پی سی بی گورننگ بورڈ کا اجلاس صرف سفارشات پر ختم

پی سی بی  گورننگ بورڈ کا اجلاس صرف سفارشات پر ختم

پاکستان کرکٹ ٹیم ان دنوں امارات  میں آسٹریلیا کے خلاف سخت  چیلنج سے نبردآزما ہے۔ ٹی ٹونٹی اور ون ڈے میں قومی ٹیم کی ناقص  کارکردگی کے بعد2 ٹیسٹ میچوں میں بھی عوام کو قوم کے ’’ہیرو‘‘ کھلاڑیوں سے کوئی بڑی توقع وابستہ نہیں ہے تاہم دبئی ٹیسٹ  کی پہلی اننگز میں قومی کرکٹرز نے کم بیک کیا اور یونس خان اور سرفراز احمد کی سنچریوں  کی بدولت ساڑھے  چار سو رنز کا مجموعہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ پتہ نہیں قومی کرکٹرز سیریز کی اگلی تین اننگز میں یہ ردھم  برقرار رکھ پائیں گے یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ بہرکیف پاکستان کرکٹ بورڈ  کے زیر اہتمام گورننگ  بورڈ کا 31 واں اجلاس 23 اکتوبر 2014ء کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی  لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس سے 36 گھنٹے قبل ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ یہ اجلاس  دھماکہ خیز ثابت ہوگا ٹیم مینجمنٹ سمیت مختلف افراد کی چھٹی کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل  کرکٹ کے حوالے سے فیصلے منظر عام پر آئیں گے لیکن  پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اجلاس کے بعد جاری ہونے والی پریس ریلیز میں پیالی  میں اٹھنے والے طوفان  کو اس طرح ٹھنڈا  کردیا کہ جیسے پاکستان کرکٹ میں تمام چیزیں بڑے ہی  پرامن طریقے سے انجام پا رہی ہوں۔  تاہم یہ بات حقیقت ہے کہ بورڈ کے موجودہ چیئرمین اتنے بااختیار نہیں جتنا ان کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔ سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی  جو کہ حالات  و واقعات  پر گہری  نظر رکھنے والے تجزیہ نگار بھی ہیں شاید ان کی چڑیا نے انہیں مستقبل کے حوالے سے پلاننگ پہلے سے کرکے دیدی تھی۔  اب بھی بورڈ ان کے اشاروں پر چل رہا ہے۔  نجم سیٹھی  نے بڑی  سمجھداری  کے ساتھ  کرکٹ کے معاملات کو چیئرمین  پی سی بی کے کورٹ سے نکال کر کرکٹ کمیٹی کے سپرد کر دیا اور خود  اس کمیٹی  کے سربراہ بھی بن گئے۔ پاکستان کرکٹ میں اب تک ہونے والی خرابیوں  کا آغاز ان کے دور سے ہوا یہ کہنا بے جا نہ  ہو گا پسند و ناپسند کی بنیاد پر انہوں نے معین خان  کو ہر صورت بورڈ اور کرکٹ میں متحرک رکھنے کی جو  ضد کی تھی  اس کے منفی اثرات شکستوں کی صورت میں قوم کے سامنے آ رہے ہیں اور ابھی کچھ پتہ نہیں کہ مزید  کتنا عرصہ ان کے فیصلوں کی وجہ سے کرکٹ کو مزید  کتنا نقصان ہونا ہے  یہ تمام  باتیں کرکٹ حلقوں میں زبان زدعام   ہیں۔ کرکٹ حلقوں کا خیال ہے کہ معین خان کو منیجر کے عہدے سے ہٹانے سے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس پورے اثرو رسوخ کے ساتھ ٹیم کو وننگ یونٹ میں ڈالنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ نجم سیٹھی جس طرح کرکٹ بورڈ اور کرکٹ کے معاملات  چلا رہے ہیں انہیں بھی چند خوش آمدیوں نے گھیر رکھا ہے جن میں سے ایک کا تعلق عوامی مسلم لیگ کے قائد  شیخ رشید کے شہر سے ہے۔ اس وقت ان کی ’’گڈی‘‘  اونچی ہوائوں میں اڑ رہی ہے اتنی اونچی پرواز میں اس کا کٹنا ناممکنات میں ہے۔ بہرکیف  کرکٹ کو ایسی شخصیات کو برداشت ہی کرنا ہو گا۔ گورننگ بورڈ اجلاس کی بات ہو رہی تھی تو عرض ہے کہ یہ  اجلاس  نشستندً  گفتند برخاستندً کے سوا  کچھ ثابت نہیں ہوا۔  اجلاس کے بعد اعلامیے  میں پی سی بی ویمن ونگ کے حوالے سے بتایا گیا کہ نئے آئین میں پی سی بی  ویمن ونگ کی چیئرپرسن  کے عہدے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اگر واقعی  ایسا ہے تو اس بات کا جواب کون دے گا کہ جب آئین کا اطلاق 10 جولائی 2014ء کو ہو گیا تھا  تقریباً ساڑھے چار ماہ سے زائد عرصہ تک بشریٰ  اعتزاز کس قانون کے تحت  بطور چیئرپرسن  پی سی بی ویمن ونگ رہیں۔اس کا حساب کون دے گا۔ بشریٰ اعتزاز  گزشتہ ماہ کوریا کا بھی بطور پی سی بی ویمن ونگ ایشیئن گیمز کا دورہ کرکے آ چکی ہیں۔ کرکٹ حلقوں کا خیال ہے کہ جب پی سی بی میں نئے آئین کا اطلاق ہو گیا ہے اس کے تحت نئے چیئرمین کا انتخاب  عمل میں لایا گیا ہے  تو پھر ویمن ونگ کی چیئرپرسن تین ماہ تک کیوں خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ پی سی بی ویمن ونگ کی چیئرپرسن کا عہدہ ختم ہونے کے بعد اب مزید بھی اس میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے، عرصہ دراز سے ویمن ونگ کے مختلف عہدوں پر براجمان ’’افراد‘‘  کی بھی اب چھٹی ہو جانی چاہیے۔ ویسے تو چیئرمین پی سی بی اس بات کا اندیہ دے چکے ہیں کہ وہ بورڈ میں رائٹ مین فار رائٹ جاب کے فارمولے پر عمل کرینگے۔ اس کے تحت پاکستان ٹیم کے منیجر و سلیکشن کمیٹی کے سربراہ معین خان کا عہدہ سب سے متنازعہ بنا ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں اس بارے میں کوئی فیصلہ سامنے آ جائے۔ معین خان کو دو میں سے ایک عہدے پر کام کرنا ہوگا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ معین خان نے نئی صورتحال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کے نام امارات سے خط لکھ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر بورڈ میری دوہری ذمہ داریوں پر خوش نہیں ہے تو وہ عہدہ چھوڑنے کے بھی تیار ہیں۔ معین خان نے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے اگر وہ اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔ پی سی بی گورننگ بورڈ کے اجلاس کے بعد اب کیا تبدیلیاں آتی ہیں اس کے بارے میں انتظار کرنا پڑے گا۔ پی سی بی کو قومی ٹیم سے جڑے کسی بھی مسئلے کے حوالے سے فیصلہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز تک موخر کر دینا چاہیے تاکہ کسی بھی فیصلے کا ٹیم کی کارکردگی پر اثر نہ پڑے جبکہ گورننگ بورڈ کے اجلاس میں جو دیگر معاملات رکھے گئے تھے ان پر کام جاری رکھنا چاہیے۔ گورننگ بورڈ کے حوالے سے پی سی بی کے اعلامیے میں جو کچھ کہا گیا اس کے مطابق  پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کے تحت 31 اکتوبر سے ویمن ونگ کی چیئرپرسن کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے جبکہ  انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں  2015-16ء کے لیے صدارت کے پاکستانی امیدوار کا انتخاب کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے جس کے سربراہ خود شہریار خان ہونگے جبکہ دیگر ارکان میں سیکرٹری آئی پی سی محمد اعجاز چودھری، اقبال قاسم، شکیل شیخ اور منصور مسعود خان ممبر شامل ہیں۔ کمیٹی اپنی سفارشات کو حتمی شکل دیکر آئی سی سی کے اہم عہدے کے لیے کسی موزوں شخص کا نام تجویز کرئے گی۔ گورننگ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ملازمین کا  ایک وقت میں دو عہدوں پر ذمہ داریاں انجام دینے والے افراد کے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار چیئرمین پی سی بی کو دیدیا ہے جو ہر کیس کا جائزہ لینے کے بعد ان کے عہدے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرینگے۔ اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ ویمن ونگ کی چیئرپرسن بشریٰ اعتزاز کی ویمن کھیل کی ترقی کے لئے کی جانے والی خدمات کو سراہا گیا تاہم پی سی بی کے نئے آئین کے تحت ویمن ونگ کی چیئرپرسن کا عہدہ ہی نہیں ہے لہذا 31 اکتوبر کے بعد باقاعدہ طور پر پی سی بی ویمن ونگ کی چیئرپرسن کا عہدہ ختم ہو جائے گا۔ سابق چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف نے بشریٰ اعتزاز کے عہدہ میں توسیع کر دی تھی جو ویسے بھی رواں ماہ کے اختتام پر ختم ہو جانا تھا۔ اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ہوم سیریز کے میڈیا رائٹس لانگ ٹرم بنیادوں پر فروخت کے لیے اپنائے جانے والے طریقہ کار کی منظوری بھی دی۔ اس موقع پر گورننگ بورڈ کے ایجنڈا میں شامل ائٹیمز کی منظور کے ساتھ ساتھ شکیل شیخ کی زیر صدارت کام کرنے والی کرکٹ کمیٹی کے کام کو بھی سراہا گیا۔ پی سی بی کے 31 ویں گورننگ بورڈ اجلاس کی صدارت چیئرمین شہریار خان نے کی جبکہ اس موقع پر گورننگ بورڈ کے اراکین سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی، شکیل شیخ، گل زادہ، پروفیسر اعجاز فاروقی، اقبال قاسم، منصور مسعود خان، یوسف نسیم کھوکھر، محمد اعجاز سیکرٹری آئی پی سی، چیف آپریٹننگ آفیسر سبحان احمد، چیف فنانس آفیسر بدر ایم خان، سلمان خان (سیکرٹری بی او جی) نے شرکت کی۔ سوئی ناردرن گیس پائپ لائن سے تعلق رکھنے والے گورننگ بورڈ کے رکن امجد لطیف اپنے محکمہ کی مصروفیات کی بنا پر اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔