بھٹہ مزدوروں کا دھرنا اور حکومتی نوٹیفکیشن۔۔۔۔

ڈی سی اوآفیس کے باہربھٹہ مزدوروں کا احتجاجی کیمپ
ڈی سی او آفس کے باہر بھٹہ مزدوروں کا احتجاجی کیمپ
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نوٹیفکیشن کے مطابق بھٹہ مزدوروں کو اجرت کون دلائے گا؟
وفاقی ‘صوبائی حکومتیں کسی بھی مسئلہ پر جو نوٹیفکیشن جاری کرتی ہیں اس نوٹیفکیشن پرعملدرآمد کرنا اورکرانا حکومتی مشینری ضلعی انتظامیہ اور خصوصی طورپر سیکرٹری داخلہ اگر نوٹیفکیشن وفاقی معاملات سے متعلق ہے تو وفاقی سیکرٹری داخلہ اور صوبائی معاملہ ہے توصوبائی سیکرٹری داخلہ اور چیف سیکرٹری پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن پر حرف بہ حرف اور نقطہ بہ نقطہ عملدرامد کرائے اگر وہ جاری کردہ حکومتی نوٹیفکیشن پر عملدرآمد نہیں کراتے تو نہ صرف اپنے فرائض سے روگرانی کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ ریاست کے اندر ریاست قائم کرتے ہیں اور جو حکومت اپنے ہی جاری کردہ نوٹیفکیشن پرعملدرآمد نہیں کراتی وہ غفلت کے ساتھ اپنی نااہلی کا ثبوت فراہم کرتی اور اسے کوئی حق قانونی اور اخلاقی طورپر حاصل نہیں ہوتا کہ وہ نااہل بھی ہو اور تخت حکومت پر براجمان رہے ۔ ایسی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں کہ حکومتی نوٹیفکیشن کے جاری ہونے کے باوجود اس پرعملدرآمد نہیں ہوا۔ایک بھٹہ مزدور جو اپنی محنت کے عوض چند ہزار روپے مالک بھٹہ سے وصول کرتا ہے تو اس کے یہ معنی لئے جاتے ہیں کہ اس بھٹہ مزدور نے چند ہزار روپے میں اپنا پورا خاندان مالک بھٹی کی غلامی کی زنجیر میں باندھ دیاہے ۔ فیصل آباد میں بھٹہ مزدور کی نحیف اورکمزور آواز کومعاشرے میں بلند کرنے اور ایوان اقتدار میں بیٹھے سماعت سے معذور اور بصارت سے کمزور حکمرانوں کو اس مظلوم بے بس اور لاچار اورمجبور دنیا کے خواتین وحضرات اور بچوں کی مظلومیت سے آگاہ کرنے کیلئے فیصل آباد کے ایک صحافی اور فیصل آباد پریس کلب کے بانی صدر کامریڈ غلام نبی کلو مرحوم نے آواز بلند کی اس کی قیادت میں حکمرانوں اور سرمایہ داروں کا ’’ماتم‘‘ کرتے ہوئے چوک گھنٹہ گھر میں جمع ہوئے اور اپنی مظلومیت سے عوام کوآگاہ کیا تو یہاں کے لوگ پہلی بار ا س مظلوم طبقہ سے آشنا ہوئے ۔ کامریڈ علام نبی کلو مرحوم کی انسان پروری نے شعور اور بیداری کی جس فصل کا بیج بویا تھا وہ فصل آہستہ آہستہ پروان چڑھتی رہی اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ  عدالت عالیہ نے اپنے فیصلوں میں کہا کہ جو حقوق صنعتی محنت کشوں کے ہیں وہ حقوق بھٹوں پر کام کرنے والے محنت کش خواتین وحضرات کے ہیں۔ بھٹہ مزدور کے حق کو ایک عدالتی فیصلہ کی روشنی میں تسلیم کرتے ہوئے حکومت پنجاب نے یکم جولائی 2013ء کو ایک نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے تحت بھٹہ مزدور کی کم ازکم اجرت فی ہزار خام اینٹ740روپے مقرر کردی گئی اور محکمہ لیبر اینڈ سوشل ویلفیئر کوحکم دیاگیا کہ بھٹہ مزدور کو بھی سوشل سکیورٹی فراہم کی جائے۔ اس نوٹیفکیشن کوجاری ہوئے ایک سال بیت گیا لیکن اس پر نہ محکمہ لیبر اینڈ سوشل ویلفیئر جن کے لیبر انسپکٹرز کی تمام تر توجہ مختلف اداروں سے اپنی منتھلی وصول کرنے پرمرکوز ہے ۔ اب بھٹہ مزدوروں نے ڈی سی او کے دفتر کے سامنے دھرنے کاآغاز کردیاہے کہ جب تک حکومت پنجاب اپنے جاری کردہ نوٹیفکیشن پرعملدرآمد نہیں کراتی اور بھٹہ مزدور کو فی ہزار740 روپے کامعاوضہ ادانہیں کیاجاتا اس وقت تک دھرنا جاری رہے گا۔ گزشتہ ایک سال سے جب سے حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیاہے گاہے بگاہے بھٹہ مزدور احتجاج بھی کرتے رہے ہیں اور مظاہرہ بھی کرتے رہے ہیں بلکہ میڈیا کے ذریعے اپنی آواز کو حکومت کے تخت پر بیٹھے حکمرانوں تک پہنچانے کیلئے فیصل آباد پریس کلب کے سامنے بھی احتجاجی جلسہ اورمظاہرہ کرتے رہے ہیں۔گزشتہ دنوں جب بھٹہ مزدور اپنی ہڑتال پر تھے تو بھٹہ مالکان کی ایسوسی ایشن کی طرف سے اعلان کیاگیا کہ لیبر لیڈری کے نام پر ہمیں بلیک میل کیاجارہاہے اور انہوںنے بعض لیبر لیڈروں کے نام لیکر بتایا کہ وہ مطالبہ کررہے ہیں کہ اتنا بھتہ دو ورنہ تمہارا بھٹہ نہیں چلنے دیں گے ۔قبل ازیں جب بھی کوئی ایسی صورتحال پیدا ہوئی انتظامی افسران نے لیبر لیڈروں سے مذاکرات کرنے کے بعد انہیں یقین دلایا کہ ان کامطالبہ جائز ہے لہٰذا وہ نوٹیفکیشن پر بھٹہ مالکان سے عمل کرائیں جس کی نوبت تاحال تو نہیں ہے ۔اس کے ساتھ ہی افسوس ناک پہلو ہے کہ تھانہ غلام محمدآباد کے ایس ایچ او ظفر اقبال پر مبینہ طورپر الزام عائد کیاجارہاہے کہ وہ لیبر لیڈروں اور ایل کیو ایم کے رہنمائوں پر جھوٹے مقدمات قائم کرکے محنت کش طبقہ کواشتعال دلارہاہے یہ حکومت اور انتظامیہ کی دیرینہ روایت ہے کہ کسی لیبر موومنٹ کو دبانے کیلئے پولیس کااستعمال کرتاہے بلکہ سیاسی کارکنوں کے خلاف بھی جھوٹے مقدمات ہی قائم نہیں کرتی بلکہ ایسے پولیس کو انعامات سے بھی نوازتی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دھرنے سے کوئی سیاسی گروہ فائدہ نہ اٹھائے اور مجبور ومقہور طبقہ کو اپنے سیاسی مفادات کی مان پرچڑھے ڈی سی او کو بھٹہ مالکان سے سمجھوتہ کرا دینا چاہے اگر بھٹہ مالکان کے کچھ تحفظات ہیں تو انہیں بھی دورکرنا چاہئے۔ اگر حکومت اپنے ہی جاری کردہ نوٹیفکیشن پرعملدرآمد نہیں کراسکتی تو اسے واپس لینے کااعلان کردے!!