ہشت ماہا بچے کی فوتگی کی وجہ؟

 محمد اشرف مرزا برنالی
آٹھ ماہ کا بچہ سات ماہ کے بچے سے ہر حالت میں قوی ہوتا ہے مگر مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر اس کا دنیا میں قائم رہنا ناممکن ہے۔ استقرار حمل کے بعد نطفہ جتنی مدت میں کامل جین بنتا ہے اس سے دو چند مدت میں حرکت کرنے لگتا ہے اور سر چند مدت بعد پیدا ہوتا ہے۔ ابتدائی حالات بہ نسبت لڑکیوں کے لڑکوں میں جلد مکمل ہو جاتے ہیں۔ اس لئے وہ لڑکے جو آٹھویں مہینے میں پیدا ہوا کرتے ہیں اکثر مر جاتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے اگر کسی بچہ کی خلقت 35دن میں ہو جاتی ہے تو 70دن میں حرکت کریگا اور دو سو دس دن یعنی ساتویں مہینے میں پیدا ہو گا مگر اس کے برخلاف آٹھویں میں پیدا ہو گا تو ضائع ہونے کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ ساتویں مہینے میں باہر آنے کی کوشش میں جو حرکت کرتا ہے اور قویٰ کے صتُعف کی وجہ سے جھلیوں کو نہیں پھاڑ سکتا اور تھک کر خاموش رہتا ہے۔ خستگی زائل کر لینے کی کوشش کرتا ہے مگر پھر اپنی کوشش سے آٹھویں مہینہ باہر آ جاتا ہے تو ساتویں مہینہ کی تکلیف اور عالم وجود کی خارجی ایذائیں اس کی تکلیف میں اضافہ کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے وہ مر جاتا ہے مگر برخلاف اس کے اگر کوئی لڑکی آٹھویں مہینے پیدا ہو تو اس کے صحیح سلامت رہنے کے امکانات بہت ہیں کیونکہ لڑکیاں اپنی خلقت بہ نسبت لڑکوں کے دیر میں پوری کرتی ہیں۔ آٹھویں مہینے میں جو حرکت ہوتی ہے وہ پہلی حرکت ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کے زندہ رہنے اور پروان چڑھنے کے امکانات زیادہ ہیں۔