ایبولا وائرس کیا ہے؟

ایبولا وائرس کیا ہے؟

محمد امین
قدرتی آفات اور بیماریاں امیر غریب عوام اور حکمران کی تفریق کئے بغیر آتی ہیں اور ان کی پکڑ میں کوئی بھی شخص آ سکتا ہے۔ ایڈز،کانگو، پولیو اور ڈینگی کے وبائی امرایض کو ہم ب±ھگت چکے ہیں۔ ا ایبولا وائرس کی وبا پھوٹی ہے جس نے افریقی ممالک میں ہزاروںافراد کو متاثر کیا ہے۔
ایبولا وائرس ہے کیا
ایبولا ایک ایسا وائرس ہے جو انسان کے جسم میں خون کے بہاو پر حملہ کرتا ہے۔سائنسدانوں نے ایبولا کو جریان یا سیلان خون کے بخار کا نام دیا ہے۔اس وائرس کے حملہ آور ہونے کے نتیجے میں ایبولا سے متاثرہ شخص کے جسم کے کسی یا تمام حصوں سے خون رسنے لگتا ہے
یہ مرض 1976 میں سب سے پہلے افریکہ میں ظاہر ہوا تھا اور ایبولا ایک دریا کا نام تھا جوافریکہ کی ریاست جمہوریہ کانگومیں واقع ہے۔ 2013 تک اس کے صرف 1716 واقعات سامنے آئے تاہم رواں برس یہ مغربی افریقہ میں ایک وبا کی شکل میں سامنے آیا اور گیانا، سیریا لیون، لائبریا اور نائیجریا اس سے سب سے متاثر ہوئے ہیں۔
علامات
اس مرض کی علامات میں بخار،گلے میں درد‘ سردرد، دست و قے، جوڑوں اور رگ پٹھوں کا درد، پیٹ میں درد‘قے‘ڈائریا‘خارش‘ بھوک میں کمی کے علاوہ جگر اور گردوں کی کارکردگی بھی متاثرہو جاتی ہے۔
لیبارٹری ٹیسٹ
ملریا‘ٹائفائیڈ بخار گردن ٹور بخار‘ڈینگی فیور سے کافی زیادہ ملتی جلتی علامات کی وجہ سے اس کی تشخص میں تھوڑی مشکل پیش ضرور آ سکتی ہے پھر بھی اس کیلئے مندرجہ ذیل ٹیسٹ کے جانے چاہیے
1-Antibody-capture(ELISA)
2-Antigen-capture detection tests
3-Serum neutralization test
4-(RT-PCR)
 5-Electron microscopy
 6-Virus isolation by cell culture.
پھلاﺅ
ایبولا چار طریقوں سے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوسکتا ہے
1 -پہلا مریض سے قریبی تعلق اس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔
-2 تھوک، خون، ماں کے دودھ، پیشاب، پسینے ، فضلے اور سمیت جسمانی تعلقات وغیرہ سے بھی یہ ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوجاتا ہے، بلکہ ایسا مرد جو اس مرض سے بچنے میں کامیاب ہوجائے اپنے مادہ تولید سے یہ مرض دو سے تین ماہ تک اپنی بیوی میں منتقل کرسکتا ہے۔
-3مریض کے زیراستعمال سرنج کا صحت مند شخص پر استعمال اسے بھی ایبولا کا شکار بناسکتا ہے۔
-4ا ایبولا کے شکار جانوروں کا گوشت کھانے یا ان کے بہت زیادہ رہنا۔
ایبولا سے بچ جانے والے افراد(ماسوائے ایسی خواتین جن کے شوہر اس کا شکار ہوئے انہیں کچھ عرصے تک جسمانی تعلق سے گریز کرنا چاہئے)۔
یہ فلو، خسرے یاایسے ہی عام امراض کی طرح نہیں، بلکہ اس کا بہت کم امکان ہوتا ہے کہ یہ کسی وبا کی طرح ایک سے دوسرے براعظم تک پھیل جائے۔
تاہم متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد اگر اس کا شکار ہوں تو وہ ضرور کسی ملک میں اس کے پھیلاﺅ کا سبب بن سکتے ہیں۔
متاثرہ افراد کی تعداد
عالمی ادارے صحت کے مطابق سات ملکوں میں ایبولا کے اب تک 8400 سے زائد مریض سامنے آچکے ہیں جن میں10اکتیوبر تک 4033 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر وائرس کا پھیلاو¿ روکنے کے لیے مزید اقدامات نہ کیے گئے تو جنوری 2015 تک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 14 لاکھ تک پہنچنے کا احتمال ہے۔
پاکستان میں ایبولا وائرس پھیلنے کے خدشات موجود ہیں کیونکہ بیرون ممالک سے پاکستان آنیوالے مسافروں کا باقاعدہ معائنہ نہیں کیا جاتا۔
 اس موذی مرض کی تشخیص کیلئے بھی ہستپالوں میں علیحدہ کاﺅنٹر بنائے جائیں اور داخلی و خارجی راستوں پر مسافروں کی سکریننگ لازمی کی جائے اور عوام کو اس مرض سے محفوظ رکھنے کیلئے شعور پیدا کیا جائے۔
 عالمی ادارہ صحت نے اس وبا سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے دنیا بھر کے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
 احتیاطی تدابیر
 طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد یہ جراثیم یہاں بھی پھیلا سکتے ہیں۔ اس مرض سے بچنے کے لیے ضروری اقدام بہت ضروری ہے
ہاتھ صابن سے دھوئیں اور صاف ستھرے کپڑے سے پونچھیں۔
 خود کو صرف گھر میں پکائی غذاوں تک ہی محدود رکھیں۔ بازار بھی بنی ہوئی اشیاء سے ہر ممکن حد تک بچنے کی کوشش کریں
 گھر اوراندر کونوں صوفوں اور بیڈز کے نیچے کی جگہ پر جراثیم کش ادویات کا چھڑکاو کریں ۔
کمروں کی کھڑکیوں کو کھول کر رکھیں کمروں میں سورج کی روشنی کا مناسب بندوبست کریں
کیونکہ ایبولا کا جرثومہ جراثیم کش ادویات، گرمی، سورج کی براہ راست روشنی، صابن اور ڈٹرجنٹس کی موجودگی میں زندہ نہیں رہ سکتا۔
گھر میں موجود زندہ چوہوں اور اگر گھر میں کوئی جانور مر گیا ہے تواس کو فوراً گھر سے باہر منتقل کردیں کیوں کہ مردہ جانوروں کی لاشوں سے بھی یہ مرض پھیل سکتا ہے۔
َؑ´علاج
ہومیو پیتھی ایک Holistic اپروچ والا سسٹم ہے جس میں مکمل مریض کو لیا جاتا ہے۔ برطانیہ کا ایک غیر جانبدار ہفتہ روزہ میڈیکل جرنل”برٹس میڈیکل جرنل“ نے اپنی 7جون1986ءکی اشاعت میں ڈاکٹر رچرڈ وارٹن اور ڈاکٹر جارج لیوتھ کے کئے گئے ایک سروے رپورٹ میں مختلف برطانوی ایلوپیتھک ڈاکٹرز کے ہومیوپیتھی کے بارے میں خیالات پیش کئے گئے ہیں کہ ہر 42% ڈاکٹر، اپنے مشکل مریضوں کو ایلوپیتھی اسپیشلسٹ کے بجائے ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کی طرف refer کرتے ہیں۔ WHOنے ہومیوپیتھک کو ”امراض کی روک تھام “کا دوسرا بڑا طریقہ علاج قرار دیا ہے ۔ ہومیوپیتھک ادویات میںکروٹیلس ہاریڈس‘ بوتھراپس‘ لکسس‘مرکیورس کار‘ سکیل کاراور ایکنیشیا کے علاوہ دیگر ادویات بھی مریض کی علامات کو سامنے رکھتے ہوئے دی جا سکتی ہیں۔ہومیو پیتھک ایک ایسی سائنس ہے جس میں پیچیدہ سے پیچید ہ امراض کا شافی علاج موجود ہے جنہیں دوسرا طریقہ علاج والے لاعلاج قراد دے دیتے ہیں۔