بچوں میں روزہ رکھنے کا شوق

بچوں میں روزہ رکھنے کا شوق

ماہ رمضان شروع ہوچکا ہے،کل سے موسم بھی خوشگوار ہے،یقیناً آپ روزہ رکھ رہے ہوں گے۔ بچے بڑے افطاری کا اہتمام بڑے جوش وجذبے سے کرتے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ بچوں کو موسم گرما کی تعطیلات ہو چکی ہیں اورگزشتہ چار پانچ سالوں سے موسم گرما کی چھٹیوں میں یہ مبارک مہینہ آرہا ہے۔بچوں کو روزہ رکھنے میں اس لئے آسانی ہو تی ہے کہ انہیں اسکول جانے کے لئے صبح سویرے اُٹھنا نہیں پڑتا اور ان کا روزہ بڑا اچھا گزرتا ہے۔ دیکھا یہی گیا ہے کہ زیادہ تر بچے ابتداء میں بڑے شوق سے روزے رکھتے ہیں۔با جماعت نماز ادا کرتے ہیں اور ہوم ورک بھی کرتے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ پہلے تین چار روزے شدت کی پیاس محسوس ہوتی ہے۔ بعدازاں معمول کا حصّہ بن جاتی ہے۔بعض بچے روزہ رکھنے کے بعد سارا دن سوئے رہتے ہیں اور افطاری سے دس پندرہ منٹ قبل اٹھتے ہیں جو کہ اچھی بات نہیں ، اس طرح تو نماز رہ جاتی ہے اوریہ حقیقت ہے کہ نماز کے بغیر روزہ ادھورہ رہتا ہے، بڑوں کا کہنا ہے کہ نماز کے بغیر روزہ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے فاقہ کیا ہواس لئے روزہ دار کے لئے نماز اشد ضروری ہے۔
اس ماہ مبارک میں سحری کے اوقات میں پراٹھے کھائے جاتے ہیں جبکہ افطاری میں مزے مزے کے پکوان سموسے ، دہی بھلے اور فروٹ چارٹ تیارکی جاتی ہے۔ لیکن گرمیوں کے موسم میں جب شدت کی گرمی پڑ رہی ہو بچے افطاری ٹھنڈے مشروبات سے کرتے ہیں۔ کولڈ ڈرنک ،ٹھنڈا شربت یا دودھ سے بچے پیٹ بھر لیتے ہیں اور اس کے بعد کچھ کھانے کو جی نہیں چاہتا اگر کچھ کھایا بھی تو وہ پکوڑے اور سموسے ہوتے ہیں اور فرائی چیزیں کھانے سے طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے افطاری کے بعد غنودگی رہتی ہے اور سونے کوجی چاہتا ہے اس لئے فروٹ چاٹ اور ایک گلاس مشروب کا لینا چاہئے اس سے نہ تو پیٹ بھرے گا اور نہ نیند کا غلبہ طاری ہوگا۔
موسم گرما کی چھٹیوں میں رات کو تاخیر سے سونا اور صبح تاخیر سے اٹھنا بچوں کا معمول ہے جبکہ رمضان المبارک میں بچے سحری تک جاگتے رہتے ہیں۔آپ نے دیکھا ہو گا اس ماہ مبارک میں بچے سحری تک کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں ، گلی محلوں میں کرکٹ ٹیم بنائی جاتی ہے،روشنی اتنی زیادہ کہ رات کو دن کا سماں معلوم ہوتا ہے،کہیں بیس،کہیں تیس اور کہیں پچاس پچاس اووروں کا میچ کھیلا جاتا ہے اور یہ سلسلہ چاند رات تک جاری رہتا ہے۔ زیادہ تر بچے گرمی کے اس موسم میں دن کے وقت تپتی دھوپ میںکرکٹ کھیلنے سے نہیں رُکتے جس سے ان کو شدت کی پیاس لگتی ہے اور طویل وقت کے لئے پیاس روکنا انتہائی مشکل ہے۔ رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں ایسا کام مت کریں جس سے جسمانی تھکاوٹ اور شدت کی پیاس محسوس ہو۔رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں سحری سے افطاری تک کھیل کود ترک کردیں اور پانچوں وقت باجماعت نماز ادا کریں، نیک کام کریں، آپ کو معلوم ہوگا کہ اس ماہ مبارک میں ایک نیکی کرنے سے ستر نیکیوں کا ثواب ملتا ہے تو نیک کاموں میں دیر کس بات کی۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو نیک کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور دوسری بات یہ کہ روزہ رکھ کے سارا دن سونا بھی اچھی بات نہیں روزے کے ساتھ ساتھ نماز بھی ضروری ہے۔ کوشش کریں کہ باجماعت نماز ادا کی جائے اوراس مبارک مہینے میں ایک کے بجائے ستر نیکیاں کمائیں۔
اردگرد نظر دوڑائیں تو یہ جاننے میں مشکل پیش نہ آئے گی کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو سحری اور افطاری کرنے کے قابل نہیں ان کے پاس اتنی رقم اتنے وسائل نہیں کہ بچوں کا پیٹ پال سکیں یا سحری اور افطاری کرسکیں ایسے مستحق لوگوں کو روزہ رکھوانا اور ان کے لئے افطاری کا انتظام کرنا بھی روزہ رکھنے کے برابر ہے۔
ننہے منے ساتھیو! کوشش کریں کہ اس مبارک مہینے میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائیں۔ دوسروں کے کام آئیں، ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کریں۔ غربا اور مساکین کا روز افطار کروائیں۔ سحری کے اوقات میں انہیں روزہ رکھنے کے لئے کھانے پینے کی اشیا مہیا کریں اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ جوآپ خود کھاتے ہیں جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہی اشیاء ان کو مہیا کریں۔ روزہ ایک روحانی تربیت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روزے کو روحانی اخلاق اور جسمانی تربیت کا ذریعہ بنا کر اجتمائی معاشرتی اہمتوں کا حاصل قرار دیا ہے۔ جب یہ مبارک مہینہ شروع ہوتاہے تو رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں،شیاطین کو جکڑ لیا جاتا ہے، اس مبارک مہینے میں مومن کا رزق زیادہ ہو جاتا ہے اورروزے کا اجراللہ تعالیٰ دیتا ہے،آپ روزہ بھی رکھیں،عبادت بھی کریں اور اپنے معمول کے کاموں کو جاری رکھیں انہیں متاثر نہ ہونے دیں،دُنیاوی کام چھوڑ دینادرست نہیں،اکثر بچوں میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ روزہ رکھ کر باجماعت نماز ادا کرتے ہیں،ہوم ورک کرتے اور گھر کے کاموں میں والدین کا ہاتھ بھی بٹاتے ہیں یہی نہیں بلکہ وہ روزے کے متعلق سب کچھ جانتے ہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگوں میں روزہ رکھ کر چڑ چڑا پن پیدا ہوجاتاہے جو کہ غیر مناسب بات ہے۔کیونکہ روزہ صرف اللہ کے لیے ہے،اس کا اجر اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے ۔ روزہ کا مقصد یہ نہیں ہے کہ آپ نے سحری کھا کر روزہ رکھ لیااورروزے کا اصل مقصد بھول گئے جبکہ،زبان، آنکھ اورکان کا روزہ،ہونا چاہئے ،روزہ دار کے لیے یہ بھی فرض ہے کہ وہ منہ سے ایسی بات نہ کہے جس سے دوسرے کی دل شکنی ہو۔کسی کو گالی نہ دیں، حتیٰ کہ کوئی بھی ایسے الفاظ منہ سے نہ نکالیں آنکھ سے وہ کچھ نہ دیکھیں جسے دین اسلام میںمنع فرمایا ہے۔ کان کوئی ایسے الفاظ نہ سنیں جس سے کسی کی غیبت ہو۔آپ بچوں نے مختلف ٹی وی چینلزپر یہ بھی دیکھا ہوگا کہ ایک مزدور روزہ رکھ کرشدت کی دھوپ میں پھلوں سے لدی ریڑھی کودھکیلتا ہوااپنا پھل بیچتا ہے،جبکہ دوسری طرف ایک مزدور روزہ رکھ کر سامان اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتاہے اوریہی اس کا معمول ہے،اس کے ساتھ ساتھ وہ باجماعت نمازبھی ادا کرتا ہے ،روزے کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ روزمرہ کے کام متاثر نہیں بلکہ معمول کے مطابق ہوں۔اس مبارک مہینے میں اکثر بچوں کو جب کوئی کام کہا جاتا ہے تو یہ کہہ کر کام کرنے سے انکار کر دیتے ہیں کہ ان کا روزہ ہے۔حالانکہ روزہ دار کو ایسا نہیں کہنا چاہیے۔روزہ اپنی جگہ اور کام اپنی جگہ۔بچے آخر بچے ہیں، انہیں سمجھانا والدین کا فرض ہے ابتدائی عمرمیں اگر انہیں کام کی باتیں سمجھائی جائیں تو وہ اچھی باتوں کی طرف راغب ہو ں گے اوروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اچھے کام کرنے کی عادت پختہ ہو جائے گی۔بچے پھول کی مانند ہیں انہیں اچھی تربیت کی ضرورت ہے اور اچھی تربیت دینا والدین کا فرض ہے۔