تراویح : چھٹا پارہ/ تلخیص

مولانا محمد اسلم شیخوپوری


پارہ 6
ظالم کی مذمت
پانچویں پارہ کے آخر میں منافقوں کی مذمت تھی اور انہیں سخت ترین عذاب کی وعید سنائی گئی تھی۔ اس لیے چھٹے پارہ کے شروع میں یہ بتایا گیا کہ اللہ بری باتوں کے اظہار کو پسند نہیں کرتا مگر ضرر کا خطرہ ہو یا جو ظالم ہو اس کی مذمت کی جا سکتی ہے۔ لہٰذا اس پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ نے منافقین کی پردہ داری کیوں کی ہے۔اس کے علاوہ جو اہم مضامین اس پارہ میں مذکور ہیں، وہ درج ذیل ہیں۔
یہود کے جرائم: منافقین کی مذمت کے بعد یہود کے جرائم کا تذکرہ ہے اس لیے کہ کفر و ضلال میں وہ بھی منافقین کے بھائی تھے۔ان کے جرائم میں سے ایک جرم یہ بھی ہے کہ انہوں نے حضرت مسیحؑ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا لیکن اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی اور انہیں باعزت طریقے سے آسمانوں پر اٹھا لیا۔ (185)
عقیدۂ تثلیث: یہود کے بعد اہل کتاب کے دوسرے گروہ یعنی نصاریٰ کا تذکرہ ہے جن کا ایک انتہائی غلط عقیدہ یہ تھا کہ خدا ایک نہیں بلکہ تین اقنوم سے مرکب ہے یعنی باپ، بیٹا اور روح القدس۔نصاریٰ کو سمجھایا گیا ہے کہ تم اپنے دین میں غلو نہ کرو اور حضرت عیسیٰؑ کو ان کے اصل مقام سے نہ بڑھائو اور یہ مت کہو کہ خدا تین ہیں۔ (171)
عبدیت میں ہتک نہیں: پھر جبکہ خود حضرت عیسیٰؑ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور عبودیت میں اپنی کوئی ہتک محسوس نہیں کرتے بلکہ عزت محسوس کرتے ہیں تو تم کون ہو حضرت عیسیٰؑ کو خدا ٹھہرانے والے۔ (172)
قریبی ورثاء کے حقوق: سورہ نساء کے اختتام پر دوبارہ اس مضمون کا اعادہ ہے جو اس سورت کے شروع میں بیان ہوا تھا یعنی عورتوں کے معاملے کی رعایت اور قریبی ورثاء کے حقوق کا خیال۔ (176)
سورہ مائدہ:
مدنی سورت: سورۃ المائدہ مدنی سورت ہے۔
آیات: اور اس میں ایک سو بیس آیات اور 16 رکوع ہیں۔
وجہ تسمیہ: چونکہ اس میں مائدہ (دستر خوان) کا قصہ مذکور ہے اس لیے اس کا نام مائدہ رکھ دیا گیا ہے۔ آیات نمبر 112 تا 115۔
نزول: یہ سورت ہجرت مدینہ کے بعد نازل ہوئی۔
آخری سورت: بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے جیسا کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: ’’کہ نزول کے اعتبار سے سورہ مائدہ آخری سورت ہے‘‘۔
حلال و حرام:۔ اس سورت میں حلال و حرام کے متعدد احکام اور تین قصے بیان کیے گئے ہیں۔
تکمیل دین کا اعلان:اس سورت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں وہ آیت کریمہ بھی ہے جو حجۃ الوداع کے موقع پر حضور اکرمؐ پر نازل ہوئی اس آیت میں تکمیل دین کا اعلان کیا گیا ہے۔یہ وہ آیت ہے جس کے بارے میں ایک یہودی نے حضرت عمرؓ سے کہا تھا: ’’اے امیرالمومنین! اگر یہ آیت ہمارے اوپر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو ’’یوم عید‘‘ قرار دے دیتے‘‘۔
آپ نے جواب میں فرمایا: ’’میں اس دن کو بھی جانتا ہوں اور اس گھڑی کو بھی جانتا ہوں جب رسول اللہؐ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ’’وہ عرفہ کی شام اور جمعہ کا دن تھا، گویا اس دن ہماری دو عیدیں تھیں‘‘۔اس سورت کا جو حصہ چھٹے پارے میں آیا ہے اس میں جو اہم مضامین بیان ہوئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:۔
عہد اور عقد: اس سورۃ کی ابتداء میں اہل ایمان کو ہر جائز عہد اور عقد کے پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
٭ خواہ وہ عہد و عقد انسان اور رب کے درمیان ہو۔٭ یا انسان اور دوسرے انسان کے درمیان ہو۔گویا یہ آیت ان احکام کو بھی شامل ہے جو اللہ نے بندوں پر فرض کیے ہیں اور بیع و شرائ، شرکت، اجارہ، نکاح اور قسم جیسے تمام عقود کو بھی شامل ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام نے عقود اور عہود کو کتنی اہمیت دی ہے۔
اعلان حرمت: کھانے پینے کی بہت ساری ایسی چیزوں کی حرمت کا اعلان کیا گیا ہے جنہیں زمانہ جاہلیت میں حلال سمجھا جاتا تھا۔
حرمت کی حکمت: کیونکہ ان چیزوں کے کھانے میں: صحت و جسم کا بھی نقصان ہے۔ فکر و نظر اور دین و اخلاق کا بھی نقصان ہے۔
حرام چیزیں: مثلاً مردار، بہنے والا خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے۔
اضطرار کی حالت میں اجازت البتہ اضطرار کی صورت میں جبکہ جان کو خطرہ لاحق ہو ان کا کھانا جائز ہے۔
پاکیزہ چیزیں حلال:ان نجس چیزوں کے علاوہ باقی طیبات اور پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیا گیا ہے۔
اللہ کا فضل و انعام اور احسان:
حلال اور حرام کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنے اس فضل و انعام اور احسان کا ذکر کیا ہے:٭ کہ اللہ نے انہیں وضو اور غسل کے ذریعے ظاہر و باطن کے اعتبار سے پاک کیا ہے تاکہ وہ روحانی طور پر اللہ کے ساتھ مناجات کے لیے تیار ہو سکیں۔٭ بندوں پر اللہ کے فضل و احسان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پانی کے استعمال کی قدرت نہ ہونے کی صورت میںتیمم کی اجازت دی گئی ہے۔
اسلامی شریعت، آسان شریعت:کیونکہ اسلامی شریعت آسان شریعت ہے اس میں قدم قدم پر بندوں کی مجبوریوں کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ چنانچہ اس پارہ کے چھٹے رکوع میں فرمایا گیا ہے: ’’اللہ تم پر تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کر دے اور تمہارے اوپر احسان پورا کر دے تاکہ تم شکر کرنے والے بن جائو‘‘۔
یہود کی بزدلی، فتنہ و فساد، سرکشی اور تکبر: اس پارہ کے ساتویں رکوع میں یہو کی بزدلی، ان کے فتنہ و فساد، سرکشی اور تکبر کا بیان ہے۔
یہ اوصاف بیان کرنے کا مقصد: ان اوصاف کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو ان خرابیوں میں مبتلا ہونے سے بچا کر رکھیں۔
نصاریٰ کا عہد توڑنا: یہود کے ساتھ ساتھ نصاریٰ کے احوال بھی بتلائے گئے ہیں ان سے بھی اللہ کے حکموں پر قائم رہنے کا وعدہ لیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے اللہ کے عہد کو توڑ دیا جس کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں میں بعض و عداوت ڈال دی۔
اللہ کا محبوب ہونے کا دعویٰ:باوجودیکہ یہ دونوں گروہ بہت ساری اعتقادی، عملی اور اخلاقی خرابیوں میں مبتلا تھے پھر بھی یہ دعویٰ کرتے تھے: ’’کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں‘‘۔اس دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ’’کہ اگر واقعی تم اللہ کے محبوب ہو تو وہ تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا کیوں دیتا ہے‘‘۔ (18)
دعوت دین حق: اس مذمت اور تردید کے بعد انہیں دین حق اور خاتم الانبیاء ؑ پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔
فلسطین میں داخلے کا حکم: آٹھویں رکوع میں یہ بتایا گیا ہے۔٭ کہ حضرت موسیٰؑ نے پہلے یہود کو اللہ کے احسانات یاد کرنے کا حکم دیا۔٭ پھر انہیں ارض مقدس (فلسطین) میں داخل ہونے کی ترغیب دی۔
یہود کا صاف جواب:لیکن ان بدبختوں نے اس ترغیب کے جواب میں موسیٰؑ کا مذاق اڑانا شروع کر دیا اور کہا: اے موسیٰؑ! ہم تو اس ملک میں ہر گز داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہاں سے عمالقہ نہیں نکل جاتے۔ لہٰذا تم اور تمہارا رب جا کر لڑو۔ ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ (24)
ہابیل قابیل کا قصہ:بنی اسرائیل کی سرکشی اور نافرمانی کے تذکرہ کے بعد نویں رکوع میں آدمؑ کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کا قصہ ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق قابیل نے حسد کی بناء پر اپنے بھائی کو قتل کر دیا۔یہی حسد یہودیوں کے اندر بھی پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے خاتم الانبیاء ؑ کی رسالت کا انکار کیا۔
ڈاکوئوں، باغیوں اور فسادیوں کی سزا: اسی قصہ کی مناسبت سے ڈاکوئوں، باغیوں اور زمین میں فساد پھیلانے والوں کی سزا ذکر کی گئی ہے۔ یعنی کسی کو سولی دی جائے۔ کسی کو قتل کیا جائے۔ اور کسی کے ہاتھ پائوں الٹی جانب سے کاٹ دیئے جائیں۔ (33)
چور کی سزا: پھر دسویں رکوع میں چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ ملک کے امن و تحفظ کے لیے خطرہ بنتے ہیں لہٰذا ان کو ایسی سزا دینا ضروری ہے جس سے دوسرے عبرت حاصل کریں۔
اسلامی قوانین اور حدود کے نفاد کی دعوت
فسادیوں کا تذکرہ: ڈاکہ زنی، چوری اور فساد کے احکام بیان کرنے کے بعد فسادیوں کے دو بڑے گروہوں کا تذکرہ ہے یعنی منافقین اور یہود۔
منافقین کا کفر: ’’اے رسول! آپؐ کو وہ لوگ غم میں نہ ڈالیں جو کفر میں جلدی کرتے ہیں وہ جو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور ان کے دل مسلمان نہیں‘‘۔
یہود کا جھوٹ
یہود: اور وہ جو یہودی ہیں یہ جھوٹ بولنے کے لیے جاسوسی کرتے ہیں اور ایک دوسری جماعت کے جاسوس ہیں جو آپ کے پاس نہیں آئی‘‘۔ (41)
نصاریٰ کی گمراہی:یہود کے ساتھ ساتھ نصاریٰ کی گمراہی کا بھی بیان ہے اور بتلایا گیا ہے کہ ان کو تورات اور انجیل دی گئی تھی لیکن انہوں نے ان کتابوں کے مطابق اپنے فیصلے نہ کیے۔