دبئی ٹیسٹ، پاکستانی بلے بازوں کی فارم میں واپسی

دبئی ٹیسٹ، پاکستانی بلے بازوں کی فارم میں واپسی

آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹونٹی اور ون ڈے سیریز ہارنے کے بعد بالآخرٹیسٹ سیریز میں سوئی ہوئی پاکستانی بیٹنگ لائن جاگ اُٹھی اور بلے بازوں نے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 454رنز بناکر طویل عرصہ سے جاری تنقید کی توپوں کو کچھ عرصہ کے لیے چپ کرادیا ہے۔ بیٹنگ لائن کے جاگنے میں یونس خان اور وکٹ کیپرسرفراز احمد کی سنچریوں اور اظہر علی،کپتان مصباح الحق اور اسد شفیق کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کا اہم کردار ہے۔یونس خان کے لیے یہ سنچری اس لحاظ سے بڑی اہمیت کی حامل تھی کہ اس کے ذریعے اُنھوں نے ون ڈے سیریز سے ڈراپ کرنے والے سلیکٹرز کومنہ توڑ جواب دیا ہے جو سیریز سے قبل اُن کی فارم پر اعتراض کررہے تھے۔یونس خان نے ایک مشکل وقت میں جب دو ابتدائی بلے باز بہت کم سکور پر آئوٹ ہوچکے تھے، اظہر علی کے ساتھ ملکر ٹیم کو ایک بڑے سکور کے لیے بنیاد فراہم کی۔وہ پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ (25)ٹیسٹ سنچریاں بناکر انضمام الحق کے ساتھ آکھڑے ہوئے ہیں۔یونس خان نے اپنے اولین ٹیسٹ میچ میں سنچری بنائی تھی اور انھیں اپنے ٹیسٹ کریئر کی سلور جوبلی سنچری مکمل کرنے میں 14 سال لگے ہیں لیکن یہ 25 ویں سنچری ان کے لیے بہت معنی رکھتی ہے۔اس 25 ویں سنچری نے انھیں پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ سنچریوں کے ریکارڈ میں انضمام الحق کے ساتھ مشترکہ مالک بنا دیا ہے۔اس سنچری نے انھیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ہر ملک کے خلاف سنچری کرنے والے پہلے پاکستانی بلے باز کے اعزاز سے بھی نواز دیا ہے۔اظہر علی نے بھی اس مرحلے پر دلیرانہ بیٹنگ کی۔ کپتان مصباح الحق نے بھی اپنے تھربے کو بروئے کار لاتے ہوئے وکٹ پر طویل وقت گزار کر اپنی کھوئی ہوئی فار م بحال کرلی، اُن کے لیے بھی یہ اننگ بہت اہمیت کی حامل تھی۔ کئی اننگز میں سکور نہ کرپانے پر اُن پر بے حد دبائو تھا۔ سیریز سے قبل اُنھوں نے اپنے مسئلہ کا ادراک کرتے ہوئے اپنے وزن میں قابل ذکر حد تک اضافہ کیا اور رنز سکور کرنے میں کامیاب ہوگئے۔اسد شفیق نے بھی اچھی بیٹنگ کی اور ایسے وقت میں جب پاکستان کو بڑے سکور کے لیے ایک پارٹنر شپ کی ضرورت تھی اُنھوں نے کپتان مصباح الحق اور وکٹ کیپر سرفراز احمد کے ساتھ ملکر شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔یونس خان کے بعد پاکستان کی پہلی اننگز کی نمایاں بات سرفراز احمد کی شاندار اور دلیرانہ اننگز تھی۔ انھوں نے نہ صرف مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنچری سکور کی بلکہ خود کو وکٹ کیپر بلے باز کے طور پر بھی منوالیا۔ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی چاروں اننگز میں انھوں نے ایک سنچری اور تین نصف سنچریاں بنائیں اور اب دبئی میں بھی وہ ایک اہم اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔سرفراز احمد کی دبئی ٹیسٹ میں 109 رنز کی اننگز ٹیسٹ کرکٹ میں ایڈم گلکرسٹ کے بعد کسی بھی وکٹ کیپر کی دوسری تیز ترین سنچری ہے۔یہ پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں چوتھی تیز ترین سنچری بھی ہے۔
پاکستان کی بیٹنگ کا اچھا پرفارم کرنا یقیناً خوش آئند ہے اور اس سے پاکستان کو سری لنکا کے خلاف سیریز سے شروع ہونے والی مسلسل شکستوں سے جان چھڑانے میں بھی مدد ملے گی مگر یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ٹیم میں گروپنگ اور سیاست اس قدر زیادہ ہے کہ کپتان کے خلاف باقاعدہ گروپ بازی شروع ہوجاتی ہے اور چیئرمین پی سی بی کو خود پریس کانفرنس کرکے اس سیاست کا راستہ روکنا پڑا۔ بلے بازوں کی اچھی پرفارمنس اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایک بڑے طوفان کو بے قابو ہونے سے پہلے روک دیا گیا جو ورلڈکپ سے پہلے ٹیم کے لیے بے حد نقصان دہ ہوسکتا تھا۔