میلاد النبیﷺ

فرزانہ چودھری
میلادالنبیؐ خالق کائنات کا وہ آخری ورلڈ آرڈر ہے۔ جس کے بعد دنیا کو کسی نئے ورلڈ آڈر کی ضرورت نہیں رہتی، لاکھوں درود و سلام اس ذات اقدس پر جس کے سر انور پر رب کائنات نے خاتم النبین رحمتہ اللعالمین اور سیدالمرسلینؐ کا تاج سجا کر پوری کائنات کے لئے ہدایت و راہنمائی کا سرچشمہ بنا دیا۔
ماہ ربیع الاول میں عموماً اور بارہ ربیع الاول کو خصوصاً، آقا کے دو جہاںؐ کی ولادت باسعادت کی خوشی میں پورے عالم اسلام میں محافل میلاد منعقد کی جاتی ہیں حضور اکرمؐ کا میلاد منانا اور محبت رسولؐ کی علامت ہے  عید میلادالنبیؐ منانا لوگوں کو اللہ تعالی کے دن یاد دلانا ہے۔ اس کی نعمت عظمی کا چرچا کرنا بھی ہے اور اس نعمت کبری کے ملنے کی خوشی منانا بھی۔
ماہ ربیع الاول کا آغاز ہوتے ہی میلادالنبیؐ کی خوشی منانے کے لئے پورے عالم اسلام میں محافل میلاد منعقد کی جاتی ہیں۔ بارہ ربیع الاول کا دن جشن عید میلادالنبیؐ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ گھر گھر میلادالنبیؐ کا ذکر اور نذر نیاز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہمدرد ہال لٹن روڈ  میں بنت سید زلف علی مرحوم، بیگم سید مشتاق علی، گدی نشین پیر طریقت اعلیٰ حضرت مرشد جمال حسین رحمانی بابا، العمروف ثریا باجی باداموں والی کی جانب سے جشن عیدمیلادالنبیؐ کے حوالے سے ایک سالانہ محفل میلاد کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
بانی محفل بجیا باداموں والی اپنے مرشد کے لئے توشئہ آخرت کا اہتمام ہر ماہ کرواتی ہیں جبکہ سالانہ عرس عیدمیلادالنبیؐ کے موقع پر ہوتا ہے۔رحمانی بابا کا سولہواں عرس منانے کے لئے محفل میلاد کا انعقاد کیا گیا۔ حضورؐ کی محفل میلاد میں شرکت کرنے والی ہر خاتون کا استقبال گلے میں پھولوں کا ہار ڈال کر کیا گیا۔ سٹیج کو بہت ہی خوبصورت انداز سے سجایا گیا۔ سٹیج کی دیوار پر روضہ رسولؐ اور خانہ کعبہ کا بنا بیک ڈورپ آویزاں تھا۔ جو سبز اور پیلے رنگوں کے قمقموں کی لڑیوں سے آراستہ کیا گیا تھا اس کے علاوہ سٹیج کو پھولوں سے اس انداز سے سجایا گیا کہ لگتا تھا کہ بہار سٹیج پر ہی امنڈ آئی ہو۔ سٹیج پر گلے میں گلاب کے ہار اور ہاتھوں میں گجرے پہنے حضورؐ کی خدمت میں حمد اور نعت گوئی کرنے جبکہ باجی ثریا سب کے درمیان تشریف فرما تھیں۔
محفل میلاد کی نظامت کے فرائض کشور ندا ہاشمی نے انجام دئیے، کشور ندا ہاشمی کے انداز بیان نے محفل میں ایک سماں باندھے رکھا۔ کشور ندا ہاشمی نے محفل میلاد کا آغاز محفل میلاد میںشریک خواتین کو خوشی آمدید کہتے ہوئے، چند اشعار پڑھتے ہوئے کیا۔
ذکر میلاد ہے عنوان ربیع الاول
 اللہ اللہ سرو سامان ربیع الاول
 تلاوت کلام مجید و فرقان حمید کا شرف محترمہ حمیدہ جاوید نے حاصل کیا۔ محترمہ اناسکینہ نے حمد باری تعالی پیش کرنے کی سعادت حاصل کی محترمہ مہوش نے نعت رسول مقبولؐ پیش کی۔ محترمہ مہوش نے اس موقع پر کہا کہ نبی کریمؐ کی سیرت طیبہ ایک عظیم اور پاکیزہ انقلاب کی کہانی ہے جس کی تاریخ انسانی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ آپؐ نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود صرف تیس سال میں زندگی کے ہر شعبہ میں ایسا عہد آفرین ہمہ گیر و عالمگیر انقلاب بر پا کیا کہ جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبی اور سسکتی انسانیت کی کایا پلٹ گئی۔ جس کی نظیر تاریخ اقوام میں نہیں ملتی۔ محترمہ نورین بانو نے بحضور سرور کائناتؐ نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ محترمہ اناسکینہ نے رسولؐ کی مدینہ آمد پر استقبالیہ کلام پیش کیا۔ دف پر نونیالی طوبیٰ اور ہمنوائی میں دورد شریف کی ٹیم نے ساتھ دیا۔ رحمت دو عالمؐ کے حضور ہدیہ عقیدت محترمہ حمیدہ جاوید نے پیش کیا جبکہ نونیال طوبیٰ نے دف پر ساتھ دیا۔
سیرت النبیؐ کے حوالے سے درس کی سعادت پروفیسر مسز  شہوار نے حاصل کی اس موقع پر کتاب ’’عملیات رحمانی کی تقریب رونمائی بھی کی گئی جس کی مؤلفہ اس تقریب کی مہمان خصوصی ثریا باجی تھیں۔ ثریا باجی نے اس موقع پر کہا یہ متبرک کتاب  میرے پیر و مرشد حضرت راجہ جمال حسین رحمانی کے اووارو و ظائف کا مجموعہ ہے۔ جس میں دین و دنیا کے روحانی مسائل کا حل مختلف اووارو و ظائف کی شکل میں موجود ہے۔ ’’عملیات رحمانی‘‘ اپنے مرشد کے روحانی مشن کو ایک صدقہ جاریہ کے طور پر جاری و ساری کر کے روحانی حاجت مندوں کی مشکل کشائی کا فریضہ بھی انجام دیاہے‘‘۔
اہالیان اسلام پورہ سنت نگر کے لئے باجی ثریا باداموں والی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہر ماہ کے آخری ہفتے کے روز علاقہ کی خواتین بڑی تعداد میں ان کے پاس اپنے روحانی مسائل کی حاجت روی کے لئے لاہور کڈز کیمپس سکول حاضری دیا کرتی ہیں۔
اس سالانہ محفل میلاد کی منتظمین میں کشور ندا ہاشمی، باجی فرحت عثمان اور ڈاکٹر فرحانہ شامل ہیں۔ باجی فرعت عثمان ماہانہ محفل میلاد کا بھر پور اہتمام بھی کرتی ہیں۔
’’عملیات رحمانی‘‘ کی تقریب رونمائی کی خوشی میں باجی ثریا نے کیک کاٹا اس کے بعد حاضرین محفل میں کتاب اور مٹھائی کا تبرک پیش کیا گیا ۔ محفل میلاداپنے عروج پر تھی۔ درود اسلام کی صدائیں ہال میں گونج رہی تھیں۔ درود اسلام کی ڈالیاں اور مناجات مقبول انا سیکنہ نورین نور اور ہمنوائی ٹیم نے پیش کیں۔ ایصال ثواب کی تلاوت کا شرف محترمہ طاہرہ شہزاد کو حاصل ہوا ۔تقریب میں مسز علی بخاری، نگار حامد، فردوس خالد، عارفہ محمود صدیقی، شاہ بانو بھی موجود تھیں۔محفل میلاد کی دعا بانی محفل باجی ثریا باداموں والی نے کرائی۔ اس موقع پر ثناء خوانی کی سعادت حاصل کرنے والی خواتین میں تحائف بھی تقسیم کئے گئے۔ ہمدرد سنٹر کے پی آر او  سید علی بخاری تھے جنہوں نے اس روح پرور روحانی تقریب کا بہت عمدہ اہتمام کیا گیا۔