ہسپتال میں آگ بجھانے کی ابتدائی تربیت

ڈاکٹرصابرایازملک
آگ اور پانی پر قابو پانا انتہائی مشکل ہے۔ سیلاب کی صورت میں پانی کی زیادتی جس سے دریا بپھر جائیں نہ صرف کھیت کھلیان، فصلیں تباہ کردیتا ہے بلکہ کئی قیمتی جانیں بھی لے لیتی ہے جس میں مال مویشی بھی شامل ہیں کیونکہ پانی کے آگے کسی کازور نہیں۔ اس طرح آگ لگنے کی صورت میں اگر ابتدائی طور پر قابو نہ پایا جائے تو اسے بجھانے کے لئے کئی دن لگ جاتے ہیں۔ آگ بہت جلد ہر چیز کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے مثل مشہور ہے کہ فلاں بات جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ کیونکہ جنگل میں لکڑی زیادہ ہوتی ہے اس میں ہلکی سی چنگاڑی  نہ بجھنے والی آگ کی صورت اختیار کر جاتی ہے  جسے قابو پانا انتہائی مشکل ہوتا ہے ۔سرکاری ادارے ہوں یا غیر سرکاری، کارخانے، فیکٹریاں،ہوں یا انڈسٹریاں یہاں آگ بجھانے والے آلات تونصب کئے گئے ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر ان آلات کی تاریخ المیاد ختم ہو چکی ہوتی ہے جس سے بڑے نقصان کا خطرہ لاحق رہتا ہے ان اداروں میں آگ بجھانے کی ابتدائی تربیت ضرور دینی چاہئیے۔ کیونکہ گزشتہ برسوں میں اگر سینکڑوں نہیں تو درجنوں ایسے مقامات ، کارخانے، رنگ بنانے کی فیکٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات رونما ہو چکے ہیں اور اس سے حد سے زیادہ  مالی نقصان   تو ہوا لیکن کئی قیمتی جانیں بھی آگ کی نذر ہو گئیں ان میں سے زیادہ تر ایسے واقعات ہیں جہاں چاروں طرف آگ تھی جبکہ باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ایسے میں دم گھٹنے سے اموات ہوئیں۔ غیر ممالک میں بڑی فیکٹریوں یا کارخانوں میں آگ بجھانے کی ابتدائی تربیت ضرور دی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں فاروق ہسپتال میں ریسکیو  1122 کے زیر اہتمام فائر ایمرجنسی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔
فاروق ہسپتال میں ریسکیو 1122 کے زیر اہتمام آگ لگنے کی صورت میں پیدا ہونے والی ایمرجنسی سے متعلقہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں فاروق ہسپتال علامہ اقبال ٹائون اور ویسٹ وڈ، اختر سعید ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال اور اختر سعید میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے عملے کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں 1122 کے انسٹرکٹر محمد ثاقب اور تیمور احمد  کے انتہائی سادہ، جامعہ اور آلات کی مدد سے تفصیلی طور پر لوگوں کو تربیت دی۔ کہ اگر کہیں آگ لگ جائے تو کس طرح سے انسانی جان عمارت اور سازو سامان کو بچایا جا سکتا ہے۔ اور مختلف قسم کی آگ کو کنٹرول کرنے کے مختلف طریقوں سے حاضرین کو آگاہ کیاگیا۔
ورکشاپ کے آخر میں آگ پر قابو پانے کی عملی مشق کا مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب کے آخر میں فاروق ہسپتال کی طرف سے ڈاکٹر صابر ایاز ملک اور ڈاکٹر راشد سراج نے 1122 ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کا بھرپور شکریہ ادا کیا۔ اور ورکشاپ میں حصہ لینے والے تمام افراد میں اسناد تقسیم کیں۔