ہڑتال‘ احتجاج‘ تشدد …… ایڈہاک نرسز کو ریگولر کرنے کا اعلان

ہڑتال‘ احتجاج‘ تشدد …… ایڈہاک نرسز کو ریگولر کرنے کا اعلان

ہماری حکومتوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اس وقت تک کسی بات نہیں سنتیں جب تک کہ لوگ احتجاج پر نہ اتر آئیں۔ احتجاج کا سلسلہ شروع ہو جائے تو اس کے باوجود اس وقت تک انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی جب تک کہ پُر امن احتجاج پُر تشدد نہ ہو جائے کسی بھی مسئلے پر احتجاج کرنے والے جب حکومت کی بے حسی سے تنگ آ کر سرکاری دفاتر کا محاصرہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو حکومت کا ’’بازوئے شمشیر زن‘‘ یعنی پولیس حرکت میں آتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے کوئی نہ کوئی سڑک یاچوک میدانِ کارزار میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس ناگفتہ بہ صورتحال کا میڈیا بھی مستعدی سے نوٹس لیتا ہے حکومت مخالف سیاسی جماعتیں مظاہرین کے ساتھ ’’اظہار ہمدردی‘‘ کے لئے پہنچنا شروع ہو جاتی ہیں حالانکہ مظاہرین کی پولیس کے ساتھ نبرد آزمائی سے قبل تک یہ سیاسی جماعتیں شاید کہیں سو رہی ہوتی ہیں۔ پولیس سے  پٹنے والے احتجاجی مظاہرین کی آہ و بکا میڈیا کے ذریعے عوام بلکہ ساری دنیا تک پہنچنا شروع ہوتی ہے تو اس وقت تک تمام معاملات سے بے خبر اعلیٰ ترین حکام حرکت میں آتے ہیں خیر یہ تو ہماری حکومتوں کا عمومی رویہ ہے جو کم و بیش ہر احتجاجی مظاہرے اور مظاہرین کے حوالے سے دیکھنے میں آتا ہے اور آج تک یہ رویہ تبدیل نہیں ہوا۔ جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ بے حسی دراصل ہمارے حکمرانوں کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ مظفر گڑھ میں فرسٹ آئیر کی طالبہ کے ساتھ ہونے والی نا انصافی اور اس کے بعد اس مظلوم لڑکی کی خودکشی کا اندوہناک واقعہ ہمارے متعلقہ محکموں اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی بے حسی پر مہر تصدیق ثبت کر چکا ہے۔ اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرے کرنے اور حکومت کی جانب سے روایتی بے حسی کا ایک بھرپور مظاہرہ گزشتہ دنوں لاہور میں بھی دیکھنے میں آیا جب شہر بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی تیمارداری کرنے والی نرسز نے  اپنے مطالبات منوانے کے لئے ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ نرسز کا مطالبہ تھا کہ ان کو  ریگولر ائزکیا جائے اور اس حوالے سے سروس سٹرکچر تیار کیا جائے۔ حکومت نے حسب روایت ان مطالبات پر پہلے تو کان نہیں دھرا لیکن جب نرسز کا احتجاجی مظاہرہ اور ہڑتال 8ویں  دن میں داخل ہو گیا اور میڈیا نے اپنا فعال کردار ادا کرتے ہوئے اس معاملے کی کوریج شروع کر دی تو  پولیس  نے احتجاج کرنے والی نرسز پر دھاوا بول دیا۔ پولیس کے شیر جوانوں اور ایک عدد شیرنی نے نرسز کو آڑے ہاتھوں لیا اور دل کھول کر ان پر ڈنڈے اور ٹھڈے آزمائے اس ایکشن کے نتیجے میں ایک نرس جو اُمید سے بھی تھی اس کے سمیت کئی اور نرسیں زخمی ہو گئیں  اب حکومت کے بیدار ہونے کی باری تھی۔ نرسز کا مطالبہ تھا کہ انہیں ریگولرائز کیا جائے حکومت نے یہ مطالبہ جزوی طور پر تسلیم کرتے ہوئے سروسز ہسپتال سے تعلق رکھنے والی 180 سے زائد نرسز کو ریگولیٹ کر دیا۔ یہ تمام نرسز ایک عرصے سے اس شعبے میں خدمات سر انجام دے رہی تھیں  ایڈہاک نرسز کو ریگولرائز کرنے کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا اور اس کی بجائے انہیں تین سالہ کنٹریکٹ جاری کر دیا گیا تاہم حکومت کی جانب سے یہ وعدہ کیا گیا کہ تین سالہ معاہدے کے اختتام پر انہیں بھی ریگولرائز کر دیا جائے گا یوں نرسز کا احتجاج اور ہڑتال 8دن جاری رہنے کے بعد ختم ہو گیا۔ نرسز  تو اپنی ڈیوٹی پر واپس پہنچ چکی ہیں لیکن ان مریضوں کے حوالے سے کسی نے بات تک نہیں کی جن کو اس ہڑتال کی وجہ سے شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے علاج معالجے میں تاخیر ہوئی اس کی ذمہ دار حکومت کے ساتھ ساتھ احتجاج کرنے والی نرسوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ حکومت نے نرسز کے جو مطالبات احتجاج کے7 ویں یا8  ویںروز تسلیم کئے وہ پہلے دن بھی تسلیم کئے جا سکتے تھے لیکن حکومت شاید  سمجھتی تھی کہ احتجاج کرنے والی نرسز کے لئے طویل عرصے تک احتجاجی کیمپ جاری رکھنا ممکن نہیں ہو گا اور وہ دلبرداشتہ ہو کر خود ہی گھروں کو چلی جائیں گی اور اسی تنخواہ پر کام کرنے پر راضی ہو جائیں گی۔ لیکن نرسز اپنے موقف پر ڈٹی رہیں اور یوں حکومت کو بالآخر ان کے مطالبات تسلیم کرنے ہی پڑے۔ حکومت کے اس فعل سے جہاں مریضوں کی تکالیف میں اضافہ ہوا وہیں اس کی یہ کمزوری بھی عیاں ہو گئی کہ اس پر احتجاجی مظاہروں ، ہڑتالوں اور بائیکاٹ کے ذریعے دبائو ڈال کر کوئی بھی بات منوائی جا سکتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل لاہور میں ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج روز مرہ زندگی کا حصہ محسوس ہونا شروع ہو گیا تھا۔  ینگ ڈاکٹرز  جب دل چاہے اپنے مطالبات پر مبنی چند بینرز اٹھائے اور بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھے ہسپتالوں میں مریضوں کو تڑپتا بلکتا چھوڑ کر سڑکوں کا رخ کرتے تھے حکومت نے ان کی جانب سے بار بار احتجاجی مظاہرے  بھگتنے کے بعد ان کے ساتھ مذاکرات کی راہ اختیار کی اور یوں بڑی حد تک  ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات تسلیم کر لئے گئے نرسز نے بھی یہی طریقہ اختیار  کیا۔ اس بات میں زرہ برابر شک نہیں کہ میڈیکل کے شعبے سے وابستہ خواتین و حضرات کو بھی وہی معاشی مسائل درپیش ہوتے ہیں جو کسی بھی عام شہری کو درپیش ہوتے ہیں لیکن عام شہری اور میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اگر محکمہ ڈاک کے اہلکار ہڑتال کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں انسان کی زندگی براہ راست متاثر نہیں ہوتی لیکن اگر کوئی ڈاکٹر یا دیگر پیرا میڈیکل سٹاف میں سے کوئی بطور احتجاج اپنا کام چھوڑ دیتا ہے تو اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے اس صورتحال سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ جہاں ڈاکٹرز اور نرسز احتجاج کرنے کا کوئی ایسا طریقہ تلاش کریں جس کی وجہ سے مریضوں کے علاج معالجے پر کوئی اثر نہ پڑے اس طرح حکومت وقت کا فرض ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری شعبے میں خدمات سر انجام دینے والوں خاص طور پر صحت کے شعبے میں ، کی ضرورت  اور جائز مطالبات کو فی الفور پورا کرے اور احتجاج یا ہڑتال  کی نوبت نہ آنے دے۔ نرسز کے بعد  ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن  نے25  مارچ کو ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 2012ء میں کی گئی ہڑتالوں کے باعث حکومت کی جانب سے صوبہ بھر میں کم و بیش 750 ڈاکٹروں کو بھرتی کیا گیا  ان  ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ہمیں تقریباً چار ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں اور اعلیٰ اتھارٹی کی طرف سے ان کو تسلی اور دلاسہ دیا جا رہا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ  پنجاب ڈاکٹر زاہد پرویز   نے نرسوں کی ہڑتال اور ان کے مطالبات منظور  کرنے کے بارے میں بتایا’’ قریباً 2800 نرسز  ہیں جن میں وہ نرسز بھی شامل ہیںجنہوں نے پرائیویٹ نرسنگ  انسی ٹیوٹ سے تربیت حاصل اور  وہ بھی ہیںجو مختلف صوبوں سے ہیں اس کے علاوہ کچھ گورنمنٹ کے نرسنگ  انسی ٹیوٹ سے تربیت یافتہ  ہیں جن کی  بھرتی ایڈہاک  پر ہوئی تھی۔ اس کی وجہ  یہ تھی کہ ان دنوں ڈینگی کے مریضوں میں اضافہ ہورہا تھا تو ہسپتالوں  میں نرسنگ سٹاف کی ضرورت پڑی اس وجہ سے  نرسز کی فوری بھرتی  کی گئی۔ وہ نرسز  پبلک سروس کمشن کا امتحان  پاس نہیں کرنا چاہتی  تھیں وہ چاہتی تھیں کہ ان کو پبلک سروس کمشن کا امتحان  پاس کیے بغیر ریگولر کر دیا جائے حالانکہ یہ میرٹ کے خلاف بات ہے۔ بہر حال  گورنمنٹ نے پھر قانونی نقطہ  اختیار کرتے ہوئے ان تمام نرسز کو  17 مارچ  سے تین سال کا کنٹریکٹ دیا ہے۔ تین سال کے بعد ان تمام کو ریگولر کر دیا جائے گا۔  ریگولر کرنے کا قانونی طریقہ  ہی یہی تھا  جو  ہم نے اختیار کیا ۔ چونکہ  یہ 16 گریڈ کی پوسٹ ہے اس کی تعیناتی  پنجاب پبلک سروس کمشن  کے ذریعے  ہی ہوتی ہے ۔ میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ  آسیہ رزاق نرس کے بچے کی  موت نہیں ہوئی۔ پہلے اس کی پھر اس کے بچے کی موت کی افوا تھی۔  ماں اور بچہ دونوں ٹھیک  ہیں اور وہ نرس اپنے گھر  پر ہے۔ اصل میںنرسز اور لیڈیز  پولیس کی آپس میں تلخ  کلامی ہوئی وہاں سے  وہ آپس میں گتھم گتھا  ہوئیں۔  یہ کوئی پالیسی نہیں تھی اور نہ کسی کا حکم تھا کہ نرسز کے ساتھ جھگڑا کیا جائے یا ان پر تشدد کیا جائے۔ یہ  وقوعہ ان کی آپس کی لڑائی کی وجہ سے ہو ا۔  اصل میں نرسز کا مطالبہ پورا کرنے کے لیے ہمیں قانونی راستہ ڈھونڈنے کے لیے ایک دن لگا   اس کے بعد آرڈر جاری کئے گئے مگر نرسز نے آرڈر جاری ہونے کے بعد بھی دو دن دھرنا دیا ان کا کہنا تھا کہ اس لیٹر پر سیکرٹری ہیلتھ  کے دستخط نہیں ہے۔    نرسزکی لیڈر شپ نہیں تھی جو بات کر سکے۔  اگر دس نرسیں  مذاکرات کے لئے آتی تھیں، وہ باہر جاتیں ،ان کی بات نہیں مانی جاتی تھی وہ  غائب ہو جاتی تھیں تو دوسری دس نرسیں مذاکرات کے لئے آ جاتی تھیں اس لئے مطالبات طے ہونے میں دیر بھی ہوئی ہے جس کی  ذمہ دار نرسیں خود ہیں۔‘‘  پہلے ینگ ڈاکٹر زایسوسی ایشن نے ہڑتال کر کے اپنے  مطالبات منوائے اب نرسز نے بھی ہڑتال کر کے اپنے مطالبات منوا لئے۔ کیا یہ ایک ٹرینڈ نہیں بن گیا؟ اس  پر ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر  زاہد پرویز نے  کہا’’  یہ ٹرینڈ اچھا نہیں ہے کہ  پریشر گروپ بنا کر گورنمنٹ  کو مجبور کر کے  اپنے مطالبات منوائے جائیں۔ اگر پبلک سروس کمشن  کا امتحان ہوتا تو اس میں اور بہت سی نرسوں کو  بھی موقع ملتا اور جو میرٹ پر آتیں ان کو ملازمت مل جاتی اور ایک اچھا سٹاف کام کے لئے بھرتی ہوتا۔  ان کے اس عمل سے ان  نرسز کی حق تلفی ہوئی ہے جو پبلک سروس کمشن کا امتحان دینے کے انتظار میں بیٹھی تھیں چونکہ ہمیں ہڑتال کے ذریعے مجبور کیا گیا۔ جو بھی پریشر گروپ بنا کر اپنے مطالبات منواتے ہیں اس سے  میرٹ کی خلاف ورزی ہوتی ہے دوسرا ڈسپلن بھی قائم نہیں رہتا۔  میرا خیال ہے آہستہ آہستہ  یہ چیزیں ختم ہو جائیں گی۔  جب میرٹ کی بالادستی   اور ایڈہاک پالیسی ختم ہو جائے گی تو پھر پریشر گروپ بھی نہیں بن سکیں۔ ‘‘ لاہور میں احتجاج کرنے والی نرسز کے کیا مطالبات تھے اور حکومت نے ان مطالبات کو پورا کرنے کے حوالے سے کیا اقدامات کئے ہیں اس حوالے سے ایڈہاک نرسز کی سروسز ہسپتال کی نمائندہ شبنم سے بات ہوئی۔ آئیے سنتے ہیں وہ کیا کہتی ہیں۔  شبنم نے بتایا’’ 2009ء میں نرسز کی بھرتی  کے لیے پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے اشتہار آیا۔ جس میں یہ لکھا تھا کہ ایڈہاک  پر بھرتی  کی نرسز کو چھ ماہ کے بعد  ریگولر کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور  شرط نہیں لکھی گئی تھی۔ میری بھرتی بھی سروسز ہسپتال میں 2009ء میں ہوئی اور میرے ساتھ  سروسز ہسپتال کی  تمام  ایڈہاک  پربھرتی  کی نرسز کے چھ ماہ ابھی باقی تھے ۔ گورنمنٹ نے مختلف ہسپتالوں میں ایڈہاک پر بھرتی  نرسز جو کہ 2800  کے قریب ہیں  ان میں سے 200 کے قریب جناح  ہسپتال، میو ہسپتال ،  کوٹ خواجہ سعید ہسپتال اور جنرل ہسپتال کی نرسز کو ٹرمینیٹ لیٹر جاری کر دئیے۔ اس کے علاوہ کچھ نرسز کا کنٹریکٹ ہی ختم کر دیا گیا۔ گورنمنٹ نے کہا ہم صرف گورنمنٹ کے نرسنگ انسی ٹیوٹ سے تربیت  یافتہ  نرسز کو ریگولرائز  کریں گے۔ پرائیویٹ نرسنگ انسٹی ٹیوٹ سے تربیت یافتہ نرسز کو نکال دیا جائے گا۔ وہ پرائیویٹ سیکٹر میں جا کر کام کریں۔ اس کے علاوہ پنجاب گورنمنٹ کا یہ کہنا تھا کہ دوسرے صوبوں کی تمام نرسز اپنے اپنے صوبوں میں جا کر کام کریں۔ وہاں پر آسامیوں کا اعلان کر دیا جائے گا۔ پنجاب گورنمنٹ  کایہ فیصلہ ایڈہاک  پر بھرتی نرسز  میں جنگل  میں آگ کی طرح پھیل گیا۔ ہم سے ینگ نرسز ایسوسی ایشن کے صدر روزینہ نے رابطہ کیا اور ہم میں تحریک پیدا کی کہ ہم اپنے حق کے لئے نکل پڑیں۔ ہمیں بھی پنجاب حکومت کے اس فیصلے سے اتفاق نہیں تھا۔ بے شک ہم نے پرائیویٹ ادارے سے نرسنگ کا کورس کیا   مگر ہم نے تو کورس کی فیس بھی ادا کی۔  حالانکہ  سرکاری ادارے سے تربیت حاصل کرنے والی نرسز کو تو وظیفہ بھی ملتا ہے۔  قابل ذکر بات یہ ہے کہ گورنمنٹ  یا پرائیویٹ ادارے سے تربیت  یافتہ نرسز پاکستان نرسنگ کونسل میں رجسٹریشن کروانے کے بعد ہی ملازمت کر سکتی ہیں۔ پھر پنجاب حکومت نے پرائیویٹ ادارے سے تربیت حاصل کرنے والی نرسز کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا؟ پنجاب حکومت کا یہ کہنا کہ آپ اپنے اپنے صوبوں میں جا کر کام کریں  ہے۔ اگر ایسا تھا تو سرکاری آسامیوں کے اشتہار میں یہ شرط کیوں نہیں لکھی  گئی کہ  ان آسامیوں کے لیے صرف پنجاب کی نرسز اہل ہوں گی۔ حکومتی نمائندوں سے  مذاکرات کے سلسلہ میں ہماری 20 کے قریب میٹنگز ہوئیں۔ آخری مذاکراتی میٹنگ میں رانا ثناء اللہ بھی شامل تھے۔ پہلے تو مذاکرات کے لئے ینگ  نرسز ایسوسی ایشن کے عہدے دار ہی جاتی تھیں مگر پھر ہم ایڈہاک بھرتی نرسز نے کہا ہم بھی مذاکرات میں شامل ہوں گی کیونکہ یہ ہمارا مسئلہ ہے اس پر ہماری سینئرز نرسز جو کہ ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی عہدیداران تھیں ناراض ہو کر چلی گئیں۔  ہمارا  ان سے اختلاف اور تلخ کلامی بھی ہوئی۔ ان کے جانے کے بعد ہم نے اپنی لڑائی خود لڑنے کا فیصلہ کیا اور مطالبات کی منظوری تک دھرنا دینے کا عزم کیا۔  حکومتی مذاکراتی ٹیم نے شروع میں کہا کہ گورنمنٹ نے جو فیصلہ کیا ہے اس پر وہ قائم ہے آپ کا دھرنا دینا فضول ہے۔  گورنمنٹ اپنا فیصلہ واپس نہیں لے گی۔ مذاکراتی ٹیم میں مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق ، سیکرٹری ہیلتھ اور ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر زاہد پرویز بھی شامل تھے۔  ہمارے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے دوسرے شہروں اور صوبوں یعنی خوشاب، بھکر، فیصل آباد، راجن پور، راولپنڈی، بہاولپور کی نرسز بھی لاہور آئیں اور یوں دن بدن ہماری قوت میں اضافہ ہونے لگا۔ پولیس نے ہم پر لاٹھی چارج بھی کیا ہماری ساتھی نرس آسیہ رزاق شادی کے پانچ سال کے بعد ماں بنی تھی وہ سات ماہ کی حاملہ تھی اس پر پولیس تشدد  ہوا۔ ‘ جن ایڈہاک پر بھرتی نرسز کو ٹرمینیٹ اور جن کا کنٹریکٹ ختم کیا گیا  ان تمام نرسز  کو ڈیوٹی جوائن کرنے کاا علان کیا گیا۔ ہڑتال کے دوران کئی ایڈہاک پر بھرتی نرسز ڈیوٹی کر رہی تھی صرف اس لئے کہ مریضوں کو پریشانی نہ ہو۔