ورلڈ ٹی بی ڈے

ورلڈ ٹی بی ڈے

اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل الرحمان پلمونالوجی گلاب دیوی پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ،چسٹ کنسلٹنٹ فزیشن اینڈ ڈی ایم ایس گلاب دیوی ہسپتال لاہور اورفوکل پرسن ٹی بی ڈاٹس اینڈ ڈاٹس پلس برائے نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام نے ورلڈ ٹی بی ڈے کے حوالے سے اپنی خصوصی تحریر میں لکھا ٹی بی ایک ایسی مہلک مرض ہے جس کے آثار آج سے تقریباً 7000 سال پہلے کے ملتے ہیں۔ اُس وقت کے بڑے بڑے ڈاکٹرز، سکالرز اور محقق اس بیماری کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتے تھے۔ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس بیماری کی وجہ کیا ہے اسکی تشخیص کیسے کی جا سکتی ہے اور اس کا علاج کیا ہے لیکن وہ سب لوگ ایک بات بخوبی جانتے تھے کہ اس بیماری کا آخرکار انجام صرف اور صرف موت ہے۔
آثار قدیمہ کے محکمہ کی کھدائی کے دوران اور محققین کی نشاندہی اور دلچسپی سے کچھ ایسے ڈھانچوں کی طرف غور وفکر اور تحقیق کی گئی جو ان لوگوں کو اپنی کاوشوں سے ملے تھے۔ ان ڈھانچوں میں انسان اور جانوروں کی ہڈیوں کے ڈھانچے تھے۔ ان ڈھانچوں میں خاص طور پر ریڑھ کی ہڈیوں میں بیماری کی ایسی علامات مشاہدہ میں آئیں جو آج کل ہڈیوں کی ٹی بی سے مماثلت رکھتی ہیں۔ ان ڈھانچوں کی جب عمر کا اندازہ لگایا گیا تو پتہ چلا  ان کی عمریں آج سے تقریباً 7000 سال کی ہیں۔ یعنی ان کا تعلق 5000 سال قبل مسیح سے ہے۔ پھر زمانہ کے ساتھ ساتھ  بیماری کا، پریشانی کا اور علاج میں ناکامی کا سفر گزرتا گیا۔ آخر کار 24 مارچ 1882ء کو ROBERT KOCH نے وہ جرثومہ دریافت کر لیا جوکہ ٹی بی کی بیماری کا باعث بنتا ہے۔ اس جراثیم کا نام MYCOBACTERIUM TUBERCULOSISہے لہٰذا اسی دن کی مناسبت سے ہر سال ورلڈ ٹی بی ڈے پوری دنیا  میں منایا جاتا ہے۔ بیسویں صدی کے درمیانی عرصہ میں بہت اچھی امید تھی کہ اس بیماری پر جلد قابو پا لیا جائے گا مگر بیسویں صدی کے آخری چند سالوں میں یہ بیماری پھر زور پکڑنے لگی اور مریضوں میں  اضافہ ہونے لگا۔ 1994ء میں WHO کے ماہرین نے اس بیماری کو گلوبل ایمرجنسی قرار دیا۔ تاکہ اس کا علاج اور بیماری کا خاتمہ ہنگامی بنیادوں پر کیا جائے اور ایک منظم طریقہ علاج ڈاٹس کی اہمیت کو اجاگر کیا کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ ٹی بی کے بہت سے جراثیم ٹی بی کی ادویات کو مزاحمت کر رہے تھے یعنی ایم ڈی آر ٹی بی 2000ء میں ڈاٹس پلس کی ترجیحی بنیادوں پر علاج کی ضرورت کو محسوس کیا گیا۔ 2006ء میں ایم ڈی آر کی بھی ایک ایڈوانس قسم  ایکس ڈی آر کو نوٹ کیا گیا۔
آج ہم ورلڈ ٹی بی ڈے اسی لیے مناتے ہیں۔ تاکہ ہم وہ تمام کاوشیں، تدابیر اور آگاہی مہم کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کر سکیں کہ ہم سب نے مل جل کر اس بیماری کو کیسے ختم کرنا ہے اور آئندہ کی نسلوں کو کیسے بچانا ہے۔  پاکستان میں 24 مارچ 2001ء  میں ٹی بی کو نیشنل ایمرجنسی قرار دیا گیا۔
 پاکستان میں ہر سال تقریباً چار ملین افراد ٹی بی کے جراثیم کی زد میں آتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ یہ سب کو بیماری لگائیں۔ دنیا کے 22 ممالک جن میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ یعنی 81 فیصد ہے  پاکستان ان ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے۔ پاکستان میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ میں 231 ہے لیکن وہ مریض جن کی بلغم میں ٹی بی کے جراثیم موجود ہوتے ہیں انکی تعداد ایک لاکھ میں 97 ہے۔ اس طرح ہر سال نئے مریضوں کی تعداد تقریباً 4,20,000 ہے جبکہ کل مریض تقریباً 6,70,000 ہے۔ پاکستان میں بیماریوں میں ٹی بی کا تناسب 5.1 فیصد ہے۔ اس کے علاج کیلئے جو طریقہ کار  اختیار کیا گیا  اسے  ٹی بی ڈاٹس کا نام دیا گیا ہے اور اس کے تحت علاج کا دورانیہ 6-8 ماہ ہے۔  ایم ڈی آر ٹی بی  زیادہ خطرناک مرض ہے۔ دنیا کے ستائیں ممالک  میں یہ مرض سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان اُن ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے اور پاکستان میں ایسے مریضوں کی تعداد تقریباً 13000 ہے۔ایسے مریضوں پر ٹی بی کی عام ادویات اثر نہیں کرتیں۔  ڈاٹس پلس کے طریقہ علاج کے تحت اسکی ادویات زیادہ مہنگی اور TOXIC ہوتی ہیں۔ ان مریضوں کا علاج تقریباً 24 ماہ کرنا پڑتا ہے۔ ایک مریض کے علاج اور پھر بحالی پر تقریباً 15 لاکھ کا خرچ ہوتا ہے۔ ٹی بی کے مریضوں کی سالانہ اموات تقریباً 59000 ہیں۔
 پاکستان کوٹی بی کنٹرول کرنے میں جو ٹارگٹس دیئے گئے ہیں۔ ان کے مطابق 2015ء میںٹی بی کے مریضوں میں 50 فیصد کمی ہے اور 2050ء تک ٹی بی کا مکمل خاتمہ ہے لیکن تمام کوششوں کے باوجود اُس وقت بھی دس لاکھ میں سے ایک  ٹی بی کا مریض موجود ہو گا۔
 ٹی بی کی روک تھام میں گلاب دیوی ہسپتال کی اہمیت  اور کارکردگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔   گلاب دیوی ہسپتال کے مشن میں تین نکات بہت  اہم ہیں۔ دکھی انسایت کو علاج کی  سہولیت مہیا کرنا۔ ٹی بی، سینہ اور دل کی امراض میں ڈاکٹروں کی مہارت بڑھانا اور سپیشلسٹ بنانا۔ایک ایسا تعلیمی ماحول پیدا کرنا جس میں ٹی بی، سینہ اور دل کی امراض پر تحقیق ہو سکے۔گلاب دیوی ہسپتال میں تقریباً روزانہ ایک ہزار مریض اس کے مختلف آئوٹ ڈور ڈیپارٹمنٹس میں آتے ہیں۔جن میں چیسٹ او پی ڈی ، ٹی بی ڈاٹس او پی ڈی ، ایم ڈی آر ٹی بی او پی ڈی ، آرتھو پیڈک ٹی بی او پی ڈی ، دمہ آئی ایل ڈی کلینک، شوگر اور ٹی بی کلینک ،کار ڈیک او پی ڈی  اور چیسٹ پین کلینک  ہیںیہ تمام آئوٹ ڈورز ہر وقت ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ، تمام اقسام کی لیبارٹری کی سہولیات ، سینہ اور دل کی ہر قسم کی سرجری کی ضرورت اور سہولت کے رابطے میں ہیں جوکہ تمام کی تمام اس ہسپتال میں موجود ہیں۔ ہسپتال میں داخلہ کے ضرورت مند مریضوں کیلئے پندرہ سو بیڈز کی گنجائش موجود ہے۔
گلاب دیوی ہسپتال میں 2013ء میں  چیسٹ آئوٹ ڈور میں کھانسی، بلغم، بخار، خون کا بلغم میں آنا یا بھوک کا نہ لگنا اور وزن کی مستقل کمی کی شکایات کے ساتھ  کل 201761  مریض آئے ۔  ان مریضوں میں ٹی بی کی علامت کے 20000 مریض تھے۔  پھر  ان TB-SUSPECTS مریضوں کا بلغم ٹیسٹ کیا گیا تو ان میں 6369 مریض ایسے تھے جنکی بلغم میں ٹی بی کے جراثیم آ رہے تھے۔ یہ مریض ایسے تھے جو دوسرے صحت مند لوگوں کو ٹی بی کی بیماری لگا سکتے تھے۔ان 6369 مریضوں میں سے ساٹھ فیصد یعنی 3838 مریضوں کو گلاب دیوی ہستال میں رجسٹرڈ کر کے تمام ادویات مفت فراہم کی گئیں۔ یہ زیادہ تر وہ مریض تھے جو گلاب دیوی ہسپتال کے قریب یا لاہور کے رہائشی تھے جبکہ باقی چالیس فیصد مریض یعنی 2531 مریض ایسے تھے جو دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے، ایسے مریضوں کو ادویات لکھ کر ایک خاص ریفرل سسٹم کے تحت اُن کے گھر کے قریب ترین علاقوں میں اور متعلقہ شہروں میں بھیج دیا گیا۔ تاکہ ان مریضوں کو ادویات لینے میں کوئی دشواری نہ ہو اور بار بار گلاب دیوی ہسپتال میں آنے کی زحمت نہ کرنی پڑے۔
 ایسے تمام مریض جن کو ٹی بی کی بیماری تو تھی لیکن ان کی بلغم میں ٹی بی کے جراثیم نہیں آ رہے تھے  اور وہ دوسرے صحت مند لوگوں کو بیماری لگانے والے نہیں تھے۔ ان کی تعداد 7188 تھی۔ ان میں سے 4843 مریضوں کو گلاب دیوی ہسپتال سے مفت ادویات دی گئیں اور باقی 2345 مریضوں کو ان کے اپنے شہروں میں گھر سے قریب ترین ٹی بی سنٹرز میں  بھیج دیا گیا۔کچھ مریض ایسے تھے جن کو پھیپھڑوں کے علاوہ جسم کے مختلف حصوں کی ٹی بی تھی۔ ایسے مریضوں کی تعداد 1061 تھی۔ ان مریضوں کو پھیپھڑوں کے باہر کی جھلی کی ٹی بی، غدودوں کی ٹی بی، ہڈیوں کی ٹی بی، ریڑھ کی ہڈیوں کی ٹی بی کے علاوہ پیٹ، دماغ، گردہ، مثانہ، آنکھیں، جلد، دل کے باہر کی جھلی اور جسم کے مختلف اعضاء کی ٹی بی تھی۔ ایسے تمام مریضوں کو بھی مکمل چیک اپ کر کے مفت ادویات دی گئیں۔  
اگر کسی شخص کو کھانسی، بخار، بلغم یا خون آتا ہو اور ساتھ ساتھ بھوک اور وزن میں کمی بھی ہو۔ عام قسم کی ادویات کھانے سے فرق بھی نہ پڑ رہا ہو اور یہ علامات دو ہفتوں سے جاری رہیں تو لازمی ہے کہ کس مستند ڈاکٹر سے چیک کروائیں کیونکہ یہ علامتیں ٹی بی کی ہو سکتی ہیں۔ ٹی بی عمر کے کسی حصے میں ہو سکتی ہے لیکن زیادہ تر تقریباً 75 فیصد عمر کے درمیانی حصے کے لوگوں میں ہوتی ہے ۔
 یہ بیماری ایک خاص قسم کے جراثیم سے لگتی ہے جو ایک مریض سے دوسروں کو منتقل ہو جاتا ہے۔ بہت سے لوگ جن میں یہ جراثیم منتقل تو ہو جاتا ہے لیکن ان میں قوت مدافعت اتنی ہوتی ہے کہ وہ ان جراثیموں پر غالب آ جاتی ہے۔ ہاں البتہ ان لوگوں میں کسی بیماری سے یا خوراک کی کمی سے قوت مدافعت کم ہو تو اس کو بیماری کا حملہ ہو سکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ بیماری اس وقت اثرانداز ہو بلکہ چند دنوں سے لے کر کئی سالوں تک یہ جراثیم جس میں رہ کر کسی وقت بھی بیماری لگا سکتے ہیں۔ اگرچہ جسم کا کوئی عضو یا حصہ ایسا نہیں جو اس بیماری سے محفوظ ہو لیکن زیادہ تر تقریباً 70-75 فیصد یہ بیماری پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے۔ پھر جب ایسا مریض کھانسی کرتا ہے تو یہ جراثیم اس کی بلغم کے ذریعے باہر پھیل جاتے ہیں اور جب ایک صحت مند آدمی سانس لیتا ہے تو یہ جراثیم اس کے پھیپھڑوں میں داخل ہو کر صحت مند آدمی کو بھی مریض بنا دیتے ہیں۔ پھیپھڑوں کے علاوہ یہ جراثیم بعض اوقات خوراک کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر معدہ اور آنتوں میں جا کر پیٹ کی ٹی بی بھی لگا دیتے ہیں۔ بیمار جانوروں کا دودہ  بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے اس لیے ہمیشہ ابال کر پینا چاہیے۔بعض اوقات یہ جراثیم جلد پر حملہ کر کے بیماری لگا دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ جسم کا کوئی عضو یا حصہ ایسا نہیں جس کی ٹی بی نہ ہو سکتی ہو۔
 ٹی بی کی تشخیص مختلف طریقوں سے کی جاتی ہے۔ سب سے اہم مفید اور مستند طریقہ بلغم ٹیسٹ ہے۔ ایکسرے میں بیماری کی شدت اور اضافہ کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ ٹیوبر کلین ٹیسٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس مریض میں ٹی بی کی جراثیم داخل ہوئے ہیں لیکن یہ بیماری کو ظاہر نہیں کرتا بعض اوقات جسم کے مختلف حصوں سے مواد لے کر BIOPSY TEST یعنی خوردبین کے ذریعے معائنہ کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ گلٹیوں کا آپریشن کر کے اس کا معائنہ کرنا۔ خون ٹیسٹ کی کوئی خاص اہمیت نہیں سوائے اس کے کہ یہ ٹیسٹ مریض کے علاج کے مؤثر ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔