گائنی وارڈ مشکلات کی آماجگاہ ۔۔۔۔۔ ڈاکٹرز کا ہتک آمیز رویہ

معظمہ نقوی
muazmahnaqvi@gmail.com
ایک وقت تھا جب والدین اپنے بچوں سے پوچھتے تھے کہ آپ بڑے ہوکر کیا بنو گے تو بچے جواب دیتے تھے کہ ہم بڑے ہو کر ڈاکٹر بنیں گے۔ ایک تو شاید ڈاکٹری کے مقدس پیشے کی وجہ سے اور دوسرا شاید ڈاکٹروں کے مہذب رویوں سے متاثر ہو کر ڈاکٹری پیشہ کا انتخاب سب کی ترجیح ہوتا تھا۔راقم الحروف کو اچھی طرح سے اپنا بچپن یاد ہے کہ جب مجھ سے کوئی پوچھتا کہ بڑی ہو کر کیا بنوں گی تو بہت خوشی اور فخر کے ساتھ جواب دیتی کہ ڈاکٹر بنوں گی۔ میرے دل میں ڈاکٹرز کا رویہ بہت متاثر کرتا تھا کہ ڈاکٹرز لوگ کتنے عظیم ہوتے ہیں دوسروں کی جانیں بچاتے ہیں۔ اپنی خوشیوں کو بھی فراموش کر دیتے ہیں کبھی کبھی اپنے فرائض نبھانے میں ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔
چند دن پہلے راقمہ کو جناح ہسپتال کے ایمرجنسی گائنی وارڈجانا پڑا تو وہاں کیحالت زار دیکھ کر تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔اور تقریباً یہی صورتحال تمام سرکاری ہسپتالوں کی ہے۔ سب سے پہلے تو میں لیڈی ڈاکٹر کے روئیے کا تذکرہ کروں گی کہ ڈاکٹر کو مسیحا سمجھا جاتا ہے اور جب لفظ ”مسیحا“ کا ذکر ہو تو فوراً ذہن میں ایک خوشگوار احساس آتا ہے کہ دکھوں سے تکالیف سے نجات دلانے والا وہاں پر میں نے دیکھا کہ لیڈی ڈاکٹرز کا رویہ مریضوں کے ساتھ ہتک آمیز تھا۔ اس طرح سے زچہ کو ہانکا جاتا ہے جیسا بھیڑ بکریوں سے سلوک کیا جاتا ہے اور انکی اس طرح سے بے پردگی اور ذلت کی جاتی ہے جیسے ان سے بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہو۔
ایک تو زچہ ایمرجنسی میں ہوتی ہے اور دوسرا سلپ بنانے کی جگہ پر اتنا رش ہوتا ہے کہ کافی وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ایسا سسٹم ہونا چاہیے کہ مریضوں کو انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ الٹراساﺅنڈ روم ایک ہی ہے جہاں پر خواتین اور مرد حضرات دونوں کاالٹرا ساﺅنڈ کیا جاتا ہے وہاں پر بھی الٹرا ساﺅنڈ کروانے اور پھر الٹرا ساﺅنڈ کی رپورٹ ملنے میں کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی ہسپتال جہاں پر سینکڑوں مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے وہاں پر صرف ایک الٹرا ساﺅنڈ روم کی سہولت اور صرف ایک الٹرا ساﺅنڈ مشین کی سہولت؟ ہمارا ملک شاید اسی وجہ سے ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گیا ہے کہ صحت جیسے بڑے شعبے میں ترقی کا یہ حال ہے۔ سکیورٹی گارڈز کو دیکھ لیجئے وہ تو گائنی رومز میں اس طرح دندناتے ہوئے داخل ہوتے ہیں جیسے وہ پارک میں گھوم رہے ہوں گائنی جیسے پرائیویٹ حصے میں اجازت کے بغیر داخل ہونا بالکل زیب نہیں دیتا اور ہسپتال کے قوانین میں سے ایک قانون یہ بھی بنایا گیا ہے کہ گائنی رومز میں زچہ کے ساتھ اسکی ماں بہن نہیں جا سکتی اس سے رش لگ جاتا ہے مگر کوئی ان سے یہ پوچھے کہ رشتہ دار کو جانے کی اجازت نہیں لیکن ان غیر مردوں کو اجازت ہے کہ وہ دندناتے ہوئے بلا اجازت گائنی رومز میں گھومتے رہیں اور رشتے دار خواتین کو باہر نکالنے کے بہانے سے کئی چکر لگاتے رہیں اور بے پردگی کی انتہا کردیں ان کی یہ ڈیوٹی بھی لیڈی ڈاکٹرز ہی لگاتی ہیںاور سکیورٹی گارڈ وہاں پر تھانیدار بن جاتا ہے مریض کے ساتھ آنے والوں کے ساتھ وحشیانہ رویہ رکھتا ہے اور اگر اسکی مٹھی گرم کر دی جائے تو اسکے روئیے میں تھوڑی تبدیلی آ جاتی ہے گائنی رومز کے گیٹ کے باہر مریضوں کے ورثاءایسے بے یارو مددگار پڑے ہوتے ہیں جیسے فقیر پڑے ہوں ان کے لئے کوئی مناسب رہائش کا بندوبست نہیں کوئی ویٹنگ رومز نہیں بنائے گئے۔ نومولود بچوں کو ان کے ورثاءکے حوالے کرنے والی نام نہاد آیا جس کا کام ہے بچوں کو پیدائش کے بعد لے جا کر ان کے ورثاءکے حوالے کرنا اور ان سے مٹھائی کے نام پر پیسے وصول کرنا۔ میں نے وہاں پر کام کرنے والی آیاﺅں کو ہر بات پر پیسے وصول کرتے دیکھا اور بڑی پھرتی سے ہاتھ کا صفایا کرتے ہوئے پایا۔ کسی کا قیمتی سامان ادھر ادھر کرنا ان کے دومنٹ کا کھیل تھا۔ وہ اتنی صفائی اور مہارت سے کسی کا قیمتی سامان غائب کرتی ہوئی نظر آتیں کہ کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ اور اکثر تو بے بی چینج ہونے کی شکایت بھی ملی ہیں اگر بات کی جائے ہسپتال کی صفائی کی تو صفائی کے بارے میں اتنا کہوں گی کہ وہاں صفائی کے اتنے زیادہ انتظامات کئے جاتے ہیں کہ اگر ایک صحت مند بندے کو جانے کا اتفاق ہو تو وہ بیمار ہو کر واپس آئے۔ ہسپتال کی کنٹین کا یہ حال ہے کہ جو چیز بھی لی جائے اس کی دگنی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہاں پر اشیاءخوردونوش مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر معیاری ہیں مگر ان سے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ اگر خادم اعلیٰ پنجاب جا کر اتنے بڑے ہسپتال کا وزٹ کریں تو انہیں معلوم ہو کہ ہمارے ملک کے بڑے شہروں کے بڑے ہسپتالوں میں سہولیات کی کیا صورت حال ہے وہاں کے ڈاکٹرز کے مریضوں کے ساتھ روئیے کو نوٹ کریں ایپکا اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی وجہ سے ہسپتال کا عملہ غنڈہ گردی پر اتر آیا ہے وہاں پر کوئی مریض یا اسکے ورثاءکسی قسم کی کمپلینٹ کریں تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔خادم اعلیٰ سے گذارش ہے کہ صحت ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے وہ خاص طور پر گائنی وارڈ میں ڈاکٹرز کے رویہ اور مشکلات کا نوٹس لے لیں تو کئی ماوں کی دعائیں ان کی جھولی میں گریں گی۔ ڈاکٹرز کو دوران تعلیم مریضوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنے کے حوالے سے خصوصی ٹریننگ کی ضرورت ہے تاکہ ڈاکٹری جیسے مقدس پیشے سے وابستہ لوگ انسانیت کی تذلیل نہ کریں