ماہ رمضان المبارک، اہمیت فضیلت، تقاضے

ارشا د حسین ناصر


ماہ مبارک رمضان ہجری قمری سال کا نواں مہینہ ہے جس میں طلوع صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک چند امور سے قربت خدا کی نیت سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ مثلا کھانا پینا اور بعض دوسرے مباح کام ترک کر دیئے جاتے ہیں۔ شرعی زبان میں اس ترک کا نام "روزہ" ہے جو اسلام کی ایک اہم ترین عبادت ہے۔ روزہ فقط اسلام میں ہی واجب نہیں بلکہ تمام ملل و مذاہب میں کسی نہ کسی شکل میں روزہ رکھا جاتا ہے اور تمام الہی ادیان اس کی افادیت و اہمیت کے قائل ہیں۔ البتہ ماہ مبارک رمضان میں روزہ رکھنا اسلام سے ہی مختص ہے۔ اسی لئے حضرت امام زین العابدین نے ماہ مبارک رمضان کو اپنی ایک دعا میں جو صحیفہ سجادیہ میں موجود ہے "شہرالاسلام" یعنی اسلام کا مہینہ قرار دیا ہے۔
قرآن اور ماہ مبارک رمضان:
قرآن مجید کی آیات میں ماہ مبارک رمضان اور فریضہ روزہ کی بہت سی خصوصیات بیان ہوئی ہیں جن میں سے چند ایک یہاں ذکر کی جاتی ہیں۔
(۱)۔ روزے کی تشریح:
قرآن مجید روزے کی تشریع اور وجوب کے بارے میں ایک آیت میں صراحت سے فرماتا ہے: "
یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون"
اے ایمان والو، تم پر روزے فرض کئے گئے جیسا کہ تم سے پہلے والوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی اختیار کرو۔ (سورہ بقرہ:۱۸۳)
رمضان کیا ہے؟
رمضان مادہ ’’رمض‘‘ سے ماخوذ ہے جس کے اصلی معنی ہیں سورج کا شدت سے خاک پر چمکنا۔ اس کی وجہ تسمیہ ایک قول کے مطابق یہ نقل ہوئی ہے کہ عرب معمولاً مہینوں کے نام اس وقت کے اعتبار سے انتخاب کرتے تھے جس میں وہ واقع ہوتا تھا۔ اس سال ماہ رمضان شدید گرمیوں کے موسم میں واقع ہوا انہوں نے اس کا نام رمضان انتخاب کر لیا۔ ایک قول کے مطابق رمضان اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور چونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے اس لیے اس کے نام پر اس مہینہ کا نام رکھا گیا۔ مجاہد سے نقل ہوا ہے کہ رمضان نہ کہیں بلکہ ماہ رمضان کہیں اس لیے کہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ رمضان کیسے کہتے ہیں؟۔ اسی کے ہم معنی بات تھوڑے فرق کے ساتھ المیزان میں بھی نقل ہوئی ہے۔مختار الصحاح میں رمضان کی وجہ تسمیہ کے سلسلے میں مجمع البیان کے قول کو قبول کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نماز ظہر کو رمض کہا جاتا ہے اس لیے کہ شدت آفتاب کے وقت پڑھی جاتی ہے۔ رمضان کے جمع کو رمضانات اور ارمضا لکھا ہے۔ نیز اسی کتاب میں رمض کے معنی احتراق (جلنا)کے بھی کئے گئے ہیں۔ اس صورت میں کہا جا سکتا ہے کہ ماہ رمضان کو اس لیے رمضان کہا گیا ہے چونکہ اس میں بندگان خداکے گناہ جل جاتے ہیں اور وہ باطنی طور پر پاک و پاکیزہ ہو جاتے ہیں۔
ماہ رمضان کو نزول قرآن کی وجہ سے دیگر مہینوں پر برتری حاصل ہوئی ہے۔ خدا وند عالم سورہ بقر ہ میں ارشاد فرماتا ہے: شہر رمضان الذی انزل فیہ القران ہدی للناس و بینات من الہدی و الفرقان فمن شہد منم الشہر فلیصہ ... ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن انسانوں کی ہدایت کے لیے ، ہدایت کے ثبوت پیش کرنے کے لیے اور حق کو باطل سے جدا کرنے لیے نازل ہوا پس جو شخص ماہ رمضان کاا دراک کرے اسے چاہیے کہ اس کے روزے رکھے۔۔۔
نہ صرف قرآن ماہ مبارک میں نازل ہوا ہے بلکہ دیگر آسمانی کتابیں بھی اسی مہینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : نزلت التوراہ فی ست مضین من
شہر رمضان یعنی چھ رمضان کو توریت نازل ہوئی بارہ رمضان کو انجیل نازل ہوئی اور اٹھارہ رمضان کو زبور نازل ہوئی اور شب قدر کو قرآن نازل ہوا۔ اس کے علاوہ جناب ابراہیم اور جناب نوح کے مصحف بھی اسی مہینہ میں نازل ہوئے۔پس یہ کہا جا سکتا ہے کہ ماہ رمضان تقریباً تمام آسمانی کتب کے نزول کا مہینہ ہے کہ یہ خود رحمت ہے خدا کی طرف سے اس کے بندوں پر جو اسی مہینہ میں ان کے شامل حال ہوئی ہے۔