اسلام آباد کا سکیورٹی پلان دھرے کا دھرا رہ گیا

اسلام آباد کا سکیورٹی پلان دھرے کا دھرا رہ گیا

 بینظیر بھٹوانٹرنیشنل ائرپورٹ اسلام آبادپر امارات ائرلائن کی پرواز سے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی آمدکیلئے فول پروف سیکیورٹی اور اس سلسلے میں راولپنڈی اسلام آباد اور ائرپورٹ کی جانب آنے والے راستوں کی کینٹروں، ٹرکوں اور ڈمپروں کے ذریعے بندش کے سارے انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے رات دو بجے عوامی تحرک کے کارکن پیر ودھائی ، پولیس لائن اسلام آباد روڈ ، آئی ٹین ، فیض آباد ، مری روڈ اور مریڑ چوک میں نمودار ہونا شروع ہوگئے جبکہ بڑی تعداد میں خواتین کارکن اسلام آباد ایکسپریس وے پر کورال چوک پہنچنے میں کامیاب ہوگئیں اور سڑک پر دھرنا دے کر بیٹھ گئیں جوں جوں رات ڈھلتے ڈھلتے صبح صادق کی جانب بڑھی تو کارکنوں کی آمد فیض آباد اور کورال چوک میں بڑہتی ہی چلی گئی خواتین ، معمر افراد ، نوجوان ہاتھوں میں ڈنڈے اور پارٹیکے جھنڈے اٹھائے بینظیر ائرپورٹ کی جانب بڑھنے لگے اس دوران پولیس نے ہجوم کو بے قابو ہونے سے روکنے کیلئے آنسو گیس چلانے کا سلسلہ شروع کیا جس سے فیض آباد اور کورال چوک کا علاقہ گھمسان کے رن میں بدل گیا مظاہرین کے نعروں میں شدید پتھرائو سیراولپنڈی کے30 اور اسلام آباد کے50 سے زیادہ افسر اور اہلکار شدید زخمی ہوگئے ایک پولیس اہلکار کو عوامی تحریک کے کارکنوں نے خوب تشدد کا نشانہ بنایا راولپنڈی اسلام آباد کی پولیس نے فرنٹ لائن پر فورس کو اسلحہ کی بجائے صرف آنسو گیس فراہم کی تاکہ ماڈل ٹائون لاہور جیسا منظر دوبارہ رونما نہ ہو سکے پیر کی صبح سوا آٹھ بجے جیسے ہی امارات ائرلائن کی پرواز نمبرEK - 612 بینظیر ائرپورٹ کی جانب نمودار ہوئی تو کورال چوک میں اپنے سروں کے اوپر سے پرواز کرنے والی اس فلائٹ کو دیکھ کر کارکن فرط جذبات سے بے قابو ہو کر شدید نعرہ بازی کرنے لگے بڑی تعداد میں کارکن تھانہ کورال کی جانب بھی بڑھے اور ائرپورٹ کی جانب بڑھنے کیلئے بے تاب ہوگئے اس دوران امارات ائرلائن کی وہ پرواز جس میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ سوار تھے ائرپورٹ پر لینڈنگ کیلئے فضاء میں کافی دیر تک محو پرواز رہا اس دوران عوامی تحریک کے کارکنوں کی بڑی تعداد بینظیر ائرپورٹ کی جانب بڑھنے میں کامیاب ہوگئے کئی مقامات پر مشتعل کارکنوں نے کئی کینٹنروں اور رکاوٹوں کو بھی اپنی جگہ سے ہٹا دیاجبکہ فیض آباد اور کورال میں پولیس سے عوامی تحریک کے کارکنوں کا تصادم ہوگیا 80 سے زیادہ پولیس والے لہو لہان حالت میں اسلام آباد کے ہسپتالوں پمس ، پولی کلینک اور راولپنڈی میں ڈی ایچ کیو ہسپتال داخل کرادئے گئے عوامی تحریک کے سربراہ کے طیارے کا رخ لاہور موڑے جانے پر مشتعل کارکنوں کی غم و غصہ آسمان کو چھونے لگا اور کورال چوک ، ائرپورٹ روڈ کا علاقہ عملاًمیدان جنگ بنا رہا اس دوران بینظیر بھٹو ائرپورٹ کی مسلسل فضائی نگرانی جاری رہی احتجاج کرنے والے کارکن پرامید تھے کہ ان کے قائد کو حکمرانوں کو اسی پرواز سے واپس بینظیر ائرپورٹ اسلام آباد لانا پڑے گا جس پر وہ دھرنا دئے بیٹھے رہے اس دوران بھارہ کہو ، گولڑہ موڑ ، پیرودھائی چوک ، سیکٹر آئی ٹین ، سبزی منڈی کے علاقوں میں بھی ائر پورٹ کی جانب آنے کیلئے کوشاں عوامی تحریک کے کارکنوں اور پولیس کے مابین تصادم بھی ہواعوامی مسلم لیگ کے قائد شیخ رشید احمد بینظیر ائرپورٹ پہنچنے کیلئے فیض آباد اور کوری روڈ سے ڈھوک کھبہ کے راستوں کی بھول بھلیوں میں ہی پھنسے رہے اور ائرپورٹ کی جانب جانے والی سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے انہیں واپس لال حویلی جانا پڑا جبکہ مسلم لیگ ق کے قائد چوہدری شجاعت حسین ، کامل علی آغا کے ہمراہ بینظیر بھٹو ائرپورٹ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے فیض آباد اور کورال چوک میں عوامی تحریک کے کارکنوں نے ان کے حق میں نعرے بھی لگائے البتہ پولیس نے ایم کیو ایم کے رہنمائوں اقبال محمد علی اور رشید گوڈیل سمیت دیگر رہنمائوں کو ائرپورٹ داخؒے کی اجازت نہ مل سکی آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنماء صاحبزادہ احمد رضا قصوری بھی رکاوٹیں توڑتے ہوئے بینظیر ائرپورٹ کی جانب اپنے قافلے کے ساتھ رواں دواں رہے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان پنجاب ہائوس اسلام آباد میں بیٹھ کر صورتحال کنٹرول کرنے میں مصروف رہے ۔