ترک ڈراموں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں : اداکارہ سجل علی

ترک ڈراموں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں : اداکارہ سجل علی

سیف اللہ سپرا
معروف ماڈل اور اداکارہ سجل علی کا شمار پاکستان کی ان  چندخوش قسمت فنکارائوں میں ہوتا ہے جو بہت کم عرصے میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچیں۔ انہوں نے تقریباً تین سال قبل شوبز کی دنیا میں قدم رکھا۔ اور تین سال کے مختصر عرصے میں انہوں نے وہ کامیابیاں اپنے دامن میں سمٹیں جو کوئی دوسری اداکارہ شاید کئی دہائیوں میں بھی حاصل نہ کرسکتی۔ ان کا فنی سفر سوپ ڈرامہ ’’محمود آباد کا ملکائیں‘‘ سے شروع ہوا۔ اس ڈرامے میں انہوں نے اس قدر اچھی  اداکاری کی کہ ہر پروڈیوسر انہیں اپنے ڈرامے میں کاسٹ کرنے کی خواہش کرنے لگا ان کی ایک خوبی یہ ہے کہ انہوں نے دھڑا دھڑ ڈرامے سائن نہیں کئے۔ بلکہ معیاری ڈرامے سائن کئے یہی وجہ ہے کہ ان کے ڈراموں کی کامیابی کا تناسب بہت زیادہ رہا ہے ان کے مقبول ڈراموںمیں مستانہ ماہی، میرے قاتل میرے دلدار ، چاندنی، میری لاڈلی، ننھی، ستمگر، احمد حبیب کی بیٹیاں، آسمانوں پہ لکھا، قدرت اور سناٹا شامل ہیں۔ ان کے متعدد سیریلز اس وقت مختلف ٹی وی چینلز سے آن ائر ہیں جن میں ’’لاڈوں میں پلی‘‘ بہت پسند کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے معتدد ڈرامے زیر تکمیل ہیں جن میں چپ رہوشامل ہے سجل علی کا فنی سفر تیزی سے جاری ہے اور اس سفر میں وہ مسلسل کامیابیاں حاصل کررہی ہیں مزید ڈراموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ وہ ماڈلنگ بھی کر رہی ہیں۔ پاکستان کی اس مصروف ترین ماڈل و اداکارہ سے گذشتہ دنوں ملاقات ہوئی جس میں ان کی فنی و نجی زندگی کے علاوہ شوبز انڈسٹری کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی جس کے منتخب حصے قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کئے جارہے ہیں:
س۔ شوبز میں کب اور کیسے آئیں؟
ج۔ شوبز کی دنیا میں میری آمد کو آپ ایک دلچسپ اتفاق کہہ سکتے ہیں وہ اس طرح کہ تقریباً3سال قبل میں اپنے ننھیال ملنے کے لئے کراچی گئی جہاں ان دنوں ہمایوں سعید’’محمود آباد کی ملکائیں‘‘ کے نام سے سوپ ڈرامہ بنا رہے تھے۔ میں اپنے خالو کے ساتھ اس ڈرامہ کی شوٹنگ دیکھنے گئی ہمایوں سعید نے مجھے دیکھ کر کہا کہ آپ جیسی لڑکی میرے ڈرامے میں ہونی چاہیے جبکہ ڈرامہ کے ڈائریکٹر نین منھیار نے پوچھا کہ کیا آپ تھوڑا بہت گنگنالیتی ہیں، میں نے کہا کہ میں باقاعدہ گا سکتی ہوں اس جملے کے بعد ڈائریکٹر اور پروڈیوسر نے مجھے ڈرامے میں کاسٹ کرلیا۔ اس طرح شوبز کی دنیا میں میری آمد  ہوئی میں نے اس ڈرامہ میں آفرین کا کردار اد کیا جو بہت پسند کیا گیا۔ اس کے علاوہ میرے دیگر مقبول ڈراموں میں مستانہ ماہی‘ میرے قاتل میرے دلدار،چا ندنی، میری لاڈلی، ننھی، ستمگر، احمد حبیب کی بیٹیاں، آسمانوںپہ لکھا، قدرت اور سناٹا شامل ہیں
س۔ کیا وجہ ہے کہ پہلے ڈرامے میں  ہی آپ کی اداکاری پسند کی گئی؟
ج۔ میں نے یہ تو کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اداکارہ بنوں گی لیکن  فنکارانہ صلاحیتں مجھ میں بچپن میں ہی تھیں میں بچپن میں اپنے اہل خانہ اور دیگر شخصیات کی پیروڈی کرتی جو بہت پسند کی جاتی۔ اس کے علاوہ زمانہ طالب علمی میں ہم نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی۔ میں نے بیسٹ سپیکر کا قومی سطح کا ایوارڈ حاصل کیا یہ ایوارڈ مجھے معروف کالم نگار منوبھائی نے الحمرا ہال میں منعقدہ ایک تقریب میں دیا۔ میری طبیعت چونکہ آرٹ کی طرف مائل تھی اس لئے مجھے ٹی وی ڈرامے میں اداکاری کے وقت  کوئی مشکل پیش نہیں آئی پہلے ڈرامے میں ہی میری اداکاری لوگوں نے پسند کی اس ڈرامہ میں میری بہن صبور علی نے بھی کام کیا
س۔ اس وقت آپ کو اپنا کونسا آن ائر ڈرامہ پسند ہے؟
ج۔ اس وقت میرے متعدد ڈرامے آن ائر ہیں اور مجھے اپنے تمام ڈرامے اور کردار پسند ہیں ڈرامہ لاڈوں میں پلی مجھے زیادہ پسند ہے
س۔ آپ اپنے زیر تکمیل پراجیکٹس کے بارے میں کچھ بتائیں۔
ج۔ اسوقت میرے متعدد سیریلز اوری ٹی وی کمرشلز زیر تکمیل ہیں جن میں ڈرامہ سیریل چپ رہو۔ بہت بڑا پراجیکٹ ہے اس ڈرامے کے ڈائریکٹر یاسر نواز ہیں۔
س۔ آپ ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کے علاوہ ماڈلنگ بھی کررہی  ہیں۔ ماڈلنگ کا تجربہ کیسا رہا؟
ج میں ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ ماڈلنگ بھی کررہی ہوں۔ میرے متعدد ٹی وی کمرشل بہت پسند کئے گئے ہیں میں سمجھتی ہوں کہ ماڈلنگ اداکاری سے بہت مختلف ہے تاہم مجھے مشکل پیش نہیں آئی اور ماڈلنگ کا تجربہ اچھا رہا ہے۔
س۔ کیا آپ کو فلموں میں کام کی آفر ہوئی؟
ج۔ جی ہاں۔ پاکستان کے علاوہ بھارت سے بھی فلموں میںکام کی آفر ہوئی فلمیں اور کردارمجھے پسند نہیں تھے اس لئے کوئی فلم سائن نہیں کی جب کسی معیاری فلم میں کام کی پیش کش ہوئی تو ضرور کروں گی۔ اب اچھی فلمیں بننا شروع ہوگئی ہیں گزشتہ برس میں ہوں شاہد آفریدی‘وار اور عشق خدا جیسی معیاری فلمیں بنی ہیں اس سال بھی کچھ اچھی فلمیں بن رہی ہیں اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہماری فلم انڈسٹری بہت جلد کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرلے گی
س۔ کیا کسی سٹیج ڈرامہ میں کام کی آفر ہوئی؟
ج۔ پاکستان میں آج کل زیادہ تر تھیٹر غیر معیاری ہو رہا ہے جس میں کوئی شریف آدمی کام کا سوچ بھی نہیں سکتا ویسے بھی میرے پاس ابھی ٹائم نہیں ہے
س۔ کیا گلوکاری کا شوق ہے؟
ج۔جی ہاں گلوکاری کا بہت شوق ہے میری آواز بھی ٹھیک ہے مستقبل میں ضرورگلوکاری کروں گی۔
س۔ ترکی کے ٹی وی ڈراموں کے بارے میں آپ کیا کہتی ہیں؟
ج۔ حیرت کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں تو ترکی کے ڈرامے چل رہے ہیں مگر ترکی میں ہمارے ڈرامے نہیں چلتے ہمیں اپنے ڈراموں کا معیار بہتر کرنا چاہیے اور اپنے ڈرامے ہی چلنے چاہئیں
س۔ ماضی میں پاکستان کے ٹی وی ڈرامے بہت مقبول تھے کیا وجہ ہے کہ ٹی وی ڈراموں کی مقبولیت کم ہوگئی ہے
ج۔ ماضی میں ٹی وی ڈراموں  کی باقاعدہ ریہرسل ہوتی تھی، فنکار محنت زیادہ کرتے تھے۔ اب محنت نہیں کی جاتی۔ فنکار سیٹ پر جاکر ڈائیلاگ یاد کرتے ہیں۔ محنت سے جی چرانے کی وجہ سے اب زیادہ تر ٹی وی ڈرامے مقبولیت حاصل نہیں کرتے۔
س۔ کیا آپ کو گھر داری کا شوق ہے؟
جی ہاں، میں گھر کی سجاوٹ میں بہت دلچسپی لیتی ہوں اور گھر کی سیٹنگ تبدیل کرتی رہتی ہوں اس کے علاوہ کھانا بھی بنالیتی ہوں
س۔ کھانے میں کیا پسند ہے؟
ج۔ بھنڈی بہت پسند ہے۔ ناشتے میں دیسی گھی کا پراٹھا بہت پسند ہے
س۔ شادی کب کرارہی ہے؟
ج۔ فی الحال شادی کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ ابھی میں شوبز میں کچھ کرنا چاہتی ہوں
س۔ آپ اپنے پرستاروں کو کیا پیغام دینا چاہتی ہیں؟
ج۔میں نوائے وقت کی وساطت سے اپنے پرستاروں سے درخواست کرتی ہوں کہ ملک میں امن کے قیام کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور یہ سوچیں کہ ہم سب سے  پہلے مسلمان اور پاکستانی ہیں اس کے بعد پنجابی، سندھی،بلوچی و پختون ہیں ملک کے حالات اس وقت اچھے نہیں جس پر میں دکھی ہوجاتی ہوں ملک کے حالات ٹھیک ہوں گے تو شوبز سمیت تمام کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی۔ اس لئے میری پورے پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ امن کے قیام کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔