اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی ؒ

مولانا محمد الیاس قادری
اعلیٰ حضرت امام احمدرضاعلم و فضل کا وہ خورشیدِدرخشاں ہیں کہ جس کی جلوہ گری انیسویں صدی عیسویں کے نصف آخرمیں ہوئی، آپ کا سن ولادت 1372ھ ؍1856ء اور سالِ وصال 1340ھ؍1921ء ہے ۔ آپ کی زندگی کا یہ دوربہت نازک تھا بے اسلام دشمن عناصر طرح طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے تھے ملت اسلامیہ کا شیرازہ بکھرے کو تھا ،مسلمان علم دین سے دور ہوتے جارہے ہیں ،بے دین اپنے باطل عقائد کا پرچار کرکے بھولے بھالے مسلمانوں کو راست حق سے ہمراہ کرنے کی کی مزموم کوششوں میں مصروف عمل تھے ۔
ایسے نامساعدحالات میں اس بات کی ضرورت تھی ہے ۔اللہ عزوجل اپنے کسی ایسے دوست کو اس دنیا میں جلوہ گر کرے جو امت محبوبؐ کیلئے رشد وہدایت کا سرچشمہ بن سامنے آئے ۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت نے چار برس کی عمر میں قرآن مجید ناظرہ کیا اور چھ سال کی عمر میں منبر پر مجمع کے سامنے میلاد شریف پڑھا۔ اردو فارسی اور عربی پڑھنے کے بعد آپ  نے اپنے والد ماجد حضرت مولانا نقی علی خان سے عربی زبان میں دین کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور تیرہ برس دس مہینے کی عمر میں ایک عالم دین بن گئے۔14شعبان 1286ھ مطابق 19نومبر 1869ء میں آپ کودرس نظامی (یعنی عالم کورس مکمل کرنے ) کی سنددی گئی ۔اعلیٰ حضرت کے والد گرامی   نے آپ کی علمی کیفیت سے مطمئن ہوکر آپ فتویٰ نویسی کی اجازت مرحمت فرمادی ،فتویٰ نویسی کی یہ خدمات آپ  نے تاحیات انجام دی۔ آپ کے بے شمار فتاویٰ جات مسلمانوں کے دینی ودنیا مسائل کے حل میں بہترین معاون ثابت ہورہے ہیں
" پھر واقعی دنیا نے دیکھا کہ کسی کالج و یونیورسٹی اور کسی سائنسی علوم میں ماہر کی شاگردی کے بغیر تمام سائنسی علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل ہوئے اور ایسے مشاق ہوگئے کہ تحقیق و ریسرچ کے مطابق صرف سائنسی علوم میں آپ کی کتابوں کی تعداد 150 کے قریب پہنچتی ہے۔
5 فاضل بریلوی 1294 ھ،1877 ء میں اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خان  کے ہمراہ حضرت شاہ آل رسول کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلسلہ قادریہ میں بیعت سے مشرف ہو کر اجازت و خلافت سے بھی نوازے گئے-
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت پروانہ شمع رسالت مہتاب قادریت ،آفتاب رضویت کی شخصیت میں بیک وقت کئی سائنس داں گم تھے ، ایک طرف ان میں ابن الہیثم جیسی فکری بصارت اور علمی روشنی تھی تو دوسری طرف جابر بن حیان جیسی صلاحیت، الخوارزمی اور یعقوب الکندی جیسی کہنہ مشقی تھی، تو دوسری طرف الطبری ، رازی اور بو علی سینا جیسی دانشمندی، فارابی ، البیرونی ، عمر بن خیام، امام غزالی اور ابن رُشد جیسی خداداد ذہانت تھی۔ دوسری طرف امام ابو حنیفہ کے فیض سے فقیہانہ وسیع النظری اور غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی  سے روحانی وابستگی اور لگاو کے تحت عالی ظرف امام احمد رضا کا ہر رخ ایک مستقل علم و فن کا منبع تھا ان کی ذہانت میں کتنے ہی علم و عالم گُم تھے۔"
اعلیٰ حضرت کی علمی بصیرت
اعلیٰ حضرت نے علوم سائنس میں اپنی خداداد مشاقی کی بنیاد پران علوم کی قد آور شخصیات بابائے طبعیات ڈیمو قریطس (۰۷۳ قبل مسیح) بطلمیوس (قبل مسیح) ، ابن سینا (۰۸۹ تا ۷۳۰۱ء ) نصیر الدین طوسی (متوفی ۲۷۶ء ) ، کوپر نیکس (۳۷۴۱ء تا ۲۴۵۱ء ) کپلر (۱۷۵۱ ء تا ۰۳۶۱ء ) ، ولیم ہر شل (سترہویں صدی عیسویں) ، نیوٹن (متوفی ۷۲۷۱ء ) ملا جونپوری (متوفی ۲۵۶۱ء ) گلیلیو (۲۴۶۱ء ) آئن اسٹائن (۹۷۸۱ تا ۶۵۹۱ء ) اور البرٹ ایف پورٹا (۹۱۹۱ء ) کے نظریات کا ردّ اور ان کا تعاقب کیا ہے ، جبکہ ارشمیدس (متوفی ۲۱۲ ق۔م) کے نظریہ وزن ، حجم و کمیت ، محمد بن موسیٰ خوارزمی (۵۱۲ھ؍۱۳۸ء ) کی مساوات الجبراء اور اشکال جیومیٹری، یعقوب الکندی (۵۳۲ھ ؍۰۵۸ء ) ، امام غزالی (۰۵۴ھ تا ۵۰۵ھ؍۹۵۰۱ء تا ۲۱۱۱ء )، امام رازی (۴۴۵ھ تا ۶۰۶ھ ؍۹۴۱۱ء تا ۰۱۲۱ء ) کے فلسفہ الہٰیات، ابو ریحان البیرونی (۱۵۳ھ تا ۰۴۴ھ؍۳۷۹ء تا ۸۴۰۱ء ) ، ابن الہیثم (۰۳۴ھ؍۹۳۰۱ء ) ، عمر الخیام (۷۱۵ھ ؍۳۲۱۱ء ) کے نظریاتِ ہیّت و جغرافیہ، ڈیمو قریطس کے نظریہ ایٹم اور جے جے ٹامس کے نظریات کی تائید کی اور دلائل عقلیہ سے پہلے آیات قرآنیہ پیش کیں۔جس کا مشاہد ہ امام احمدرضا کی ان علوم پر لکھی گئی کتابوں میں کیا جاسکتا ہے۔
 امام احمد رضا نے علومِ دینیہ کے ہر شعبے کے علاوہ صرف سائنسی علوم و فنون سے متعلق جو کتابیں تصنیف کیں ان کی تعداد 150 تک پہنچتی ہے۔جو آپ کی منفرد قوتِ متخیلہ اور مہتم بالشان تحقیقی ذہن کی نشان دہی کرتی ہیں ۔ مثلاً فزکس ، کیمسٹری ، بیالوجی، میتھس، جیومیٹری ، لوگارتھم، ٹوپولوجی، سائکولوجی، پیراسائکولوجی، فونیٹکس، فونالوجی، اسٹرالوجی ، اسٹرا نومی وغیرہ وغیرہ علوم و فنون پر آپ کی تصانیف مشتمل ہیں۔ایٹم کے انشقاق Nuclear Fission سے متعلق آٹو ہان نے 1938ء میں جب کہ امام احمدرضا نے 1919ء میں اس موضوع پر اپنی کتاب الکلمۃ الملہمہ فی الحکمۃ المحکمہ میں کافی تفصیل سے بحث کی ہے۔ کوویلنٹ بانڈ سے متعلق جی این لیوِس نے 1916ء میں جب کہ امام احمد رضا نے 1919ء میں کوویلنٹ بانڈ کے ساتھ ساتھ لونِزڈ بانڈ کے بارے میں بھی کافی کچھ تحریر فرمایا ہے۔
طاعون ، جذام کے علاوہ میڈیکل ایمبریالوجی گیسٹروائن ٹیسٹی نَل فزیولوجی سے متعلق اپنی کتاب مقامع الحدید علیٰ خد لمنطق الجدید میں خوب صورتی اور دلکش اسلوب میں بحث کی ہے ۔اسی طرح امام احمد رضا پہلے مسلم مفکر ہیں جنھوں نے اپنی کتاب الصمصام علیٰ مشکک فی آیۃ علوم الارحام 1896ء میں الٹرا ساونڈ مشین کا فارمولا بیان کیا۔ ماڈرن کمیونیکیشن سسٹم ، آڈیٹری تھیوری ، wave sound وغیرہ سے متعلق آپ کی کتاب الکشف الشافیہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
اعلیٰ حضرت پر نعمتوں بارش کی بنیادی وجہ
 میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اہل سنت، امام احمد رضا خان  پر یہ نوازشات اور کرم عشق رسولؐکے صدقے ہوا یقینا عشق رسول میں مسلمانوں کی دینی ترقی ، سیاسی کامیابی ، علم کی ترویج ، معاشی و عمرانی استحکام اور ثقافتی و تمدنی الغرض ہر سطح کی کامیابیاں و کامرانیاں وابستہ ہیں، اعلیٰ حضرت  کا یہی تجدیدی کارنامہ ہے جس کے سب ہی معترف ہیں۔بلا شبہ عشق رسول جس کے دامن میں آگیا اسے دنیا وآخرت کی تمام دولت مل گئی ۔دنیا میں جہاں کہیں بھی غلبہ دین اسلام یا احیاء اسلامی کی تحریکیں اٹھی ہیں وہ عشق رسولؐ کی مرہونِ منت رہی ہیں۔اشاعت اسلام میںاعلیٰ حضرت کی علمی خدمات
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت نے ہوش سنبھالنے کے بعد اپنی ساری زندگی اسلام کے خدمت اور سنیت کی اشاعت میں صرف فرمائی اور تقریباً ایک ہزار کتابیں لکھیں جن میں فتوی رضویہ بہت ہی ضخیم کتاب ہے۔
کنزالایمان ترجمہ قرآن شریف
آپ نے قرآن مجید کا ترجمعہ کیا جو کہ اردو کے موجودہ تراجم میں سب پر فائق ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ترجمہ کا نام "کنز الایمان" ہے۔ جس پر آپ کے خلیفہ صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی نے حاشیہ لکھا ہے۔
حدائق بخشش
آپ کی نعتیہ کلام کی کتاب حدائق بخشش نے اردو کو مسلمانوں، مومنو اور صوفیوں کی زبان بنادی ہے۔
مصطفیٰ جانِ رحمت پے لاکھوں سلام
شمع بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
بہت مشہور ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاکی لگ بھگ ایک ہزار تصنیفات (مطبوعہ و غیر مطبوعہ) کے جائزہ کے بعد محققین کی قطعی جدید تحقیق کے مطابق یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ایک سو بیس۰۲۱ قدیم و جدید، دینی ، ادبی، اور سائنسی علوم پر امام احمد رضا علیہ الرحمۃ کو دسترس حاصل تھی۔25 صفر المظفر 1340ھ مطابق 1921ء کو جمعہ مبارک کے دن ہندوستان کے وقت کے مطابق 2 بج کر 38 منٹ عین اذان کے وقت ادھر موذن نے حی الفلاح کہا اور ادھر امام احمد رضا خان الرحمن نے داعئی اجل کو لبیک کہا۔ آپ کا مزار پر انوار بریلی شریف میں آج بھی زیارت گاہ خاص و عام بنا ہوا ہے۔