کہ جتنا جلدی ممکن ہو دین دار طبقے کو بادشاہ کا قرب حاصل ہو جائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ’’علمائے سو‘‘ اور’’مسلمانانِ ہندو مزاج ‘‘بادشاہ کے مزاج میں رسوخ حاصل کرنے میں پہل کریں اور ملت اسلامیہ کو پھر سے ان حالات سے گزرنا پڑے جس کا عہد اکبری میں ان کو سامنا کرنا پڑا تھا۔
بادشاہ کی اصلاح کے سلسلہ میں آپ نے اس کے سب سے زیادہ مقرب رکن سلطنت نواب مرتضیٰ خان فرید بخاری کو وسیلہ بنایا اور اس کے نام اپنے مکتوب میں اکبری عہد میں اسلام کی زبوں حالی کا ماتم ان الفاظ میں کیا ہے:’’اس سے قبل کفار ( ہندو) اعلانیہ اور زور کے ساتھ دار اسلام میں کفر کے احکام جاری کرتے رہے ہیں اور مسلمان اسلامی احکام کے اظہار سے عاجز و بے بس تھے اگر مسلمان ایسا کرنے کی جرا ت کرتے تو قتل کر دیئے جاتے۔ عہد اکبری میں اسلام کے سر پر جو بلا و آفت بھی ٹوٹی وہ انہی علماء سو کی شومی کی بدولت تھی بادشاہوں کو یہ علماء سو راہ راست سے بھٹکاتے ہیں ،  جو گمراہی کی راہ اختیا رکر چکے ہیں ان کے مقتدیٰ یہی علماء سو ہیں‘‘۔ (۴۱۔ مکتوبات امام ربّانی ۱/۷۴)
ایک مکتوب میں ترویج شریعت کی اہمیت ان پر زور الفاظ میں واضح کی ہے:’’اعلیٰ ترین نیکی یہ ہے کہ شریعت کی ترویج کیلئے سعی و کوشش کی جائے اور احکام شرع میں سے ایک حکم کو جاری ( رائج) کرنا اور زندہ کرنا خصوصاً ایسے وقت میں کہ جب اسلامی شعائر مٹائے جا رہے ہوں خدا کی راہ میں کروڑ ہا روپیہ خیرات کر دینا بھی اس کے برابر نہیں‘‘۔ (۵۱۔ مکتوبات امام ربّانی  ۱/۸۴)نواب مرتضیٰ فرید بخاری کو ہی ایک مکتوب میں اس کے ساتھ تعلق کا صرف اور صرف یہ مقصد بتایا ہے کہ یہ حقیر صرف تائید و ترویج شریعت حقہ کی خاطر۔۔۔۔آپ کی خدمت شریف کی طرف متوجہ ہوا ہے۔ (۶۱۔ مکتوبات امام ربّانی  ۱/۱۵)
نواب مرتضیٰ فرید بخاری کے بعد دربار کی بڑی مؤثر شخصیت مرزا عزیز الدین مخاطب بہ خان اعظم کی تھی جو اکبر کا رضاعی بھائی اور اعلیٰ منصبوں پر فائز تھا۔ حضرت مجدد الف ثانی نے اسی خانِ اعظم کے نام کئی مکاتیب لکھ کر اسے حالات سے آگاہ کیا ایک مکتوب میں اسے لکھا ہے کہ اسے بادشاہ کا جوقرب حاصل ہے اسے غنیمت جانے، تلقین کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم اس وقت بادشاہ کو دین کی ترغیب دے رہے ہو وہ جہاد اکبر ہے اور ہم جیسے بے دست و پا فقراء اس سے محروم ہیں۔(۷۱۔ مکتوبات امام ربّانی  ۱/۵۶)
عہد جہانگیری کے ایک اور ممتاز رکن سلطنت خان جہان لودھی کو بھی آپ نے دو خطوط لکھے جن میں آپ نے اسے جہانگیر کو مذہب کی طرف راغب کرنے کی تلقین کی۔ایک مکتوب میں اسے لکھا ہے کہ تمھیں جو بادشاہ کا قرب حاصل ہے اگر اس کو حضور انور  ﷺ کی شریعت کی تعمیل کے ساتھ جمع کر دیں تو آپ انبیائِ کرام جیسا کام کریں گے، ہم فقیر لوگ اگر کئی سال اس پرعمل کریں تو آپ جیسے شہبازوں کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔(۸۱۔ مکتوبات امام ربّانی  ۳/۴۵)
ان امراء سلطنت کے علاوہ مرزا عبد الرحیم خان خاناں، مرزا داراب بن خان خانان ، خواجہ جہان اور قلیج خان اندجانی کو آپ نے خطوط لکھ کر جہانگیر کے سامنے کلمہ حق کہنے اور زمانہ اکبری میں اسلام اور مسلمانوں پر جو آفتیں ٹوٹیں ان سے آگاہ کرنے کیلئے کہا اورا ن مؤثر شخصیات نے بادشاہ کے دل میں اسلام کے متعلق ہمدردی سے سوچنے کیلئے اس کے دل میں نرم گوشہ پید اکر دیا۔ آپ کے تیار کردہ اس ’’جرگہ ممدان دولت اسلام‘‘ کی مسلسل جدو جہد سے آخر جہانگیر کو اسلام کی حقانیت کا احساس ہونے لگا تو اس نے نواب مرتضیٰ فرید بخاری اور ملک کے مفتی میراں صدر جہاں سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ چار دین دار علماء کی ایک جماعت ہر وقت دربار میں اس کے ساتھ رہے جو اسے مسائل شرعیہ سے آگاہ  کرتی رہے۔‘‘ اگر کوئی اور مصلح ہوتا تو اس خوشخبری کو اپنی کامیابی سمجھ کرپھولے نہ سماتا لیکن امام ربانی مجدد الف ثانی کو اﷲ تعالیٰ نے ایسی فراست اور دینی بصیرت عطا فرمائی تھی اور چونکہ آپ اکبری عہد کے فتنوں اور علماء سو کے عبادت خانہ میں اجتماع اور ا سکے مضمرات سے آگاہ تھے اور ہندوستان کی ملت اسلامیہ کے انتشار کا اصل سبب آپ کے نزدیک انہی علماء سو کی حب جاہ تھا، اس لئے آپ نے اس کے منفی اثرات کا فوری نوٹس لیا اور نہایت مغموم ہو کر نواب مرتضیٰ فرید بخاری کو ان امور سے خبردار کرتے ہوئے لکھا کہ چار علماء کی بجائے صرف ایک ’’ عالم آخرت‘‘ کو تلاش کرو جو بادشاہ کی دینی اصلاح اور ترویج شریعت کا فریضہ انجام دے۔
دشمنانِ دین کی سازش سے آپ کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں لیکن اس کے بعدآپ نے  جہانگیر کے ساتھ رہ کر ’’عالم آخرت‘‘ کافریضہ خود انجام دیا اور ثابت کر دیا کہ ہندوستان کی ملت اسلامیہ کے سرمایہ کے آپ ہی نگہبان تھے۔ یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ مسلمان ذہنی و فکری زوال کے  بھنور سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔