میو ہسپتال میں جدید سی ٹی سکین کی سہولت

 میو ہسپتال میں جدید سی ٹی سکین کی سہولت

فرزانہ چودھری 
  حکومت پنجاب میوہسپتال کو  بدلتے وقت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے  کے لئے ہمیشہ کوشاں رہی ہے۔ ہسپتال کو جدید مشینری سے آراستہ کر کے مریضوں کو سہولیات  میسر کی گئیں تاکہ بیماری کی صحیح تشخیص  کے بعد علاج کر کے  ان کو صحت  یابی سے  ہمکنار  کیا جائے۔  علاج معالجے  کے لئے بیماری کی تشخیص  کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی  ہے  اس لئے تشخیص کے عمل کو بہتر بنانے کے لئے میوہسپتال کی ایمرجنسی میں ایک  نیا اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سی ٹی سکینر لگایا  گیا ہے۔ 
 اس کمپیوٹر  کے ذریعے جسم کے اندرونی اعضاء کی تفصیلی اور واضح تصاویر حاصل کی جا سکتی  ہیں۔  یہ اعضاء  کی بیماریوں ‘ ٹیومر‘ گائنی، ہڈیوں  کی بیماریوں اور عام  امراض  کی بھی بہترین تشخیص  کرنے کا  ایک مفید ٹیسٹ ہے۔  اس کے علاوہ دماغ‘ پھیپھڑوں اور پیٹ کے کینسر‘ جسم اور خون کی نالیوں کی بندش‘ پٹھوں کے امراض کے مختلف اعضاء کے ورم میں کمی لانے کا پتہ لگانے کی بہترین مشین ہے۔
میوہسپتال  کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر امجد  شہزاد نے بتایا’’ وقت کے ساتھ ساتھ مریضوں کے علاج معالج کو بہتر بنانے کے لئے  جدید مشینری کا اضافہ کیا جا رہا ہے  اور موجودہ دور کی ضرورت کے حساب  سے بیماریوں کی  تشخیص کے سو فیصد  بہترین رزلٹ کے لئے ایک ایسا CT سکین  یعنی کمپیوٹرائزڈ ٹومو گرافی مشین لگائی گئی ہے۔ مریضوں کو جدید سہولت  فراہم کرنے کے لئے پنجاب حکومت اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ  نے ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے۔  ہمارے پاس پہلے ایک سلائس کا  سی ٹی سکینر تھا۔  مریضوں کی تعداد میں اضافے اور  بیماریوں کے صحیح علاج کے لئے ضروری تھا کہ جدید CT سکینر لگایا جائے۔ جو 128 سلائس (slice)کا ہے۔ اس کی پرفارمنس انتہائی  بہترین  ہے اور پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں  میوہسپتال پہلا واحد ہے جہاں مریضوں  کو128 سلائس کے CT سکینر کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔  اب مریضوں  کے امراض کی  مکمل اور بہترین تشخیص  میں زیادہ  وقت نہیں لگے گا۔ ایمرجنسی کے مریضوں کو 24 گھنٹے  سی ٹی سکین کروانے کی سہولت میسر ہو گی۔ روٹین کے مریضوں کے لئے  ایک سلائس کا  سی ٹی سکینر ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں موجود ہے۔  ہماری یہ پرانی مشین بیک اپ میں رہے گی جبکہ  نئے سی ٹی سکین سے 24 گھنٹہ کام لیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ اس  سی ٹی سکین کی قیمت 85 ملین ہے جس کو خریدنے کا معاہدہ جاپان کی کمپنی سے 2012-13ء  میں کیا گیا تھا۔ مارکیٹ میں یہ جدید مشین  عام نہیں ملتی ہم نے جاپان کی کمپنی Toshiba سے خریدی  ہے ۔  مشین کی مرمت اور سپیئرپارٹس کی فراہمی بھی معاہدے  میں شامل  ہے۔ اس مشین کی خوبی یہ ہے کہ یہ ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں 128 فوٹو جسم کے اعضاء کے لے لیتی ہے۔ اس کی پرفارمنس MRI کے برابر  کی ہے۔   میوہسپتال  میں MRI لگانے کا  اگلا پروگرام ہے اس پر بھی کام ہو رہا  ہے۔ اس کو سرجیکل ٹاور کے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں رکھا جائے گا اس کے ذریعے    مریض  کی انجیو گرافی بھی کر سکتے  ہیں جسے سی ٹی انجیو گرافی کہتے ہیں  سی ٹو انجیوگرافی کی سہولت پہلے صرف پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی  میں میسر تھی اور انجیو گرافی کے لئے مریضوں کو کئی کئی سال بعد کی تاریخ  ملتی تھی۔ اس کے لئے کہا جا سکتا ہے کہ میوہسپتال کے مریضوں  کو جدید سی ٹی سکینر  کی صورت میں بہت بڑی سہولت میسر آ ئی ہے۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ  ڈاکٹر امجد شہزاد نے بتایا’’  یہ سی ٹی سکینر مرض کی تشخیص کرنے کا بہترین آلہ ہے۔  اس کے ذریعے ایسے امراض جن کی تشخیص  مکمل نہیں ہو پاتی تھی یا   ٹھیک نہیں ہو پاتی تھی اور وقت بھی زیادہ لگتا تھا اب بہت کم وقت میں کسی بھی پیچیدہ  مرض کی صحیح تشخیص  ہو سکے گی۔ جس میں مریض کے علاج کے رزلٹ میں بہتری آئے گی۔ خاص کر سر کی چوٹ کے معاملے میں اس کی تشخیص لائف سیونگ ہوتی ہے کیونکہ اگر فوراً پتہ چل جائے کہ چوٹ کے بعد دماغ  کے اندر خون جم رہا ہے   بروقت علاج  سے مریض کی جان بچائی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ جسم کے کسی حصے  سے بھی خون  بہہ رہا ہو‘ جسم کے کسی بھی حصے کی ہڈی ٹوٹی ہو اور کوئی ایسی پتھالوجی چل رہی ہو  جو باقی کسی ٹیسٹ  میں ظاہر نہ ہو رہی ہوتو اس سی ٹی سکینر  کے ذریعے  تشخیص بہت اچھے طریقے سے کی جا سکے گی۔  خاص کر  کینسر کے مریض جن کے جسم کے اندر رسولیاں ہوتی ہیں۔ سی ٹی سکین ٹیسٹ ان رسولیوں  کا سائز   اور اس نے جسم   کے کس کس حصے کو کس حد تک متاثر کیا ہے بتا دیتا ہے۔  کینسر کے مریضوں کا پتہ جلد چل سکتا ہے اور بیماری کی شدت کا بھی پتہ چل سکتا ہے۔  اصل میں ایمرجنسی کے مریضوں کو اس مشین کی اشد ضرورت  تھی اس لئے وقت ضائع  کئے بغیر مریضوں کو اس سہولت کی فراہمی  ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ سی ٹی سکین مشین میوہسپتال میں علاج معالجے کے بہترین طریقوں  میں ایک اچھا اضافہ ہے۔ اس سے پہلے ہم نے ہسپتال میں  میمو گرافی کی مشین لگائی ہے جو بہت سے مریضوں کے  لئے فائدہ مند ہے اور خاص کر  خواتین میں کینسر کی تشخیص میں بہت زیادہ مددگار ثابت ہو تی ہے‘‘۔ ایک سوال کے جواب میں  ڈاکٹر امجد شہزاد نے بتایا’’ سی ٹی سکین کا ٹیسٹ مارکیٹ میں 15 ہزار روپے کا ہوتا ہے جبکہ میوہسپتال کے تمام مریضوںاور ایمرجنسی میں اس کی سہولت مفت فراہم کی جائے گی۔ ہاں اگر کوئی پرائیویٹ  مریض سی ٹی سکین ٹیسٹ کروانا چاہے گا یا کوئی مریض  پرائیویٹ ٹیسٹ کروانا چاہے تو تب اس سے  سی ٹی سکین ٹیسٹ کروانے کی فیس صرف 12سے14 سو روپے  وصول کی جائے گی‘‘۔ انہوں نے بتایا ’’ڈاکٹروں کی تربیت بھی کمپنی سے  معاہدے کا حصہ تھی۔  اس لئے ہمارے ڈاکٹروں  نے اس کی تربیت بھی حاصل کی ہے ہمارے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سٹاف نے اس جدید سی ٹی سکینر کے حوالے سے مکمل تربیت حاصل کی ہے  اور اپنے شعبے کی  تمام مشینوں کے بارے میں مکمل مہارت  حاصل کی ہے۔    اس مشین کے لئے الگ سٹاف نہیں رکھا  گیا بلکہ ریڈیالوجی  ڈیپارٹمنٹ  کا سٹاف ہی باری باری ڈیوٹی دیا کرے گا۔    مریضوں کو کسی قسم  کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا‘‘۔
میوہسپتال ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ  کے سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر  محمد علی نے  بتایا ’’ اس سی ٹی سکینر کی خاصیت  یہ ہے کہ وہ 0.3 سیکنڈ یعنی تین ملی سیکنڈ میں 128 سلائس لے لیتا ہے ایسے مریض اور بچے جو اپنے معالج کے ساتھ ٹیسٹ کے سلسلہ میں تعاون نہیں کرتے  اور اٹھ اٹھ کر بھاگتے ہیں۔   مشین کی پرفارمنس اتنی حساس ہے کہ مریض کے  ہلنے سے پہلے ہی ٹیسٹ ہو چکا ہوتا ہے۔ فالج کے اٹیک  کا عام سی ٹی سکین سے 72 گھنٹوں کے بعد پتہ چلتا ہے مگر اس جدید  سی ٹی سکین  کے ذریعے فالج  کے اٹیک کے فوراً بعد دماغ کے ڈیڈ حصے کو بتانے کی خصوصیت موجود ہے۔ اس میں پوری باڈی انجیو گرافی (خون کی نالیوں کا ٹیسٹ) ہوتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ  یہ تصویر کوتھری ڈی میں دکھاتا ہے اور سرجری‘  گائنی ،آنکھوں  اور ناک کان گلے غرض  جسم کے تمام اعضاء کو تفصیلی  طور پر تھری ڈی سکین کرتا ہے اس کے علاوہ اس میں آٹو انجیکٹر  اور ہڈیوں کے ٹیسٹ Bexa سکین ‘ سی ٹی کار ڈیک انجیو گرافی کی سہولت موجود  ہے  بہت ہی کم وقت   میں مریضوں کی کثیر تعداد  کو سکین کرنے کی خصوصیت  موجود ہے۔  پنجاب گورنمنٹ  اور ہیلتھ  کے شعبہ کے تعاون  اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر امجد شہزاد کی ذاتی کوششوں  اور وائس چانسلر  کی ذاتی دلچسپی  کی وجہ سے اس سہولت کا مہیا ہونا ممکن ہو سکا ہے۔ یہ انسانیت کے لئے  بہت بڑی بھلائی اور مریضوں کے لئے  ایک بہترین تحفہ ہے۔اب مریضوں کو سی ٹی سکین   ٹیسٹ کے لئے کئی دن کا انتظار نہیں کرنا  پڑے گا۔ یہ مشین چند دنوں میں کام کرنا شروع کر دے گی‘‘۔ انہوں نے بتایا ’’پروفیسر  ناصر رضا زیدی  سی ٹی سکین مشین کو سپروائز کر رہے ہیں اور میں فوکل  پرسن ہوں۔ اس مشین کی Specification کی تیاری سے لے کر اب تک کے تمام مراحل  کی نگرانی میں نے کی   ہے۔ میں نے کمپنی کی ہدایات کے مطابق  مشین کی لازمات کی فراہمی کو یقینی بنایا  ہے جس میں ایم ایس میوہسپتال کا اہم کردار ہے۔  اس کام کے لئے انہوں نے میری سپیشل ڈیوٹی لگائی ہے ۔ چند دنوں  تک MRI کی مشین بھی یہاں لگ جائے گی۔ اس پر بھی کام ہو رہا ہے۔  MRI کی مشین سرجیکل ٹاور کے ریڈیالوجسٹ ڈیپارٹمنٹ میں رکھی جائے گی۔