آغا حشر کاشمیری اور مختار بیگم

فرزانہ چودھری
farzanach95@yahoo.com
مرزا اسد اللہ  خان غالب کے بارے میں مولانا مودودی  فرمایا کرتے تھے کہ  بحیثیت قوم  ہماری  یہ خوش قسمتی  ہے کہ غالب نے اسی میں جنم  لیا اور یہ  غالب کی بدقسمتی  ہے کہ اسے ہمارے جیسی قوم ملی۔ مولانا مودودی  دراصل یہ کہنا چاہتے  تھے کہ زمانے نے  مرزا اسد اللہ  خان غالب کی وہ قدر نہیں کی  جس کے وہ مستحق  تھے۔ غالب  کے بعد اگر یہ  بات کسی ادبی شخصیت پر صادق آتی ہے تو وہ برصغیر کے شیکسپیئرآغا حشر کاشمیری کی ذات ہے۔ ولیم شیکسپیئر کے بارے میں علامہ اقبال فرماتے ہیں۔
حفظِ اسرار کا فطرت  کو ہے سودا ایسا
راز داں پھر نہ کرے گی  کوئی ایسا پیدا !
ولیم شیکسپیئر نے جو کچھ لکھا وہ انسانی نفسیات کے عین مطابق اور اس کو مکمل انداز میں سمجھتے ہوئے لکھا۔  آغا حشر   کاشمیری نے  جب بھی قلم اٹھایا  اپنے کرداروں کی سوچ  اور جذبات کو یوں بیان کر دیا کہ  دیکھنے والے بے ساختہ یہ کہنے پر مجبور  ہو گئے۔’’گویا یہ بھی میرے دل میں ہے‘‘
آغا حشر کو شہرت تو بہت ملی لیکن ان کے فکر و فن کو سمجھنے کی کوشش خالی خالی ہی دیکھنے میں آتی  ہے  یہ نابغِہ  روزگار ڈرامہ نگار  اور فی البدیہہ شاعر اگر یورپ میں پیدا ہوتا  تو آج اس کے نام پر کئی ادبی تنظیمیں  اور ادارے وجود میں آ چکے   ہوتے۔ انہوں نے  اپنی بے مثال کردار نگاری ‘ لاجواب مکالموں اور  فی البدیہہ شعروں سے برصغیر  میں  سٹیج اور  فلم کو ایسی بلندی عطا کی جو ان سے پہلے اور بعد میں کسی ادیب شاعر  کے حصے  میں نہیں آئی انہیں بجا طور پر برصغیر  میں فنِ اداکاری  ‘ ڈرامہ نگاری اور  مکالمہ نگاری کا اولین لیجنڈ قرار دیا جا سکتا ہے۔
آغا حشر کاشمیری کے فکر و فن کو سمجھنے کے لئے  ان کی شخصیت  اور ان کے حلقہ احباب سے آگاہی اور شناسائی ضروری ہے  لیکن افسوس کے آغا حشر پر لکھنے والوں یا ان کے فن   کے قدر دانوں میں سے کسی نے اس پہلو  کی جانب توجہ نہیں کی۔ یہ فرض کفا یہ  بزرگ صحافی اور برصغیر کی فلمی تاریخ پر گہری اور بھرپور نظر رکھنے والی شخصیت پرویز راہی نے سرانجام دیا ہے۔ پرویز راہی   نے ’’آغا حشر  کاشمیری اور مختار بیگم‘‘ کے نام سے کتاب شائع کی ہے۔ جس میںآغا حشر کاشمیری کی شخصیت اور فن پر مختار بیگم کے توسط سے بھرپور انداز میں روشنی ڈالی  ہے۔ برصغیر کے  فلمی تاریخ سے شناسائی رکھنے والے جانتے ہیں کہ  آغا حشر  کاشمیری اور مختار  بیگم برصغیر کی فلم انڈسٹری کے دو ایسے نام ہیں جن کے  بغیر فلمی تاریخ  کا نہ تو آغاز ہوتا ہے اور نہ ہی اسے سمجھنا اور سمجھانا  مشکل ہے۔ بدقسمتی سے ہماری نوجوان نسل  ان دو نابغِہ روزگار شخصیت کے نام اور فن  سے مکمل طور پر  اجنبی نہ سہی لیکن بڑی حد تک ناواقف ضرور  ہیں پرویز راہی سے ایک تیر سے دو شکار  کرتے ہوئے جہاں آغا حشر  کاشمیری کی شخصیت اور فن کو اجاگر  کرنے کی کوشش کی ہے  وہیں مختار بیگم کی خدمات کو بھی نمایاں کیا ہے۔
مختار بیگم برصغیر کے شیکسپیئر آغا حشر کاشمیری کے بارے میں بتاتی ہیں کہ ’’فن سیکھنے کیلئے میرا آغا حشر صاحب کے پاس آنا جانا شروع ہوا، یہ ملاقاتیں خلوص اور اپنائیت کے رشتے مضبوط کرتی چلی گئیں۔ اتفاق سے انہی دنوں میرے پیٹ میں شد ید درد رہنے لگا۔ اس درد کی وجہ سے بعض اوقات تو پوری رات آنکھوں میں کٹتی۔ ڈاکٹروں سے مشورہ کیا تو انہوں نے فوری آپریشن  کے لیے حکم صادر فرمایا جس پر والد صاحب  بہت پریشان  ہوئے کیونکہ  اس زمانے  میں لوگ آپریشن کے لفظ سے ہی خوفزدہ ہوجایاکرتے تھے۔ آپریشن کا مطلب موت سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ ہمارے گھر میں رو نا پیٹنا شروع ہوگیا۔ ہسپتال جانے سے پہلے میں آغا صاحب کے گھر گئی تو وہ گھر میں موجود نہیں تھے۔ میں دو سطریں لکھ کر چھوڑ آئی۔ ’’آج میرا آپریشن ہے، زندگی موت سے لڑنے جارہی ہے، اگر زندگی جیت گئی تو ضرور ملاقات ہوگی، ورنہ خداحافظ‘‘۔ ہسپتال کی نرسیں مجھے ٹرالی میں بیٹھا کر آپریشن تھیٹر میں لے جانے والی تھیں کہ آغا صاحب بھی پہنچ گئے۔ آپ بہت گھبرائے ہوئے تھے۔ حسرت و یاس سے میری طرف دیکھ رہے تھے اور بڑے ملتجانہ لہجے میں نرس سے کہنے لگے: ’’ کیا آپ مجھے اجازت دیں گی کہ انہیں میں آپریشن تھیٹر تک لے جائوں؟‘‘ وہ سب آغا حشر کی شخصیت سے واقف تھیں۔ اس لئے انکار نہ ہوا۔ یہ منظر بھی دیکھنے کے قابل تھا۔ سب کی نظریں انڈین شیکسپیئر پر جمی تھیں۔ آغا صاحب کی حالت دیکھ کر میرا دل  تیز دھڑکنے لگا۔ انہوں نے اپنے آنسو روک رکھے تھے اور زبان پر میرے لئے دعائوں کا ایک سلسلہ تھا، ساتھ ہی انہوں نے مجھے اپنا یہ شعر سنایا
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد
بے مہر التماس تمنا پہ ہنس پڑا
کتنے بخل ہوئے تکیہَ التجا کے بعد
وہ زمزمے جو روح کو کرتے ہیں مست حشر
پھر سن رہے ہیں عرفیَ رنگین نوا کے بعد
میں نے تجھے اپنے خدا کے سپرد کیا اور جو چیز خدا کے سپرد کردی جائے اس کی وہ خود حفاظت کرتا ہے۔اس لئے وہ سب سے بڑا انصاف کرنے والا ہے۔ میں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا ’’ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے لیکن میرا دل یہ کہتا ہے کہ آپ کی دعا ضرور قبول ہوگئی‘‘۔
ایک ماہ کے بعد میں صحت یاب ہوکر گھر واپس آئی تو انہوں نے ہیرے کی ایک انگوٹھی مجھے پہناتے ہوئے کہا ’’یہ آپ کی صحت یابی کی خوشی میں پیش کررہا ہوں‘‘۔  یہ کس قدر افسوس  کی بات ہے کہ نئی نسل آغا حشر کاشمیری کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ آغاحشر کیا کہا کرتے تھے؟ آغا حشر نے کہا تھا، مختار پچیس برس گزر جانے دو۔ نوجوان تم سے پوچھنے آیا کریں گے، ہمیں بتائو، آغا حشر کیا تھا؟، وہ کس انداز میں بیٹھ کر لکھا کرتا تھا؟ اس کے گفتگو کرنے کا ڈھنگ کیا تھا؟ وہ کس طرح کا لباس پہنتا تھا؟ وہ کردار کیسے ترتیب دیتا تھا؟ ہمیں بتائو کہ آغا حشر کو تم نے کس کس رنگ میں دیکھا ہے؟
میں ہر باراُن سے کہتی .......آغا صاحب! اگر یہ باتیں میری آتشِ شوق کو تیز کرنے کیلئے کرتے ہیں تو نہ کیجئے کیونکہ میں  نے تو آرٹ کو چاہا ہے۔ تمہاری پرستش کی ہے۔ میںنے تو تمہیں اس نیت سے نہیں چاہا کہ ایک روز نوجوان میرے پاس بہت سے سوالات لیکر بلکہ تمہاری باتیں کرنے آئیں گے۔ اب میں دیکھتی ہوں کہ آغا حشر کو کوئی نہیں سمجھا۔ قدرت نے اگر مجھے ہمت دی اور چار دن مجھے زندگی  سے مل گئے تو میں نئی پود کو بتا کرہی جائوں گی کہ آغا حشر کیاتھا۔ وہ محبوبوں کا محبوب تھا اور پوجا کے قابل تھا۔
نمونہ کلام آغا حشر کاشمیری
غزل
گھر سے جنگل کی طرف جب تیرا دیوانہ چلا
ساتھ میں روتاہوا ہر اپنا بے گانہ چلا
پائوں کے چھالوں سے کانٹوں کی بجھائی میں نے پیاس
آج جنگل میں بھی ساقی دورِ پیمانہ چلا
پی رہے ہیں سب نگاہوں سے محبت کی شراب
جو تیری محفل میں آیا، بھر کے پیمانہ چلا
حشر یہ کالی گھٹائیں اور توبہ کا خیال
تم یہیں بیٹھے رہو، میں سوئے میخانہ چلا